سوات میں طالبان کی واپسی پر سوئی ہوئی حکومت جاگ اٹھی

خیبر پختونخوا کے علاقوں سوات، مٹہ اور دیر میں تحریک طالبان کے جنگجووں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو سوئی حکومت بھی جاگ اٹھی اور اب ان علاقوں میں پولیس کے دستے تعینات کرنے کے علاوہ فوجی چوکیاں بھی قائم کردی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے عسکریت پسندوں کی واپسی کے بعد ری گروپنگ نے خیبر پختونخوا کے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا اور انہوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے تھے جسکے بعد حکومت کو ہوش آ گئی ہے۔ واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں کی واپسی پر قومی اسمبلی میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعتراف کیا تھس کہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں لوگ عسکریت پسندوں کے کاروائیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات، مٹہ اور دیر میں تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد اب ایلیٹ پولیس اور پاک فوج کے دستے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں اور انکا کنٹرول سنبھال لیا یے۔ فوجی دستوں نے مختلف علاقوں میں سرچ اپریشن کا آغاز بھی کر دیا ہے تاکہ شر پسندوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان کے مسلح دہشت گردوں نے پچھلے دنوں مٹہ سے پاک فوج کے دو اہلکاروں اور ایک ڈی ایس پی کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ اس کارروائی کے بعد سوات اور مٹہ کے مکینوں نے احتجاجی جلوس بھی نکالے تھے اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ طالبان کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری ایکشن لیا جائے۔ چنانچہ اب امن و امان بحال کرنے کے لیے فوجی دستے سوات کے بالائی علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں
جن کا زیادہ تر ایریا جنگلات پر مبنی ہے اور جہاں پر زیادہ تر دہشتگرد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ سوات کے داخلی اور خارجی راستوں پر فوجی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں اور ضلع میں داخل یونے اور باہر جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے خیبرپختونخوا پولیس نے ضلع سوات کے پہاڑی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کیا تھا۔ سینٹرل پولیس آفس کے بیان میں کہا گیا تھا کہ پولیس اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ بہت سارے طالبان عسکریت پسند جو پہلے افغانستان میں موجود تھے، وہ پاکستان واپس آنے کے بعد سوات کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں۔ یہ بیان وزیر اعلیٰ محمود خان کے آبائی شہر تحصیل مٹہ کے ایک دور دراز علاقے میں پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپ پر صوبائی حکومت کی کئی روز کی خاموشی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس جھڑپ میں ڈی ایس پی مٹہ اور دو فوجی جوانوں کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد انہیں جرگے کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔

ابرارالحق کی غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کی ویڈیو وائرل

اس سے قبل 11 اگست کو سوات بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور طالبان عسکریت پسندوں کی واپسی اور ان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات پر پاکستان کے سیکولر اور پختون قوم پرست حلقے کچھ وقت سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان سے علماء اور قبائلی عمائدین کے وفود کابل بھی گئے تھے، جہاں انہوں نے ٹی تی پی کے قائدین سے بست چیت کی تھی لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی معاونت افغان طالبان کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں ٹی ٹی پی کا ایک اہم مطالبہ سابقہ فاٹا کی حیثیت کو بحال کرانے کا ہے، جس پر سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن طالبان کے مطالبات سے زیادہ اب ان کی موجودگی کئی حلقوں میں زیر بحث ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی کی پاکستان واپسی ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومت یہ بات واضح کر چکی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوگا جو خلاف آئین ہو۔حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی گروپ کو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی مسلح  گروپ کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

Back to top button