عمران کی عوامی مقبولیت انہیں جیل سے کیوں نہیں نکلوا پائی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ اب تو یوتھیوں کے یہ دعوے سنتے ہوئے جمائیاں آنے لگتی ہیں کہ پی ٹی آئی ووٹ بینک کے اعتبار سے پاکستان کی سب سے بڑی جماعت اور عمران خان یہاں کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔انکا کہنا یے کہ عمران خان دو برس سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں لہذا سوال یہ ہے کہ ان کے مقبول ترین لیڈر ہونے سے کیا فرق پڑا ہے؟
بی بی سی اردو کے لیے اپنی تحریر میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ بڑا تو لاہوری بابو بینڈ کی جان سمجھا جانے والا پیتل کا وہ چمکیلا باجا بھی ہے جو بینڈ ماسٹر اپنے اردگرد لپیٹ کر سڑک پر سب سے آگے چلتا ہے۔ تعداد تو ہندوستانیوں کی بھی 40 کروڑ تھی مگر سوا لاکھ گورے انگریزوں نے 90 برس تک ان پر حکومت کی، حتیٰ کہ 1857 کی تحریکِ آزادی بھی ان کا اگلے 80 برس تک کچھ نہ بگاڑ سکی۔ ان تمام مثالوں میں ایک شے مشترک ہے یعنی تنظیم اور اسکا چابکدست استعمال۔
وسعت اللہ خان سوال کرتے ہیں کہ کوئی یہ بھی تو بتائے کہ پی ٹی آئی سب سے بڑی اور سب سے مقبول جماعت ہونے کے علاوہ منظم کتنی ہے؟ اس میں ووٹ بینک یا لیڈر کی مقبولیت کو ایک ٹھوس سیاسی طاقت میں بدلنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ اگر اس کی سٹریٹ پاور موجود ہے اور موئثر ہے تو وہ اس کی بنیاد پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنے مطالبات منوانے پر کتنا مجبور کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی سے زیادہ منظم اور مقبول جماعت تو ایک زمانے تک ذلفی بھٹو اور بے نظیر کی پیپلز پارٹی تھی۔ نواز شریف کی مسلم لیگ ن بھی اس سے ذیادہ مقبول تھی، ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی بھی ایک زمانے کی مقبول ترین جماعت تھی۔
لیکن وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے برعکس یہ جماعتیں اپنی جدوجہد کے زمانوں میں دیگر سیاسی قوتوں کو کم ازکم یک نکاتی ایجنڈے تلے عارضی طور ساتھ لے کر چلنے میں کامیاب رہیں۔
پھر بھی اتنی طویل جدوجہد کے باوجود انھیں سمجھوتے کرنا پڑے، اپنے وقت کی یہ مضبوط ترین سیاسی جماعتیں مصلحت کے تحت اتنا پیچھے ہٹیں کہ پاکستان کو تیتر بٹیر والے ہائبرڈ نظام کی چوکھٹ تک لانے میں بھی سہولت کار بن گئیں۔
عمران خان نے تو اپنا سیاسی سفر ہی بطور ہائبرڈ سہولت کار پتلے کے طور پر شروع کیا تھا جسے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو کاؤنٹر کرنے کے لیے کھڑا کیا گیا تھا۔ اسی منصوبے کے تحت عمران کو 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس سسٹم بٹھا کر کامیاب کروایا گیا اور پھر وزارت عظمی پر فائز کر دیا گیا۔ لیکن غلطی یہ ہوئی کہ خان نے پراجیکٹ انصاف کے جنرل مینیجر کے طور پر کام کرنے کی بجائے خود کو مین انویسٹر کے ہم پلہ سمجھتے ہوئے مینیجنگ ڈائریکٹر کی سیٹ سنبھالنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انویسٹر نے جنرل مینجر کو برطرف کر کے پرانے سہولت کاروں کو نوکری پر بحال کر دیا۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اس شارٹ کٹ سفر کے سرور میں عمران خان کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ جنھوں نے اسے ناز و نعم کے ساتھ ہاتھوں پر اٹھا رکھا ہے وہی اسے اچانک زمین پر بھی پٹخ سکتے ہیں۔ جب قالین خان کے پیروں تلے سے کھچ گیا تب انہیں خیال آیا کہ اچھے وقت میں پارٹی کی تھوڑی بہت تنظیم سازی بھی کر لیتے تو آج ہتھ پنجہ کرنے میں کچھ آسانی ہو جاتی۔سوشل میڈیا کی طاقت آپ کو ووٹ تو ڈلوا سکتی ہے مگر سٹریٹ پاور کے لیے جو منظم سیاسی انفنٹری درکار ہے اس کا متبادل آج بھی ’کی بورڈ وارئیرز‘ نہیں ہیں۔
یہ بات بھی بہت عرصہ موضوعِ بحث رہے گی کہ پی ٹی آئی کو 2024 میں خیبر پختونخوا، پنجاب اور کراچی میں جو ووٹ ملے وہ خان صاحب کی ساڑھے تین برس کی پالیسیوں کی حمایت میں ڈالے گے یا پھر انھیں تیزی سے وزارت عظمی سے نکالنے کے ردِعمل میں اٹھنے والی عوامی ہمدردی کا نتیجہ تھے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران کے حق میں پڑنے والے ووٹ سیاست پر فوجی تسلط کے خلاف انتخابی بغاوت کا اظہار تھے جسکا نقطہ عروج 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ہونے والے حملے تھے۔ ان حملوں کی وجہ جو بھی ہو لیکن 9 مئی کے بعد ہونے والے کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں رفتہ رفتہ انتخابی عمل، پارلیمانی نظام اور عدلیہ بھی آ گئی۔ وہ دن اور آج کا دن پی ٹی آئی نے ایک مقبول، ذمہ دار اور عوامی امنگوں کی آئینہ دار جماعت بن کے اپنی سودے بازی کی طاقت کو ٹھوس شکل دینے کا ہر موقع ضائع کرنے کا کوئی بھی موقع نہیں گنوایا۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ کوئی بھی قابل ذکر سیاسی جماعت، گروہ یا تنظیم کسی ایسے یک رخی ایجنڈے پر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہو کر آخر کیوں مار کھائے جسکا پہلا اور آخری نکتہ ہی عمران خان کی رہائی ہو، خصوصا جب وہ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں جیل میں قید ہیں۔ اگر تحریک کا بنیادی ایجنڈا آئین کی اوریجنل شکل میں بحالی، اور جمہوریت اور عدلیہ کی راہ میں رکاوٹ بننے والے قوانین کی منسوخی ہوتا تو شاید قومی سطح پر ایک مشترکہ بین الطبقاتی و جماعتی سٹریٹ پاور تشکیل دی جا سکتی تھی، لیکن یہ ٹرین بھی چھوٹ گئی۔
اقتدار کے متمنی عمران خان کی جان خطرے میں کیوں ہے؟
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ہدف کے راستے میں دیوار آ جائے تو اسے ٹکر مارنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ دیوار کے پار پہنچنے کے لیے متبادل راستے بھی سوچنے پڑتے ہیں اور ان لوگوں سے بھی مدد لینا پڑ جاتی ہے جنھیں آپ عام حالات میں شاید منہ لگانا بھی پسند نہ کریں۔ عمران خان کو دورانِ اسیری خود اپنی جماعت میں ایسے پانچ آدمی نہ مل سکے جن پر وہ اتنا اعتماد کر لیں کہ بطور کور کمیٹی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی کا کام تب تک کے لیے سونپ دیں جب تک وہ جیل میں ہیں۔ ذرا سوچیے کہ افریقن نیشنل کانگریس کو اپنے طویل اور کٹھن سیاسی سفر میں ہر چھوٹے بڑے فیصلے کے لیے رابن آئی لینڈ میں بند نیلسن منڈیلا سے رہنمائی لینا پڑتی اور ان سے ملاقات کے لیے ہر بار گورے جیلروں کی منت کرنا پڑتی تو جنوبی افریقہ میں شاید آج بھی افریقن نیشنل کانگریس سڑک پر ہوتی۔
جیل میں بمد نیلسن منڈیلا نے بس یہ کہا کہ میں بحیثیت قیدی آپ جتنا باخبر نہیں رہ سکتا چنانچہ زمینی حقائق کے مطابق آپ جو بھی فیصلے کریں ان کے سبب بس یہ خیال رکھنا کہ مزاحمت دم نہ توڑے، پھر دنیا نے دیکھا کہ جب منڈیلا 27 برس بعد جیل سے باہر آیا تو اس کی پارٹی یکجا و متحرک تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جنوبی افریقہ کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے لیے ایسا لیڈر اوپر والے کی رحمت ہوتا ہے جو خود کو عقلِ کل سمجھنے کی بجائے خود کو تاریخ و سیاست کا مسلسل طالبِ علم سمجھے۔ نیلسن منڈیلا ایسا ہی لیڈر تھا۔
لیکن پاکستان میں مشکل یہ ہے کہ بیشتر قائدین سوائے اپنی ذات کے کچھ اور نہ پڑھتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں، چنانچہ خود کو سیاسی جماعت سمجھنے والے سیاسی قبائل کی شکل میں نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ اس سمے اگر امید کی کوئی کرن آسمان پر ہے تو بس یہ کہ جن کے ہاتھ میں اس وقت ملک کی باگ ڈور ہے وہ بھی ماشااللہ ’عقلِ کل‘ ہیں۔
