بجلی کے آئی پی پیز معاہدوں پر تنقید کرنے والے غلط کیوں ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ماضی میں بجلی پیدا کرنے کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو غلط قرار دینے والے خود غلط ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں اتنی خوفناک لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی کہ پوری معیشت ہی بیٹھنے والی تھی لہازا ان مہنگے بجلی کے معاہدوں کے بغیر اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا تھا۔ اپنے تازہ تجزیے میں جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں افغان وار کی وجہ سے اربوں ڈالر آئے‘ یہ پیسہ ٹریکل ڈاؤن ہو کر عوام تک پہنچ گیا‘ اس زمانے میں موبائل فون کمپنیاں‘ رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ایکسپورٹس میں بھی اضافہ ہوا جس سے ملک میں پیسے کی ریل پیل ہو گئی‘ شوکت عزیز نے آ کر امپورٹس کھول دیں‘ اس کے نتیجے میں ٹیلی ویژن‘ اے سی اور گاڑیوں کی بھرمار ہو گئی‘ پورے ملک میں نئے گھر‘ پلازے اور شاپنگ سینٹرز بھی بنے‘ اس کے نتیجے میں بجلی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو گیا جب کہ ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کا نظام پرانا اور چھوٹا تھا لہٰذا ملک میں لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی‘ عوام جذباتی اور جلد باز ہیں‘ یہ سڑکوں پر آ گئے‘ حکومت پریشان ہو گئی اور یہ افراتفری میں لانگ ٹرم کے بجائے شارٹ ٹرم سلوشن کی طرف چلی گئی‘ اس نے آئی پی پیز کی مدد سے فرنس آئل‘ ایل این جی اور درآمدی کوئلے کے پلانٹس لگا دیے‘ یہ ایک فوری حل تھا جس سے بجلی کی کمی تو پوری ہو گئی لیکن بجلی کی قیمت بہت ذیادہ بڑھ گئی۔
سہیل وڑائچ کی عمران کو رہا کر کے نظر بندی میں مزاکرات کی تجویز
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں چین نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کی اور کئی چائنیز کمپنیوں نے بجلی پیدا کرنے کے معاہدے کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ چین نے پاکستان کی مدد کیوں کی۔ اس کی دو وجوہات تھیں‘ دراصل نائین الیون کے بعد امریکا نے پاکستان کو دوسری بار اکیلا چھوڑ دیا تھا‘ ہمارے پاس چین کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا‘ چین کے پاس یہ ٹیکنالوجی سستی بھی تھی اور فوری دستیاب بھی تھی‘ تیسرا بینک آف چائنا نے کم ریٹ پر قرض کی پیش کش کر دی چناں چہ ہماری کمپنیوں اور حکومت نے دھڑا دھڑ پاور پلانٹس لگائے اور ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر لی‘ پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی 2008 سے 2018 تک پاور سیکٹر میں جوس نظر آیا‘ انھوں نے بھی پاور پلانٹس لگا لیے‘ اب ان پلانٹس کے لیے قرضہ پاکستانی بینکوں اور بینک آف چائنا سے لیا جا رہا تھا اور ان دونوں نے حکومت سے گارنٹی مانگ لی۔
جاوید چوہدری کے مطابق حکومت کے پاس دو آپشن تھے‘ پہلی یہ کہ وہ گارنٹی نہ دیتی‘ اس طرح پاور پلانٹس نہ لگتے اور یوں لوڈ شیڈنگ میں اور بھی اضافہ ہو جاتا اور عوام حکومت کو سڑکوں پر لٹا کر پھینٹا لگا دیتے‘ دوسری آپشن یہ تھی کہ حکومت پاکستان بینک گارنٹی دے دیتی‘ لہازا حکومت نے دوسرا آپشن لیا اور یوں بحران ٹل گیا لیکن اب ایک نیا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اب ایشو یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی کی ضرورت 43 ہزار میگاواٹ ہے‘ پاورپلانٹس کی ٹوٹل کیپسٹی 45 ہزار میگا واٹ ہے لیکن واپڈا ان سے 20 سے 22 ہزار میگاواٹ لے رہا ہے اور ہمیں باقی 20 یا 22 ہزار میگاواٹ کی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے‘ ہم عام زبان میں اسے کیپسٹی چارجز کہہ لیتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے واپڈا بجلی کم کیوں لیتا ہے؟ اس کی وجہ چوری اور انڈسٹری کی بندش ہے‘ انڈسٹری چل نہیں رہی لہٰذا بجلی کی کھپت کم ہو گئی ہے‘ دوسری طرف 20 فیصد بجلی چوری ہو جاتی ہے‘ واپڈا نے ان دونوں ایشوز کا یہ حل نکالا یہ لوڈ شیڈنگ کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک طرف بجلی کے بل بڑھ رہے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ فرنس آئل اور کوئلے کے ریٹس بڑھ گئے ہیں‘ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مالیت بھی کم ہو گئی ہے اور ہمارے پاس ڈالرز بھی ختم ہو گئے ہیں اور آئی ایم ایف نے بجلی پر سبسڈی دینے سے بھی انکار کر دیا‘ دوسری طرف ہم نے بینک آف چائنا کی قسطیں دینی ہیں لہٰذا اب ہمارے پاس دو آپشن ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پہلی آپشن یہ ہے کہ ہم آئی پی پیز سے معاہدے توڑ دیں جس کے بعد یہ عالمی عدالتوں میں چلے جائیں گے اور وہاں پاکستان کو اتنے جرمانے ہو جائیں گے جو ہم خود کو بیچ کر بھی پورے نہیں کر سکیں گے اور اس کے ساتھ ہی ملک میں بجلی بھی مکمل بند ہو جائے گی‘ کیا قوم اس کے لیے تیار ہے؟ دوسرا حل یہنہے کہ ہم کسی نہ کسی طرح انڈسٹری چلائیں‘ اس سے ساری بجلی استعمال ہو گی اور کیپسٹی چارجز نیچے آ جائیں گے‘ ہم اس کے ساتھ ساتھ بجلی چوری اور لائین لاسز کم کریں اور ایک سالڈ انرجی پالیسی بھی بنائیں جسے کوئی حکومت نہ چھیڑے‘ یہ مسئلہ پھر حل ہو گا‘ دھرنے بہرحال اس مسئلے کا حل نہیں ہیں‘ ہم نے اب صرف ایک فیصلہ کرنا ہے ہم بجلی کے بغیر زندگی گزاریں یا پھر مہنگی بجلی خریدیں‘ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اگرکسی کے پاس ہے تو وہ سامنے آ جائے۔
