سینئر صحافی بلال غوری NCCIA کے نشانے پر کیسے آئے؟

اسلام آباد میں صحافی، کالم نگار اور یوٹیوبر بلال غوری کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کی تقرری سے متعلق سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق بلال غوری کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ ان کی گرفتاری کے بعد معاملہ آزادیٔ اظہار، صحافتی ذمہ داری اور سائبر قوانین کے استعمال کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق مقدمہ 6 ستمبر کو درج کیا گیا اور کارروائی ادارے کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کے بعد عمل میں آئی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بلال غوری نے 5 ستمبر کو اپنے سماجی رابطوں کے ذرائع اور یوٹیوب چینل پر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کی تعیناتی سے متعلق مواد شائع اور نشر کیا۔ ایف آئی آر میں ان کی ایک ایکس پوسٹ اور تقریباً 16 منٹ کی ایک یوٹیوب ویڈیو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ زیرِبحث معلومات کو حقائق کے برعکس، غیر مصدقہ اور قابلِ اعتماد یا آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق بنیاد کے بغیر پیش کیا گیا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ایسے مواد سے عوامی بے چینی پیدا ہونے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ تھا، اسی بنیاد پر قانونی کارروائی کی گئی۔
دوسری جانب بلال غوری کے اہلِ خانہ نے ان کی گرفتاری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کی اہلیہ حمیرا کنول نے بتایا کہ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب تقریباً دو بجے سے بلال غوری گھر سے لاپتا تھے۔ ان کے مطابق پرس اور چشمہ گھر میں موجود تھے جبکہ موبائل فون بھی بند جارہا تھا۔ بلال کے بہنوئی عبدالواسع نے دعویٰ کیا کہ انہیں گھر سے لے جاتے وقت اہلِ خانہ کو نہ تو پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی دستاویز دکھائی گئی۔
اہلِ خانہ کے مطابق بلال غوری اس وقت این سی سی آئی اے اسلام آباد کے دفتر میں زیرِحراست ہیں اور انہیں عدالت میں پیش کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلال کی گرفتاری کے بعد سرکاری حکام کی جانب سے براہِ راست رابطہ نہیں کیا گیا۔ تاہم گرفتاری اور مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا حتمی تعین متعلقہ عدالت ہی کرے گی۔
بلال غوری گزشتہ کئی برس سے یوٹیوب، ایکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ملکی سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے رہے ہیں۔ رواں سال فروری میں بھی انہیں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بنگلہ دیش روانگی کے موقع پر تحویل میں لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ بلال غوری نے اس وقت اس واقعے کو تکنیکی غلطی قرار دیا تھا۔
حالیہ گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیکٹا کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کے طور پر میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی خود بھی قومی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں بلال غوری کے خلاف کارروائی نے اس سوال کو مزید نمایاں کردیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں اور اہم تقرریوں سے متعلق غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر کے خلاف قانونی کارروائی کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں اور آزادیٔ اظہار اور قانونی ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
فی الحال این سی سی آئی اے نے بلال غوری کے خلاف مقدمہ درج کرکے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے، جبکہ دوسری جانب اہلِ خانہ گرفتاری کے طریقہ کار اور الزامات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ مقدمے کی آئندہ عدالتی کارروائی میں یہ طے ہوگا کہ الزام کی قانونی حیثیت کیا ہے اور پیش کیے گئے شواہد کس حد تک اسے ثابت کرتے ہیں۔
