عمران کے حامیوں نے پاکستان کو گالی دینا فیشن کیوں بنا لیا؟

عمران خان سے ہمدردی رکھنے والے انصافیے شخصیت پرستی میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ وہ قیدی نمبر 804 کی خاطر پاکستان سے نفرت کا اظہار کرنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے انصافیوں میں اکتاہٹ، بیزاری، مایوسی اور ملک سے نفرت کا زہر اس حد تک گھول دیا ہے کہ جس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ ماہ یوم آزادی کے موقع پر میں نے بچوں کے لیے گھر پر جھنڈا لگانا تھا۔ چنانچہ ایک جاننے والے سے بات کی تو موصوف نے فرمایا کہ اگر تو پی ٹی آئی کا جھنڈا لگوانا ہے تو مفت لگا دوں گا۔میں نے اسے بتایا کہ مجھے 14 اگست کی مناسبت سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اپنے گھر کی چھت پر آویزاں کرنا ہے۔ اس پر خان کا پروانہ بولا، اگر پاکستان کا جھنڈا لگوانا ہے تو کسی اور سے لگوا لیں۔ میں تو صرف پی ٹی آئی کا جھنڈا لگا سکتا ہوں۔
بلال غوری کے مطابق افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ سیاسی بیانیے کی آڑ میں پاکستانیت کو جڑ سے اُکھاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ قومی علامتیں جو ہمارے اتحاد و یکجہتی اور یگانگت کا ذریعہ تھیں ،انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان میں مسائل نہیں ہیں۔ یقیناً ریاستی ناکامیاں اس رویے اور مزاج کو فروغ دے رہی ہیں۔ حکومتیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں لیکن کس ملک میں مثالی نظام ہے ؟ہر جگہ انواع و اقسام کے مسائل موجود ہیں۔ وہاں لوگ پالیسیاں بنانیوالوں پر تنقید کرتے ہیں۔ حکومتوں کیخلاف بات کرتے ہیں لیکن اپنے ملک اور قوم سے متعلق کسی قسم کی منفی بات گوارہ نہیں کرتے۔ لیکن افسوس کہ یہاں عمران خان کے حامیوں کی جانب سے اپنے وطن کو گالی دینا فیشن بن گیا ہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ اپنی سرزمین سے لگائو فطری جذبہ ہے۔انسان جہاں جنم لیتا ہے،اس مٹی کی خوشبو ہمیشہ لبھاتی ہے۔ بعض اوقات ہجرت کرکے کسی اور دھرتی کا رُخ کرنا پڑتا ہے لیکن اسکے باوجود جذبہ حب الوطنی کم نہیں ہوتا۔ یمن سے لیبیا اور عراق سے افغانستان تک کئی تباہ حال ممالک جو بدترین حالات کا سامنا کررہے ہیں، وہاں خانہ جنگی اورغذائی اجناس کی قلت جیسے مسائل نے پورا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے حکمرانوں پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن ملک اور قوم کو برا بھلا نہیں کہتے، لیکن پاکستان میں انوکھا رجحان چل پڑا ہے۔ یہاں لوگ حکومت ہی نہیں بلکہ اپنے ملک اور قوم کو بھی برا بھلا کہتے ہیں۔
عمران خان پر فدا حسن نثار جیسے دانشور پاکستان کی نفرت میں فرماتے ہیں کہ دنیا میں پاکستانیوں سے گھٹیا اور نیچ قوم کوئی نہیں۔ لہذا اس معاشرے کو تیزاب سے غسل دینے کی ضرورت ہے۔ہمارے بعض رہنمائوں کا خیال ہے کہ خان حکومت گرانے سے تو بہتر تھا پاکستان پر ایٹم بم گرادیا جاتا۔ عمران خان کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے پی ٹی آئی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک منفی سوچ پروان چڑھائی ہے۔ نوجوانوں کے اذہان و قلوب میں ایسا زہر بھر دیا گیا ہے کہ اب انہیں پاکستان بارے ہر اچھی خبر بھی بری لگتی ہے۔ انڈیا کیخلاف جنگ کے دوران خان کے حامیوں نے محض اس لئے پاکستان کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہیں حاکم وقت پسند نہیں۔ لیکن تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود افواج پاکستان کو اس جنگ میں شان دار کامیابی حاصل ہوئی جب کہ بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انصافیوں نے اس کامیابی پر بطور پاکستانی فخر کرنے کی بجائے تاسف کا اظہار کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے یہ کامیابی بیانیے کے زور پر حاصل کی گئی ہو۔
بلال غوری کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف پاک فوج کے جوابی آپریشن بنیان مرصوص کی بدولت پاکستان کو پوری دنیا میں ایک نئی پہچان ملی اور اس کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوا۔ اب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے یہ اسی کامیابی کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں ہم کاسہ گدائی لیکر پوری دنیا میں گھومتے پھرتے تھے۔ہمیں سعودی عرب سے اُدھار تیل لینے کیلئے نجانے کتنی تگ ودو کرنا پڑتی تھی لیکن اب پورے سعودی عرب کی حفاظت کی ذمہ داری ہمیں سونپ دی گئی ہے۔ ہمارے متحارب ممالک کےایوانوں پر لرزہ طاری ہے۔
عالمی تجزیہ کار بتا رہے ہیں کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے جارہی ہے مگر وطن عزیز میں ایک ایسی نسل بھی ہے جسکے دل میں یہ خوشخبری کسی تیر کی مانند پیوست ہوئے جاتی ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ یہ کوئی تاریخ ساز لمحہ نہیں بلکہ فریب کاری ہے، انکا کہنا یے کہ پہلے بھی تو اسلامی ممالک کی فوج بنانے کا اعلان ہوا تھا۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اس فوج کا سپہ سالار بنایا گیا تھا مگر عملاً کچھ نہیں ہوا۔جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص کو ملازمت دینے اور ایک ملک سے دفاعی معاہدہ کرنے میں کیا فرق ہوتا ہے تو وہ پہلو بدل کر کہتے ہیں اچھا اگر ایسی بات ہے تو سب سے پہلے ہمارے مرشد نے اس سمت میں پیش قدمی کی تھی۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور اسی لیے امریکہ نے سازش کے ذریعے اسے راستے سے ہٹا دیا۔ اب ان لایعنی و بے معنی باتوں کا کیا جواب دیا جائے۔ افسوس کہ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے اپنے وطن کو گالی دینا فیشن بن گیا ہے۔
