نائیکوپ ہونے کے باوجود عمران کے بیٹے پاکستان آنے سے گریزاں کیوں؟

بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کی جانب سے اپنے والد سے ملاقات کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر دونوں بھائی پاکستانی شہری ہیں اور ان کے پاس مؤثر نائیکوپ موجود ہیں تو پاکستان آنے کے لیے انہیں ویزے کی ضرورت نہیں، پھر وہ اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کے بجائے بیرونِ ملک میڈیا انٹرویوز اور مختلف حکومتوں سے اپیلوں کے ذریعے معاملہ عالمی سطح پر کیوں اٹھا رہے ہیں؟

دستیاب معلومات کے مطابق قاسم اور سلیمان خان دونوں کے پاس نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز یعنی نائیکوپ موجود ہے۔ اس دستاویز کے حامل پاکستانی شہریوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس تناظر میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ اگر ان کی بنیادی ترجیح اپنے والد عمران خان سے ملاقات ہے تو وہ پاکستان آکر متعلقہ حکام سے ملاقات کی اجازت طلب کرنے اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کا راستہ استعمال کرسکتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اسی معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ 30 اگست کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے آخری مرتبہ 2022 میں اپنے نائیکوپ کارڈز پر پاکستان آئے تھے اور اگر وہ چاہیں تو اب بھی پاکستان آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں کے نائیکوپ اب بھی مؤثر ہیں، جبکہ سلیمان خان کا نائیکوپ 6 جنوری 2030 اور قاسم خان کا 8 نومبر 2032 تک کارآمد ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق نائیکوپ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کے لیے حکومت کی جانب سے ویزا جاری کیے جانے کا انتظار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان آنے کے بعد اپنے والد سے ملاقات کے لیے انہیں متعلقہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

یہی نکتہ اس معاملے کو محض خاندانی ملاقات سے آگے سیاسی بحث کا موضوع بنا رہا ہے۔ ایک طرف عمران خان کے خاندان اور حامیوں کی جانب سے ان کی قید، ملاقاتوں پر پابندیوں اور قانونی معاملات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت کے بعض نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر بیٹوں کو اپنے والد سے ملاقات مقصود ہے تو پاکستان آنے کی راہ ان کے لیے کھلی ہے۔

ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر مقصد صرف والد سے ملاقات ہے تو پاکستان آکر قانونی راستہ اختیار کرنا زیادہ براہِ راست طریقہ ہوسکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب یہ مؤقف بھی سامنے آ سکتا ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے اہلِ خانہ اپنے والد کی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور حکومت پر سیاسی یا سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے میڈیا اور بین الاقوامی رابطوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس لیے محض بیرونِ ملک بیانات یا میڈیا سرگرمیوں کی بنیاد پر کسی مخصوص ایجنڈے کو حتمی حقیقت قرار دینا بھی احتیاط کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

اصل تنازع اب ویزے کی دستیابی کا نہیں بلکہ ملاقات کے طریقہ کار اور اس کے گرد بننے والی سیاسی و بین الاقوامی مہم کا ہے۔ اگر قاسم اور سلیمان پاکستان آتے ہیں تو یہ واضح ہوسکے گا کہ ان کی درخواست پر متعلقہ اداروں کا ردعمل کیا ہوتا ہے اور آیا انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملتی ہے یا نہیں۔ دوسری جانب اگر وہ بیرونِ ملک رہ کر ہی اپنے والد کی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے رہتے ہیں تو سیاسی مخالفین اسے ایک منظم سیاسی مہم قرار دے سکتے ہیں۔

یوں عمران خان کے بیٹوں کے پاس مؤثر نائیکوپ ہونے کا معاملہ اس بحث کا ایک اہم پہلو ضرور ہے، لیکن اصل سوال اس سے کہیں وسیع ہے: کیا یہ صرف ایک خاندان کی اپنے قیدی والد سے ملاقات کی کوشش ہے، یا عمران خان کی قید اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک وسیع تر مہم؟ اس سوال کا حتمی جواب سیاسی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات، پاکستان آنے کی کوشش اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کے بعد ہی زیادہ واضح ہوسکے گا۔

Back to top button