چھوٹے یونٹس، بڑے سوال، محسن نقوی کے اصرار کے بعد اصل امتحان کیا؟

پاکستان میں نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر سیاسی اور انتظامی منظرنامے کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس دوٹوک مؤقف کہ ’’نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، چھوٹے یونٹس تو بن کر رہیں گے‘‘ نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ محسن نقوی کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے باعث چھوٹے یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، جن کے ذریعے حکومتی نظام کو عوام کے قریب اور مسائل کے حل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مؤقف کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا نئے یونٹس واقعی گورننس بہتر بنانے کا مؤثر راستہ ہیں یا اس اقدام سے سیاسی اختلافات، مالی بوجھ اور آئینی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں؟
محسن نقوی کے بیان پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے اصولی طور پر نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کی، تاہم واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ آئین اور پارلیمانی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 1973 کا آئین موجود ہے اور اسی کے تحت پارلیمانی جمہوری نظام چل رہا ہے، اس لیے محسن نقوی کا یہ کہنا کہ ’’سسٹم تباہ ہو چکا ہے‘‘ واضح وضاحت کا متقاضی ہے۔ رانا ثنااللہ کے مطابق نظام میں تبدیلی کی خواہش اپنی جگہ، لیکن اسے آئینی دائرے میں رہ کر ہی عملی شکل دی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق اگر چھوٹے یونٹس بنانے کا مقصد بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کا فوری حل ہے تو صرف انتظامی نقشہ تبدیل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے نزدیک جمہوریت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اختیارات عوام اور مقامی حکومتوں تک منتقل کیے جائیں۔ اگر نئے یونٹس بھی اسی مرکزی طرزِ حکمرانی کے تحت چلائے گئے اور مقامی سطح پر اختیار اور وسائل نہ پہنچے تو نئی حد بندی یا نئے صوبے بھی بنیادی مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔ ان کے مطابق نئے یونٹس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں اس اقدام سے سیاسی اختلافات اور آئینی پیچیدگیاں مزید تو پیدا نہیں ہوں گی۔
تجزیہ کار احمد ولید کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کا مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب انہیں براہِ راست بجٹ اور ترقیاتی وسائل بھی فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق صوبائی سطح پر نیشنل فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن کو مؤثر بنا کر وسائل اضلاع اور مقامی حکومتوں تک منتقل کیے جانے چاہییں۔ چاہے بلدیاتی نظام ہو، میئر نظام ہو یا کوئی دوسرا مقامی حکومتی ڈھانچہ، اصل ضرورت یہ ہے کہ یونین کونسل اور مقامی نمائندوں کے پاس اپنے علاقے کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے اختیار اور مناسب مالی وسائل موجود ہوں۔
احمد ولید کے مطابق پاکستان میں ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی نظام کو وہ اہمیت نہیں دیتیں جو اسے ملنی چاہیے۔ نتیجتاً اختیارات اور وسائل صوبائی حکومتوں کے پاس مرتکز رہتے ہیں اور ترقیاتی ترجیحات میں سیاسی مفادات کا اثر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ اگر وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو نہ صرف عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہوسکتے ہیں بلکہ ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم بھی کم کی جا سکتی ہے۔
ماہر اقتصادیات فرخ سلیم کے نزدیک نئے صوبے یا انتظامی یونٹس پاکستان کے معاشی مسائل کا واحد حل نہیں۔ ان کے مطابق ریاست کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے، حکومتی اخراجات پر قابو پانے اور موجودہ وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ نئے یونٹس قائم ہونے کی صورت میں ان کے انتظامی اخراجات، مالی وسائل اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بھی واضح منصوبہ درکار ہوگا۔ محض صوبوں یا یونٹس کی تعداد بڑھانے سے معیشت کے بنیادی مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے۔
معاشی و سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں توازن کا مسئلہ ضرور موجود ہے، تاہم اس کا حل صرف نئے صوبے بنانا نہیں۔ ان کے نزدیک 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے، لیکن اختیارات اور وسائل کی مکمل منتقلی نچلی سطح تک نہیں ہو سکی۔ نتیجتاً صوبائی حکومتوں کے پاس اختیارات اور وسائل کا بڑا حصہ مرکوز ہے جبکہ مقامی حکومتیں اکثر محدود اختیارات اور مالی وسائل کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
ضیغم خان کے مطابق پاکستان میں سرپرستی پر مبنی سیاست اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم نے بھی مختلف علاقوں میں احساسِ محرومی پیدا کیا ہے۔ بڑے شہروں اور بااثر علاقوں کو زیادہ توجہ ملنے کے باعث دور دراز علاقوں کے مسائل بڑھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس صورتحال میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط مقامی حکومتیں اور مؤثر مالیاتی نظام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بعض حالات میں اضلاع سے بڑے لیکن صوبوں سے چھوٹے انتظامی یونٹس، مثلاً ڈویژن کی سطح کے بااختیار انتظامی ڈھانچے، صحت، تعلیم، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ تاہم بہت بڑی تعداد میں نئے صوبے بنانا قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق جہاں حقیقی انتظامی ضرورت موجود ہو وہاں نئے یونٹس پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے واضح اختیارات، مالی وسائل اور مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام لازمی ہوگا۔
یوں محسن نقوی کے چھوٹے یونٹس کے قیام پر اصرار نے ایک ایسے بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کردیا ہے جس کا تعلق صرف نقشے پر نئی حد بندی سے نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی سے ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے بھی جاتے ہیں لیکن اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب نہیں پہنچتی تو محض نئے نام اور نئی حدود گورننس کا بحران ختم نہیں کر سکیں گی۔ اس کے برعکس اگر انتظامی اصلاحات کے ساتھ مقامی حکومتوں کو مالی اور سیاسی اختیار، شفاف احتساب اور براہِ راست وسائل فراہم کیے جائیں تو چھوٹے یونٹس عوامی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اصل امتحان اب یہی ہے کہ حکومت اس بحث کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھتی ہے یا اسے آئینی، مالیاتی اور انتظامی اصلاحات کے ایک جامع منصوبے میں تبدیل کرتی ہے۔ نئے صوبوں یا چھوٹے یونٹس کی تعداد سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ان کے پاس کتنا اختیار ہوگا، وسائل کہاں سے آئیں گے، عوام کو فیصلہ سازی میں کتنا حصہ ملے گا اور کیا مقامی حکومتیں واقعی بااختیار ہوں گی۔ یہی وہ عوامل ہیں جو طے کریں گے کہ چھوٹے یونٹس پاکستان کے گورننس بحران کا حل بنتے ہیں یا ایک نئی انتظامی اور سیاسی پیچیدگی کا آغاز۔
