افغانستان میں بغاوت، طالبان حکومت کے چھکے چھڑانے لگی

افغانستان میں طالبان حکومت کو گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مخالف مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کا سامنا رہا ہے، خصوصاً شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں مزاحمتی کارروائیوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان حملوں کے ساتھ ایک دوسری جنگ بھی تیز ہوگئی ہے، اور وہ ہے بیانیے اور معلومات کی جنگ۔ طالبان حکام ایک جانب مخالف گروہوں کی کارروائیوں کو کم اہم دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان گروہوں کو کمزور، منتشر اور عوامی حمایت سے محروم ثابت کرنے کا بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں۔
طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ پر غیر اعلانیہ پابندی کے باوجود جب کوئی واقعہ منظرِ عام پر آجاتا ہے تو طالبان کی جانب سے اس کی مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔ 28 اگست کو لغمان میں ہونے والے ایک دھماکے کو ایک مقامی طالبان عہدیدار نے رکشے میں نصب گیس سلنڈر پھٹنے کا حادثہ قرار دیا، جبکہ طالبان مخالف گروہ ’روند سبز افغانستان‘ نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں طالبان کے نو ارکان ہلاک ہوئے۔ اسی روز ہرات میں ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور ایک دوسرے گروہ نے قبول کی، تاہم طالبان نے اسے موٹر سائیکل کی بیٹری پھٹنے کا واقعہ قرار دیا۔
17 اگست کو مغربی کابل کے ایک اسکول میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں بھی طالبان کا مؤقف تبدیل ہوا۔ ابتدا میں اسے دستی بم حملہ قرار دیا گیا، بعد میں کہا گیا کہ ایک طالب علم کی جانب سے اسکول لائے گئے گولے کے پھٹنے سے دھماکہ ہوا۔ دوسری جانب طالبان شاذ و نادر ہی ایسے حملوں میں اپنے جانی نقصانات کا اعتراف کرتے ہیں۔ 13 اگست کو بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد کے میئر ایک حملے میں ہلاک ہوئے، جس کی ذمہ داری نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے قبول کی، مگر طالبان نے ان کی تدفین بھی میڈیا کوریج کے بغیر کی۔
اس کے ساتھ طالبان سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے حکومت مخالف گروہوں کے خلاف اپنی مہم تیز کردی ہے۔ افغان ذرائع کے مطابق طالبان کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ میڈیا پلیٹ فارمز مخالف جنگجوؤں اور کمانڈروں کی ہلاکتوں کو نمایاں کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مزاحمتی گروہ کمزور اور اندرونی اختلافات کا شکار ہیں، جبکہ طالبان حکومت کو مستحکم اور قانونی حیثیت رکھنے والی انتظامیہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں ان گروہوں کو پاکستان اور دیگر بیرونی قوتوں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
افغان اخبار ’اطلاعات روز‘ کے مطابق طالبان کی خفیہ ایجنسی کے میڈیا ونگ نے حریت ریڈیو، میثاق، وائس آف ہندوکش اور المرصاد سمیت متعدد پلیٹ فارم قائم کیے ہیں، جن کے ذریعے مخالف آوازوں کے خلاف منظم مہم چلائی جاتی ہے۔ ان ذرائع ابلاغ میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض ویڈیوز میں مخالف گروہوں کی جانب سے طالبان ارکان پر حملوں کو جعلی قرار دیا گیا، جبکہ مخالف کمانڈروں کی ہلاکتوں کو طالبان کی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس بیانیے میں صرف عسکری کارروائیوں ہی نہیں بلکہ مذہبی دلائل کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ طالبان سے منسلک ’المرصاد‘ نے ایسے مضامین شائع کیے جن میں مسلح مزاحمت کو اسلامی نقطۂ نظر سے ناجائز ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک مضمون میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی مسلمان حکمران کے خلاف مسلح بغاوت اس وقت تک جائز نہیں جب تک حکمران کی جانب سے ’صریح کفر‘ ثابت نہ ہوجائے۔
دوسری جانب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 27 اگست کو طالبان پر ’جامع اور کثیرالجہتی ادراکی جنگ‘ اور نفسیاتی کارروائی شروع کرنے کا الزام عائد کیا۔ گروہ کے مطابق طالبان عسکری محاذ پر درپیش مشکلات، عوامی سطح پر مبینہ قانونی و اخلاقی جواز کے فقدان اور بین الاقوامی تنہائی کے باعث اب معلومات اور رائے عامہ کے محاذ پر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔
افغان اخبار ’اطلاعات روز‘ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کی معلوماتی مہم میں سرکاری اور خفیہ اداروں سے وابستہ میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ جعلی سماجی رابطہ اکاؤنٹس، خودکار کھاتے اور مواد کو بڑے پیمانے پر پھیلانے والے نیٹ ورکس شامل ہیں۔ اس تجزیے کے مطابق مقصد معلوماتی ماحول پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرنا اور مخالف آوازوں کی رسائی محدود کرنا ہے۔
یوں افغانستان میں طالبان اور ان کے مخالف مسلح گروہوں کے درمیان کشمکش اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ حملوں کی ذمہ داریوں، جانی نقصانات اور واقعات کی نوعیت پر متضاد دعووں کے ساتھ ساتھ میڈیا، مذہبی دلائل اور سماجی رابطوں کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی اس تنازع کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی واقعے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہونے کے باعث طالبان کے دعووں اور مخالف گروہوں کے بیانات، دونوں کو محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
