مومنہ اور چدھڑ میں الزامات کی جنگ، نئے شواہد نے معاملہ پھر گرما دیا

مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان جاری قانونی و ذاتی تنازع نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ثاقب چدھڑ نے اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں مومنہ اقبال اور ان کی بہن رمشا اقبال سے متعلق متعدد دعوے کیے ہیں، جبکہ مومنہ اقبال پہلے ہی ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات عائد کرچکی ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے حق میں شواہد ہونے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔
ثاقب چدھڑ کے مطابق انہوں نے رمشا اقبال کو اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا لے جانے اور اپنی کمپنی میں ملازمت فراہم کرنے میں مدد کی، تاہم بعد میں ان کی کاروباری شراکت داری سے متعلق ایک شخص کے خلاف مبینہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کیا گیا، جو ان کے بقول مالی تصفیے کے بعد ختم ہوا۔ ثاقب چدھڑ نے الزام عائد کیا کہ بعد ازاں مومنہ اقبال اور ان کی بہن نے ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کے ساتھ اپنے سابقہ تعلق کے حوالے سے بھی متعدد دعوے کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مومنہ اقبال ان کی ازدواجی حیثیت سے واقف تھیں اور دوسری شادی پر رضامند تھیں، تاہم انہیں اداکارہ کی 2018ء میں ہونے والی شادی اور بعد ازاں طلاق کا علم نہیں تھا۔ ثاقب چدھڑ نے مزید دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال کے وکیل کی جانب سے پہلے 20 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا، انکار پر 9 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی جبکہ ان کے مطابق 11 کروڑ روپے میں معاملہ طے کرنے کی بات بھی سامنے آئی۔ انہوں نے مبینہ ملاقاتوں کے شواہد اور ایک صلح نامہ پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب مومنہ اقبال ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ انہیں خاموش رہنے یا معاملہ ختم کرنے کے لیے بعض بااثر شخصیات کی جانب سے رقم کی پیشکش کی گئی، تاہم ان کے بقول ثاقب چدھڑ یا ان کے شوہر کی جانب سے انہیں کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ صلح کے لیے ان کی واحد شرط یہ تھی کہ ثاقب چدھڑ عوام کے سامنے حقیقت بیان کریں۔ ان کے مطابق ابتدا میں معذرت پر مبنی ویڈیو جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی اور عدالت میں بیان نہ دینے کی درخواست بھی کی گئی، تاہم بعد میں معاملہ منظرعام پر آنے سے دونوں کی بدنامی کا مؤقف اختیار کیا گیا۔
مومنہ اقبال کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کے وکلا کے درمیان معاملہ ختم کرنے کے لیے بات چیت ہوئی اور ان کی بہن کو بھی ماضی کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملہ ختم کرنے کا پیغام بھیجا گیا، تاہم کوئی مالی تصفیہ نہیں ہوا۔ اداکارہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثاقب چدھڑ کی سیاسی مہم کے آغاز میں ان کی مدد کی، فوٹو شوٹس اور گرومنگ میں کردار ادا کیا، تاہم بعد میں تعلقات خراب ہوگئے اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوا۔
مومنہ اقبال کے مطابق انہوں نے ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں سے متعلق مقدمہ درج کرایا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ معاملے کی اصل نوعیت کے بجائے عدالت میں سابقہ تعلق اور دیگر ذاتی معاملات کو زیر بحث لایا گیا۔ اداکارہ نے اس مؤقف پر بھی زور دیا کہ کسی بھی رشتے سے انکار کا فیصلہ قابل احترام ہونا چاہیے، چاہے رشتہ نکاح سے ایک دن پہلے ہی کیوں نہ ختم کیا جائے۔
یہ تنازع اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مومنہ اقبال، ثاقب چدھڑ اور دیگر متعلقہ افراد کو نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد دوبارہ نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو سابقہ ریکارڈ اور نئے شواہد کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جس کے بعد ہی آئندہ قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ ہوگا۔
یوں معاملہ فی الحال ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور الزامات سے آگے بڑھ کر دوبارہ تحقیق کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ دونوں فریق اپنے اپنے دعووں کے حق میں شواہد کا حوالہ دے رہے ہیں، تاہم حتمی حقیقت اور قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔
