پاکستان سے ڈنکی اور غیر قانونی ہجرت میں کمی کیسے آئی؟

انسانی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، سخت نگرانی اور امیگریشن نظام میں تبدیلیوں کے بعد پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت کے رجحان میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ یورپی یونین کے سرحدی و ساحلی نگرانی کے ادارے فرونٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے دو ماہ میں یورپ کی سرحدوں پر غیر قانونی داخلے کی کوشش کرنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 64 فیصد کم رہی۔ جنوری اور فروری 2025 میں ایسے ایک ہزار 224 پاکستانی شہریوں کی نشاندہی ہوئی تھی، جبکہ 2026 کے اسی عرصے میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 440 رہ گئی، یعنی ایک سال کے دوران تقریباً 784 کیسز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کمی صرف مجموعی تعداد تک محدود نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کے استعمال میں آنے والے بعض اہم غیر قانونی راستوں پر بھی نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ وسطی بحیرۂ روم کے راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی شہریوں کی نشاندہی میں بھی ایک مرحلے پر 63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے روایتی راستوں پر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق اس کمی کی ایک بڑی وجہ انسانی اسمگلروں اور غیر قانونی ہجرت کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں تیزی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ ان روایتی اور نئے راستوں کی نگرانی بھی بڑھائی ہے جنہیں اسمگلر پاکستانی شہریوں کو یورپ پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلر بھاری رقوم کے عوض شہریوں کو خطرناک اور غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچانے کا جھانسہ دیتے ہیں، اس لیے ان نیٹ ورکس کو توڑنا غیر قانونی ہجرت روکنے کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔
تاہم اس معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے سخت امیگریشن اقدامات کے ساتھ قانونی مسافروں کے حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔ ایف آئی اے کے مطابق نئے طریقۂ کار کے تحت کسی مسافر کو محض صوابدیدی بنیاد پر آف لوڈ نہیں کیا جا سکے گا اور اگر کسی شخص کو سفر سے روکا جائے تو اس فیصلے کی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوں گی۔ آف لوڈنگ کے فیصلوں کے لیے مخصوص فارم متعارف کرانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ پورا عمل دستاویزی، شفاف اور قابلِ جواب دہی بنایا جا سکے۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت کارروائی کے دوران مکمل اور جائز سفری دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو بھی بعض اوقات اضافی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کے مطابق رسک پر مبنی جانچ کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ توجہ زیادہ خطرے والے اور مشکوک کیسز پر مرکوز رہے جبکہ قانونی طور پر سفر کرنے والے افراد کے لیے امیگریشن کا عمل غیر ضروری رکاوٹوں سے محفوظ ہو۔
ایف آئی اے جعلی اور مشکوک سفری دستاویزات کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی بڑھا رہا ہے۔ جدید تصدیقی نظام، بہتر نگرانی اور رسک اینالیسس کے ذریعے مشکوک سفری کوششوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ایک طرف انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو روکنا اور دوسری جانب ایئرپورٹس پر قانونی مسافروں کے لیے کلیئرنس کا عمل زیادہ منظم بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی یقیناً ایک اہم پیشرفت ہے، لیکن اس رجحان کو مستقل بنانے کے لیے صرف گرفتاریوں، نگرانی اور سخت امیگریشن اقدامات پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ بہتر روزگار، معاشی مواقع، تعلیم اور محفوظ قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک جانے کے امکانات میں اضافہ بھی ضروری ہے، کیونکہ بہتر مستقبل کی تلاش میں خطرناک راستوں کا انتخاب کرنے والے افراد کے لیے انسانی اسمگلر اسی خواہش کو استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح عوامی آگاہی بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انسانی اسمگلروں کے جھوٹے وعدوں، غیر قانونی راستوں کے خطرات اور بیرونِ ملک جانے کے قانونی طریقوں کے بارے میں مؤثر آگاہی سے ممکنہ متاثرین کو اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے دور رکھا جا سکتا ہے۔
یوں فرونٹیکس کے اعداد و شمار میں سامنے آنے والی 64 فیصد کمی کو صرف ایک عدد نہیں بلکہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات، بہتر نگرانی اور امیگریشن نظام میں تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب غیر قانونی ہجرت میں کمی کے ساتھ قانونی ہجرت کے راستے بھی آسان، شفاف اور قابلِ اعتماد بنائے جائیں، تاکہ پاکستانی شہری خطرناک راستوں کے بجائے محفوظ اور قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔
