نیکٹا کے پہلے فوجی سربراہ فیصل نصیر کی تعیناتی اتنی اہم کیوں؟

میجر جنرل فیصل نصیر کی بطور نیشنل کوآرڈی نیٹر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی تعیناتی نے ملک میں انسداد دہشت گردی کے قومی نظام اور سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وفاقی حکومت کی منظوری سے تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر ہونے والی یہ تعیناتی اس لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ نیکٹا کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ اس کی سربراہی ایک حاضر سروس فوجی افسر کے پاس آئی ہے۔ نیکٹا کا بنیادی مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی تشکیل دینا، مختلف سکیورٹی و انٹیلیجنس اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا، ایکشن پلان تیار کرنا اور حکومت کو خطرات اور پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے۔

نیکٹا 2008 میں قائم کیا گیا تھا اور ماضی میں اس کی سربراہی زیادہ تر پولیس سروس کے افسران کرتے رہے ہیں۔ ادارے کو 2014 کے آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد تشکیل دیے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی میں بھی اہم ذمہ داری دی گئی۔ تاہم ناقدین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ نیکٹا ایک مؤثر عملی ادارے کے بجائے زیادہ تر تحقیقی اور رابطہ کاری کے ادارے تک محدود ہو کر رہ گیا۔

نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ خالد فاروق کے مطابق ادارے کا عملی اثر ماضی میں زیادہ نمایاں نہیں رہا اور وہ دیگر انٹیلیجنس اداروں سے ملنے والی معلومات پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا ہے۔ ان کے خیال میں فیصل نصیر کی تعیناتی سے نیکٹا کو زیادہ وسائل، بہتر مہارت اور مضبوط قیادت ملنے کا امکان ہے اور شاید ایک بااثر افسر کی موجودگی ادارے کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکے۔ تاہم ان کے مطابق یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیکٹا کی کارکردگی ماضی میں غیرمعمولی نہیں رہی اور ادارے کو ملکیتی احساس اور واضح اختیار کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

نیکٹا کے بانی سربراہ طارق پرویز اس تعیناتی کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق نیکٹا کا تصور ایک ایسے ادارے کے طور پر کیا گیا تھا جہاں آئی ایس آئی، آئی بی اور انسداد دہشت گردی کے اداروں سے ملنے والی معلومات کو یکجا کرکے حکومت اور پالیسی سازوں کو ایک آزادانہ اور بامقصد خطرے کی تشخیص فراہم کی جائے۔ ان کے خیال میں اگر ادارے کی سربراہی ایک حاضر سروس فوجی افسر کے پاس ہوگی تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ کیا نیکٹا اپنی آزادانہ تشخیص فراہم کرنے کے قابل رہے گا یا اس پر عسکری سوچ کا غلبہ ہوگا۔

طارق پرویز نے سول ملٹری توازن کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق نیکٹا کو ایک متوازی خفیہ یا عملی کارروائی کرنے والے ادارے کے طور پر نہیں بلکہ قومی سطح پر معلومات کو مربوط کرنے اور پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرنا تھا۔ ان کے نزدیک محض وسائل، اختیارات اور دفاتر میں اضافہ اس وقت تک ادارے کو مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا جب تک اس کے بنیادی کردار اور آزادی کو برقرار نہ رکھا جائے۔

دوسری جانب سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل خالد نعیم لودھی ان خدشات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق انسداد دہشت گردی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں فوج کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے، اس لیے انٹیلیجنس اور سکیورٹی کے تجربے رکھنے والے فوجی افسر کی نیکٹا میں تعیناتی غیرمعمولی نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ممکن ہے حکومت نے نیکٹا کو ایک غیرمؤثر ادارے کے تاثر سے نکال کر زیادہ مضبوط اور فعال بنانے کے لیے فیصل نصیر جیسے تجربہ کار افسر کا انتخاب کیا ہو۔

صحافی و تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق بظاہر اس تعیناتی کا مقصد نیکٹا کو دوبارہ فعال بنانا محسوس ہوتا ہے، تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ ادارہ عملی طور پر کتنی جلدی مؤثر بنتا ہے۔ ان کے مطابق نیکٹا کو درپیش انتظامی اور ادارہ جاتی رکاوٹیں دور کرنا، مناسب بجٹ اور افرادی قوت فراہم کرنا اور اس کے قانونی دائرہ کار کو واضح کرنا اس تعیناتی سے زیادہ اہم عوامل ہوں گے۔

قانونی پہلو بھی اس معاملے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ماجد نظامی کے مطابق نیکٹا ایکٹ 2013 میں ادارے کی قیادت کے لیے گریڈ 22 یا مساوی عہدے کے افسر کا ذکر کیا گیا ہے اور قیادت کے لیے بیوروکریسی یا پولیس سروس سے افسر کی تعیناتی کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔ اس لیے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ حاضر سروس فوجی افسر کو نیکٹا کا نیشنل کوآرڈی نیٹر مقرر کرنے کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کافی ہے یا اس مقصد کے لیے کسی قانونی ترمیم یا خصوصی انتظام کی ضرورت ہوگی۔

میجر جنرل فیصل نصیر کا اپنا پیشہ ورانہ پس منظر بھی اس تعیناتی کو اہم بناتا ہے۔ وہ 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ، جسے عام طور پر ڈی جی سی کے نام سے جانا جاتا ہے، کے سربراہ رہے۔ ان کا زیادہ تر فوجی کیریئر انٹیلیجنس اور سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریوں میں گزرا اور وہ بلوچستان میں بھی اہم اور حساس حالات کے دوران خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق انہیں انسداد دہشت گردی اور کاؤنٹر انٹیلیجنس کے شعبوں میں تجربہ حاصل ہے۔

فیصل نصیر کا نام سیاسی طور پر بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران خاصا نمایاں رہا۔ 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان نے ان پر اپنے خلاف سیاسی کارروائیوں اور بعد ازاں وزیرآباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے حوالے سے الزامات عائد کیے تھے۔ فوج نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا اور آئی ایس پی آر نے ادارے اور مخصوص افسر کے خلاف الزامات پر قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ یہی پس منظر اس تعیناتی کو عام سرکاری تقرری سے زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔

فیصل نصیر کی نیکٹا میں آمد پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض مبصرین اسے نیکٹا کو مؤثر بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک اس سے ادارے کے سویلین کردار اور سول ملٹری توازن کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ انٹیلیجنس اداروں سے وابستہ عہدوں کی غیرمعمولی عوامی شناخت خود ان اداروں کی روایتی رازداری کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔

یوں میجر جنرل فیصل نصیر کی تین سالہ تعیناتی محض ایک انتظامی تبادلہ نہیں بلکہ نیکٹا کے مستقبل کے کردار سے متعلق ایک اہم تجربہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر اس تعیناتی کے نتیجے میں نیکٹا کو واضح اختیارات، مناسب وسائل، جدید معلوماتی نظام اور مختلف سکیورٹی و سول اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کا حقیقی اختیار ملتا ہے تو یہ ادارہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم اگر ادارے کی بنیادی ساخت، قانونی حیثیت اور سول اداروں کے ساتھ توازن کے مسائل برقرار رہے تو صرف سربراہ کی تبدیلی مطلوبہ نتائج دینے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

اصل سوال یہی ہے کہ فیصل نصیر کی تعیناتی نیکٹا کو ایک مضبوط قومی رابطہ کاری اور پالیسی ساز ادارہ بناتی ہے یا اسے سکیورٹی نظام میں ایک زیادہ عسکری کردار کی طرف لے جاتی ہے۔ آنے والے تین برس اس بات کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ تقرری محض ایک اہم تعیناتی ثابت ہوتی ہے یا واقعی نیکٹا کی ساخت، اختیارات اور کارکردگی میں ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز بنتی ہے۔

Back to top button