اے آر وائے نیوز کس طرح مکافات عمل کا شکار ہوا؟



سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں تحریک انصاف کا مائوتھ پیس قرار دئیے جانے والے اے آر وائے نیوز چینل نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کا فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے جس طریقے سے صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیریں اور فوج پر کھلے حملے کیے اس کا منطقی نتیجہ بالآخر نیوز چینل کی بندش کی صورت میں سامنے آ گیا ہے جس کی ذمہ داری سراسر چینل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے اور کوئی بھی صحافتی تنظیم اے آر وائے کی خاطر کھڑی ہونے پر تیار نہیں۔

عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کی جانب سے ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت کے لئے اکسانے کے الزام میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اے آر وائی نیوز کا آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیا ہے اور ملک بھر میں اس کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل وزارت داخلہ کی جانب سے چینل کی سیکیورٹی کلیئرنس بھی واپس لے لی گئی تھی، جس سے ٹی وی کی مستقل بندش کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ ‘اے آر وائے کمیونکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو جاری کیا گیا این او سی ایجنسیوں کی جانب سے منفی اطلاعات کی بنیاد پر فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ پیمرا کی جانب سے یہ فیصلہ چیئرمین سلیم کی زیر صدارت اجلاس میں لیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ آر وائے نیوز کا آپریٹنگ لائسنس پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور چینل کی انتظامیہ نے اس کی تجدید کے لئے درخواست دائر کر رکھی تھی۔ لہذا چونکہ اس مرتبہ ایجنسیوں کی جانب سے چینل کو سیکیورٹی کلیئرنس نہیں ملی، اسلیے اس کا این او سی واپس لے لیا گیا ہے، یوں اب اے آر وائے کی جانب سے لائسنس کی مزید 15 سال کے لیے تجدید کی درخواست مسترد ہو گئی یے۔ اب پیمرا کی جانب سے ملک بھر میں اے آر وائے کی نشریات بند کروانے کے لیے کوئی قانونی بندش باقی نہیں رہی۔ اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ نے اے آر وائے انتظامیہ کی درخواست پر پیمرا کو چینل کی نشریات بحال کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اسکا لائسنس منسوخ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستانی میڈیا میں یکطرفہ رپورٹنگ، گمراہ کن تجزیوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی فیک نیوز کی بھرمار نظر آئی ہے جس کا سہرا بنیادی طور پر اے آر وائی نیوز کے سر ہی بندھتا ہے۔ اگر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز کی بات کریں تو دو نام نمایاں ہیں، جیو نیوز نیٹ ورک اور اے آر وائی نیوز۔ مگر انہی دونوں اداروں پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی کا اظہار ان کی خبروں اور تجزیوں میں اس قدر واضح ہے کہ درست معلومات تک رسائی ایک چیلنج ہے۔ آپ کسی بھی عوامی مقام پر چلے جائیں اور لوگوں سے پوچھیں کہ وہ کون سا چینل دیکھتے ہیں تو اکثریت انہی دو اداروں میں تقسیم نظر آئے گی۔ اور پھر شاید آپ کو یہ سوال کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ وہ کس سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔ آپ ان کی سیاسی وابستگی کا اندازہ خود باآسانی لگا سکتے ہیں۔ لیکن اس ماحول میں اے آر وائے عمران خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فوج کے ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی میں اتنا آگے نکل گیا کہ لائیو نشریات میں فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت کے لئے اکسانے کی ترغیب دے ڈالی۔ اسی وجہ سے چینل کا لائسنس منسوخ ہونے کے بعد پاکستان کی کوئی بھی بڑی صحافتی تنظیم اے آر وائے کے ساتھ کھڑی ہوتی نظر نہیں آتی۔

دوسری جانب عمران خان کے دست راست سمجھے جانے والے اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال نے پیمرا کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسلم لیگ ن کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ لیکن ناقدین سلمان اقبال کے اس موقف کو ایک لطیفہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ پورا پاکستان جانتا ہے کہ اس نے نے فوج کے ادارے سے پنگا لیا تھا تھا جس کا نتیجہ سامنے آ چکا ہے۔ اے آر وائی نیوز نیٹ ورک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان اقبال نے یہ بھونڈا دعویٰ بھی کیا ہے کہ ہمارا ادارہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور اسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی صحافت کی جنگ عدالتوں میں لڑیں گے۔‘‘

سلمان اقبال نے یہ لایعنی موقف بھی اپنایا کہ اگر شہباز گل نے بطور تحریک انصاف کے ترجمان اور عمران کے چیف آف اسٹاف اے آر وائے پر کوئی بات کہی تو اس میں ہمارے چینل کا کیا قصور ہے؟ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بجائے حکومت کو تختہ مشق بناتے ہوئے سلمان اقبال نے کہا کہ ‘نواز لیگ کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے۔ سابقہ دور میں بھی ہمارے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ سلمان اقبال نے کہا کہ فوج سے ہمارے اچھے تعلقات تھے اور ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ میرا چینل فوج نے بند کروایا ہے، کیونکہ ایف آئی آر میں واضح لکھا ہے کہ حکومت پاکستان نے مقدمہ درج کرایا ہے۔ سلمان اقبال نے کہا کہ جو پہلے جیو کی ساتھ ہوا، آج وہ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، اور کل کسی اور کیساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر سب خاموش رہیں گے تو کام کیسے چلے گا اس لیے ٹی وی چینلز اور صحافتی تنظیموں کے مابین اتحاد ہونا چاہیے۔ لیکن یہ باتیں کرتے ہوئے سلمان اقبال شاہد بھول گئے کہ جب جیو پر پابندی عائد ہوئی تھی تو اس عمل کی سب سے زیادہ حمایت اے آر وائے نیوز نے کی تھی اور کئی ہفتوں تک جیو کے خلاف سلمان اقبال کے ٹی وی چینل پر زہریلی مہم چلائی جاتی رہی۔ لہذا ناقدین کہتے ہیں کہ آج جو اے آر وائے کے ساتھ ہو رہا ہے وہ قانون قدرت کے تحت مکافات عمل کے سوا اور کچھ نہیں۔

Back to top button