خواتین کیلئے سجنا سنورنا مزید سستا ہونے کا امکان کیوں؟

بجٹ کے بعد خواتین کیلئے سجنا سنورنا مزید سستا اور آسان ہونے کا امکان ہے، آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں بیوٹی اور پرسنل کیئر انڈسٹری کیلئے اہم ریلیف اقدامات متوقع ہیں، جن کے تحت بیوٹی پارلرز، اسکن کلینکس، ہیلتھ کلبز اور ان سے وابستہ سامان و مشینری پر عائد مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو نہ صرف بیوٹی انڈسٹری کو فائدہ پہنچے گا بلکہ صارفین خصوصاً خواتین کیلئے بھی بیوٹی مصنوعات اور خدمات نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع کے مطابق کسٹمز کے نوٹیفکیشن نمبر 1151 اور 1152 کے تحت عائد ڈیوٹیوں میں مزید 2 سے 5 فیصد تک کمی پر غور کیا جا رہا ہےتاکہ بعض درآمدی اشیا پر ٹیکس بوجھ کم کرکے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور متعلقہ شعبوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق درآمد شدہ میک اپ مصنوعات پر اس وقت 44 فیصد ڈیوٹی عائد ہے، جسے کم کرکے 40 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح بیوٹی پارلرز میں استعمال ہونے والے خام مال پر بھی ڈیوٹی 44 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بجٹ تجاویز میں سن بلاک اور سن اسکرین جیسی جلد کی حفاظت سے متعلق مصنوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات پر موجود 44 فیصد ڈیوٹی کو کم کرکے 40 فیصد کیا جا سکتا ہے، جس سے اسکن کیئر انڈسٹری اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔بیوٹی پارلرز اور سیلونز میں استعمال ہونے والے ہیئر کیئر مصنوعات اور خام مال پر بھی ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اگر اس تجویز کو منظور کر لیا گیا تو بالوں کی نگہداشت سے متعلق درآمدی اشیا نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہو سکیں گی۔

مردانہ بیوٹی سیلونز کیلئے بھی بجٹ میں ریلیف کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق شیونگ کریم، آفٹر شیو لوشن اور دیگر متعلقہ مصنوعات پر موجود 40 فیصد ڈیوٹی کم کرکے 35 فیصد تک لائی جا سکتی ہے، جس سے مردوں کی گرومنگ انڈسٹری کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ماہرین کے مطابق اگر حکومت ان تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنا لیتی ہے تو اس سے بیوٹی، کاسمیٹکس اور اسکن کیئر انڈسٹری میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلرز، اسکن کلینکس اور ہیلتھ کلبز کے آپریشنل اخراجات میں بھی کمی آسکتی ہے، جس کا مثبت اثر صارفین تک منتقل ہونے کا امکان ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام تجاویز ابھی حتمی منظوری کی منتظر ہیں اور ان کا باضابطہ اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی متوقع ہے۔ اس لیے ٹیکسوں میں کمی کے یہ امکانات فی الحال بجٹ تجاویز کا حصہ ہیں، جن کی حتمی منظوری حکومت اور پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔مبصرین کے مطابق بجٹ میں اگر ڈیوٹی میں مجوزہ کمی نافذ ہو جاتی ہے تو پاکستان میں بیوٹی اور پرسنل کیئر مصنوعات کی قیمتوں میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ اس سے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کیلئے بھی گرومنگ مصنوعات زیادہ قابلِ رسائی ہو جائیں گی، جبکہ بیوٹی پارلرز اور اسکن کلینکس کو جدید درآمدی مصنوعات اور مشینری نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہو سکے گی۔

Back to top button