توشہ خانہ کیس میں عمران کا نااہلی سے بچنا ممکن کیوں نہیں؟

سابق وزیر اعظم عمران خان کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں جو تین کیسز دائر ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک توشہ خانہ تحائف کیس ہے کیونکہ قانون کے مطابق تمام منتخب اراکین اپنے اثاثے ہر سال الیکشن کمیشن میں ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لیکن عمران خان نے بظاہر ایسا نہ کر کے قانون کی واضح خلاف ورزی کی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کیس بھی بالکل ایسا ہی تھا جسکی وجہ سے انہیں وزارت عظمی سے نکال کر تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف دائر کردہ کیسوں کی وجہ سے عمران خان اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اگلے ہفتے سے الیکشن کمیشن میں ان کے خلاف تین اہم ترین کیسز کی سماعت شروع ہو رہی ہے جن میں بیرون ملک سے ممنوعہ فنڈنگ کی وصولی، پارٹی اکاؤنٹس چھپاتے ہوئے غلط سرٹیفکیٹ جمع کروانا اور اپنے سالانہ گوشواروں میں توشہ خانہ کے تحائف کی فروخت سے حاصل کردہ 12 کروڑ روپے کی آمدنی کو ظاہر نہ کرنا شامل ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ان میں سے ہر ایک کیس سنجیدہ اور پیچیدہ نوعیت کا ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ اپنی سنگینی کے اعتبار سے عمران کے لیے کون سا کیس زیادہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئ گے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا کہ کیوں نہ یہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں اور ساتھ ہی یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد وفاقی کابینہ نے پارٹی کی تحلیل کا ڈیکلریشن سپریم کورٹ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب تک اس معاملے پر کوئی مزید پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔دوسری طرف الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عمران نے بطور پی ٹی آئی چیئرمین سال 2008 سے 2013 تک کے لیے اپنی جماعت کی بینک سٹیٹمئنٹس کے ساتھ جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا تھا وہ سٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق غلط ہے۔ اس کی بنیادی پر عمران خان کے مخالفین نے دعویٰ کیا تھا کہ غلط بیانی کرنے اور جھوٹ بولنے پر موصوف صادق اور امین نہیں رہے اور اب وہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار پا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ عمران اور ان کی جماعت نے اپنے 16 بینک اکاؤنٹس چھپائے۔

وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ،فوری معاوضہ فراہم کرنیکا حکم

الیکشن کمیشن کے اس تباہ کن فیصلے کی بنیاد پر دائر ہونے والی نا اہلی کیس کے علاوہ پی ڈی ایم کے ایم این ایز کی جانب سے سپیکر آفس نے ایک اور ریفرنس بھی جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے دوست ممالک سے توشہ خانہ میں حاصل ہونے والے بیش قیمت تحائف کو الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اپنے سالانہ  گوشواروں میں دو سال تک ظاہر نہیں کیا اور یہ تحائف صرف سال 2020-21 کے گوشواروں میں تب ظاہر کیے گئے جب توشہ خانہ سکینڈل اخبارات کی زینت بن گیا اور انفارمیشن کمیشن سے اس کی تفصیلات طلب کی گئی۔ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس میں اثاثے چھپانے پر عمران کی نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔ دوسری جانب عمران خان اور ان کی جماعت نے ان تمام کیسز کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

لیکن قانونی ماہرین نے توشہ خانہ کے تحائف کو گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کو عمران خان کے لیے مشکل ترین کیس قرار دیا ہے۔ عمران خان کے مختلف کیسز میں وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ تکنیکی بات یہ ہے کہ توشہ خانہ والا کیس بہت سنجیدہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے ہر ممبر کو ہر سال الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع کروانے ہوتے ہیں۔ عمران نے دو برس تک اپنے گوشواروں میں توشہ خانہ تحائف کا ذکر نہیں کیا اور بعد میں اس میں تصحیح کروائی جب ایک سکینڈل کھڑا ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس سابق سینیٹر فیصل واوڈا جیسا ہے جنہیں حلف نامے میں غلط حقائق لکھنے پر نااہل کر دیا گیا تھا۔ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت یہ حقیقت ظاہر نہیں کی تھی کہ وہ امریکی شہری ہیں۔ تاہم شاہ خاور کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا ذکر سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تاہم  آئین میں اس طرح نہیں لکھا بلکہ اس شق میں لکھا ہے کہ ایم این اے ہونے کے لیے جو اہلیت ہے اس میں صادق اور امین ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن اس میں نااہلی کا ذکر نہیں ہے۔ نااہلی کا ذکر آرٹیکل 63 میں ہے جہاں صادق اور امین ہونے کا ذکر نہیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ 2017 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے بیٹے کی کمپنی ایف زیڈ ای سے قابل ادائیگی رقم ظاہر نہ کرنے پر نااہل کر چکی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق نواز شریف 2013 میں دائر کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ایف زیڈ ای نامی کمپنی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کر کے صادق اور امین نہیں رہے۔ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی قومی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور وہ وزارت عظمیٰ سے بھی نا اہل ہو گئے تھے۔

تاہم شاہ خاور کا کہنا تھا کہ نااہلی کے لیے ضروری ہے کہ کوئی قانون کی عدالت یہ قرار دے کہ فلاں رکن اسمبلی صادق اور امین نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن قانون کی عدالت نہیں ہے۔دوسری طرف سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق توشہ خانہ کے تحفے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے بعد عمران سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوائے گئے ریفرنس میں نااہلی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کے خلاف جو تین کیسز الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک توشہ خانہ تحائف کیس ہے کیونکہ قانون کے مطابق ایم این ایز اپنے تمام اثاثے ہر سال الیکشن کمیشن میں ظاہر کرنے کے پابند ہیں اور عمران نے بظاہر ایسا نہ کر کے قانون کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔

Back to top button