میجر عزیز بھٹی نے جان قربان کرکے لاہور کو کیسے بچایا؟

1965ء کی جنگ میں برکی محاذ پر پانچ روز تک دشمن کو روکے رکھا، وطن کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کیا اور نشانِ حیدر سے نوازے گئے

سرزمینِ گجرات اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ’’عسکری گیٹ وے ٹو کشمیر‘‘ کی شہرت رکھتی ہے۔ جرأت و بہادری اس خطے کے لوگوں کی صدیوں پرانی صفت ہے جو ان کی جبلت بن چکی ہے۔ یہ غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین ہے۔ دفاعِ وطن کے لیے جب بھی ضرورت پڑی، اس سرزمین کے بہادر جان ہتھیلی پر لے کر نکل آئے اور جرأت، بہادری اور قربانی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کیں کہ نشانِ حیدر جیسے اعزازات انہی پر نچھاور ہوتے رہے۔ گجرات پاک فوج کے تین نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں کی جائے پیدائش ہے، جن میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید اور میجر شبیر شریف شہید شامل ہیں۔

12 ستمبر 1965ء میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا یومِ شہادت ہے۔ انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور سیکٹر کے برکی محاذ پر عزم و شجاعت کی لازوال داستان اپنے خون سے رقم کرتے ہوئے وطنِ عزیز کی سالمیت اور آزادی کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر برکی کے محاذ پر عزیز بھٹی موجود نہ ہوتے تو لاہور کا دفاع ممکن نہ ہوتا۔

عزیز بھٹی گجرات کے گاؤں لادیاں کے رہائشی ماسٹر عبداللہ بھٹی کے ہاں 6 اگست 1923ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے وہیں اپنے ایامِ طفولیت گزارے اور ابتدائی و ثانوی تعلیم حاصل کی۔ جنوری 1948ء میں فرسٹ ریگولر پی ایم اے لانگ کورس میں داخلہ لیا اور دورانِ تربیت اپنی ذہانت و شجاعت کے جوہر خوب دکھائے۔ چنانچہ 4 فروری 1950ء کو اپنی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے ہاتھوں نارمن گولڈ میڈل اور اعزازی تلوار حاصل کی۔

بعدازاں انہوں نے کئی پیشہ ورانہ تربیتی کورسز کیے۔ اسی سلسلے میں کینیڈا کے کنگسٹن کالج اور جرمنی سے انٹرپریٹر کا کورس بھی کیا۔ انہوں نے 1957ء سے 1959ء تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات انجام دیں۔ 1960ء سے 1962ء تک پنجاب رجمنٹ جبکہ 1962ء سے 1964ء تک انفنٹری اسکول کوئٹہ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے جنوری 1965ء سے مئی 1965ء تک سیکٹر کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

عزیز بھٹی اردو، پنجابی، انگریزی، چینی، جرمن، بنگلہ اور عربی زبانیں جانتے تھے۔ وہ مطالعے کے شوقین، ذوقِ کتب بینی رکھنے والے، وسیع المطالعہ، ذہین اور سوچ بچار کرنے والے شخص تھے۔

29 اگست 1965ء کو جب عزیز بھٹی اپنے اہل و عیال کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے تھے تو انہیں اچانک یونٹ واپس بلا لیا گیا اور بتایا گیا کہ جنگ سر پر منڈلا رہی ہے اور انہیں لاہور کا دفاع کرنا ہے۔

گھر سے نکلنے سے پہلے کھانے کی میز پر ان کی اہلیہ نے افسردہ لہجے میں پوچھا کہ اگر جنگ جلد ختم ہوگئی تو کیا آپ بھی جلد آ جائیں گے؟ جواب میں عزیز بھٹی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تم پریشان کیوں ہوتی ہو، تمہیں معلوم تو ہے کہ ایک فوجی کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور آنا جانا بھی لگا رہتا ہے۔

ان کا چھوٹا بیٹا ذوالفقار معصومیت سے بولا، ’’ابا جان، کیا جنگ ہونے لگی ہے؟‘‘ عزیز بھٹی نے جواب دیا، ’’ہاں، حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں لگ رہے۔‘‘ جواب میں ان کے بیٹے نے معصومیت سے مکا ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ جنگ میں کبھی دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا۔ میجر نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا، ’’پھر تم بھی وعدہ کرو کہ اگر میں شہید ہوجاؤں تو میری لاش پر رونا نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ میدانِ جنگ کے لیے روانہ ہوگئے۔

جب بھارتی فوج لاہور پر حملہ آور ہوئی تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔

ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں بھارتی فوجی افسروں نے لاہور کے جمخانہ میں مے نوشی کا خواب دیکھا اور صبح کا ناشتہ لاہور میں کرنے کا منصوبہ بنایا، تو برکی کے محاذ پر بی آر بی کینال کے پاس مردِ مجاہد میجر راجہ عزیز بھٹی ان کی راہ میں تدبیر و تزویر، بہادری اور عزم کی سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے محدود فوجی نفری کے ساتھ مسلسل پانچ روز تک دشمن کو برکی کے محاذ پر روکے رکھا اور اسے آگے نہ بڑھنے دیا۔

عزیز بھٹی کو بی آر بی نہر کے کنارے بطور کمپنی کمانڈر تعینات کیا گیا تھا، مگر انہوں نے خود ہی او پی کی پوسٹ سنبھال لی، جہاں بھوکے پیاسے کئی دن تک مسلسل دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ عزیز بھٹی کی بہادری کے باعث دشمن فوج کو شدید جانی اور جنگی سازوسامان کا نقصان اٹھانا پڑا۔ راجا عزیز بھٹی کے حملوں سے بھارت کے دو ٹینک بھی تباہ ہوئے اور دشمن تازہ ترین کمک اور وافر اسلحہ ہونے کے باوجود ایک قدم آگے نہ بڑھ سکا۔

12 ستمبر کی صبح طلوع ہوئی تو عزیز بھٹی نے دیکھا کہ دشمن کے ہزاروں سپاہی برکی سے شمال کی طرف درختوں کے پیچھے چھپے ہوئے آہستہ آہستہ بی آر بی نہر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ عزیز بھٹی نے انہیں روکنے کے لیے فائرنگ شروع کردی، جس سے دشمن کی پیشقدمی رک گئی اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔

اس دوران میجر عزیز بھٹی دوبارہ نہر کی پٹری پر چڑھ کر دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لینے لگے۔ اپنے محاذ پر ڈٹے عزیز بھٹی ہر خطرے سے بے نیاز دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے کہ دشمن کے ٹینک سے داغا گیا ایک گولہ ان کے سینے سے آرپار ہوگیا۔ انہوں نے ملک و قوم کی آبرو کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا۔

مادرِ وطن کے لیے اپنی جان نثار کرنے پر میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا، جو 23 مارچ 1966ء کو ان کی اہلیہ محترمہ زرینہ اختر نے وصول کیا۔

Back to top button