پی ٹی آئی 27ستمبر کو لاہور اور فیصل آباد میں کیا کرنے والی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے لیے پنجاب میں اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ پارٹی قیادت کی مشاورت کے مطابق لاہور اور فیصل آباد کو وسطی پنجاب میں احتجاج کے مرکزی مراکز بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے کارکنوں اور رہنماؤں کو خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات کی میرٹ پر سماعت، ملاقاتوں پر پابندی ختم کرنے اور عمران خان کی رہائی کے مطالبات کے لیے کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 5 اگست کو پشاور میں عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر خطاب کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میرٹ پر نہ سنے گئے اور ملاقاتوں پر پابندی ختم نہ کی گئی تو پارٹی ملک گیر احتجاج کرے گی۔ بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کی تاریخ حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
31 اگست کو پشاور میں مشاورتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے پنجاب سمیت مختلف علاقوں کے لیے احتجاجی حکمت عملی بھی بیان کی۔ ان کے مطابق شمالی پنجاب کے کارکن خیبرپختونخوا کے ساتھ کھڑے ہوں گے، جبکہ وسطی اور مغربی پنجاب کے کارکن لاہور کا رخ کریں گے۔ جنوبی پنجاب کے خیبرپختونخوا سے متصل علاقوں کو بھی خیبرپختونخوا کے احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں اہم شاہراہوں پر احتجاج کی حکمت عملی زیر غور ہے۔ پی ٹی آئی قیادت اسے ’عوام کی طاقت کا دن‘ قرار دے رہی ہے۔
لاہور میں پارٹی ذرائع کے مطابق لاہور، قصور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن کے کارکن اور رہنما احتجاج میں شریک ہوں گے۔ منصوبے کے تحت 26 ستمبر کی رات مختلف اضلاع سے آنے والے کارکنوں اور اراکین اسمبلی کے مال روڈ پر جمع ہونے کی تجویز ہے، جس کے بعد 27 ستمبر کو لاہور میں بڑے احتجاج کی تیاری کی جا رہی ہے۔ وسطی پنجاب میں کاروباری مراکز بند رکھنے کی اپیل کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے۔
فیصل آباد میں بھی احتجاج کے لیے وسیع پیمانے پر کارکنوں کو جمع کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جھنگ، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما اور کارکن فیصل آباد پہنچیں گے اور گھنٹہ گھر کے قریب اجتماع کی تجویز ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس روز شہر میں کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کی کال دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
جنوبی پنجاب کے لیے حکمت عملی قدرے مختلف رکھی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں، اراکین اور کارکنوں کو اپنے ساتھ کارکنوں کے قافلے لے کر 26 ستمبر کو خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بعض رہنماؤں کو کم از کم 15 سے 20 کارکن ساتھ لانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، تاکہ احتجاج میں جنوبی پنجاب کی شرکت بھی نمایاں ہو۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے گا۔ سہیل آفریدی بھی متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ احتجاج پرامن لیکن فیصلہ کن ہوگا۔ تاہم پارٹی کے اندر اس حکمت عملی اور 27 ستمبر کی تاریخ کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض رہنماؤں نے مشاورت کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ علیمہ خان کی جانب سے بھی تاریخ پر سوال اٹھایا گیا۔ دوسری جانب سہیل آفریدی کا دعویٰ ہے کہ پارٹی قیادت اور تحریک تحفظ آئین پاکستان اس احتجاجی کال پر متفق ہیں۔
اس احتجاج کے اعلان نے حکومتی اور انتظامی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اسے سکیورٹی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب میں ماضی کے سیاسی احتجاجوں کے دوران انتظامیہ کی جانب سے راستوں کی بندش، اجتماعات پر پابندی اور دیگر حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔ اس لیے 27 ستمبر کے قریب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے انتظامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔
یوں 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی اور مقدمات کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کی ایک ملک گیر کوشش کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ لاہور اور فیصل آباد میں بڑے اجتماعات، جنوبی پنجاب کے کارکنوں کی خیبرپختونخوا میں شرکت اور دیگر علاقوں میں ممکنہ سڑکوں کی بندش کی حکمت عملی اس احتجاج کو وسیع بنانے کی کوشش ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا اصل انحصار کارکنوں کی شرکت، انتظامیہ کے ردعمل اور پارٹی کے اندر موجود اختلافات پر ہوگا۔
