قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والا مصنف سلمان رشدی کون ہے؟

امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو کے حملے کا نشانہ بننے والا متنازعہ مصنف سلمان رشدی اپنے پانچ دہائیوں پر محیط کیرئیر کے دوران مسلسل دھمکیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔

برطانوی مصنف و ناول نگار 1988 میں شائع ہونے والے اپنے ایک ناول ‘شیطانی آیات کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے نفرت کی علامت بن گیا تھا اور اس کے قتل کے فتوے جاری کر دیئے گئے تھے۔ 75 سالہ رشدی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، اور وہ اس ناول کی اشاعت کے بعد روپوش ہونے پر مجبور ہو گیا۔ برطانوی حکومت نے اسے سب تک پولیس کی حفاظت میں رکھا تھا۔ اس کی متنازعہ چوتھی کتاب کو دنیا کے تمام مسلم ممالک میں ضبط کر لیا گیا تھا لیکن مغربی دنیا کے مصنفین نے اس کتاب پر مسلمانوں کے ردعمل کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیا تھا۔ سلمان رشدی کی چوتھی کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد 1989 میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ناول نگار کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ سلمان رشدی ہندوستان کی برطانیہ سے آزادی سے دو ماہ قبل بمبئی میں پیدا ہوا تھا۔

14سال کی عمر میں، ادے انگلینڈ کے رگبی سکول تعلیم مین بھیج دیا گیا، بعد ازاں اس نے کیمبرج کے معروف کنگز کالج میں تاریخ کے مضمون میں آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ برطانوی شہری بن گیا اور اس نے اپنا مسلم عقیدہ تبدیل کر لیا۔ اس نے بطور ایک اداکار مختصر وقت کے لیے کام کیا۔ پھر اس نے ناول لکھنے کے ساتھ ساتھ ایک ایڈورٹائزنگ کاپی رائٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

چیف الیکشن کمشنر ،اراکین سے مستعفی ہونے کے مطالبے کی قرارداد منظور

1988 میں رشدی کی وہ کتاب شائع ہوئی جس نے اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔ شیطانی آیات نامی متنازعہ کتاب کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے مذہبی توہین پر مبنی قرار دیا تھا۔ اس پر سب سے پہلے انڈیا نے پابندی لگائی تھی۔ پاکستان نے بھی مختلف دیگر مسلم ممالک اور جنوبی افریقہ کی طرح اس پر پابندی عائد کر دی۔ لیکن اس واحیات ناول کو کئی حلقوں میں سراہا گیا۔ دوسری جانب مسلمانوں میں اس کتاب پر ردعمل بڑھتا گیا اور دنیا کے مختلف ممالک میں سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں نے زور پکڑ لیا۔ مسلم ممالک نے اسے مذہب اسلام کی توہین قرار دیا اور کتاب میں موجود مواد پر اعتراض کیا۔ تاہم سلمان رشدی نے توہین مذہب کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔ لیکن اب نیویارک میں ایک تقریب کے دوران سٹیج پر خطاب کرتے ہوئے ایک چاقو بردار نوجوان نے رشدی پر حملہ کردیا جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسکی حالت نازک ہے۔

Back to top button