نئے صوبوں کا تنازع، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان درمیانی راستہ کیا ہوسکتا ہے؟

نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں، لیکن سیاسی حلقوں میں ایک ایسا راستہ بھی زیرِغور ہے جس کے ذریعے دونوں بڑی جماعتیں کسی درمیانی اور قابلِ عمل حل پر پہنچ سکتی ہیں۔ سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام پر دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ممکن ہے، جبکہ صدر آصف علی زرداری موجودہ سیاسی تناؤ کم کرنے اور کسی قابلِ قبول فارمولے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنا یورپی دورہ مختصر کرتے ہوئے فرانس کا طے شدہ دورہ ملتوی کردیا اور وطن واپسی کو ترجیح دی۔ ان کی قبل از وقت واپسی کو ملک میں جاری سیاسی صورتحال، بالخصوص نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث سے جوڑا جا رہا ہے۔ تجزیے کے مطابق صدر زرداری کی کوشش ہوسکتی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پیدا ہونے والے سیاسی تناؤ کو کم کیا جائے اور ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کسی بڑے بحران میں تبدیل نہ ہوں۔
اس تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی لندن میں صدر زرداری سے ہونے والی ملاقاتوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی حلقوں میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور نئے یونٹس کی بحث جاری ہے، جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی سے نئے صوبوں کی مخالفت میں قرارداد منظور کراکے اپنا واضح مؤقف سامنے لاچکی ہے۔
پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کی تقسیم کا معاملہ محض انتظامی اصلاحات کا سوال نہیں بلکہ اس کے سیاسی مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں نئے صوبوں کی تشکیل کی مخالفت پارٹی کے لیے ایک حساس سیاسی معاملہ بن چکی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقے بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر کسی بڑے انتظامی یا آئینی اقدام پر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اسی صورتحال میں بااختیار بلدیاتی نظام ایک ممکنہ درمیانی راستے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اگر صوبوں کی تقسیم کے بجائے اختیارات، وسائل اور انتظامی ذمہ داریاں ضلعی اور مقامی حکومتوں کو منتقل کردی جائیں تو حکومت کے لیے گورننس بہتر بنانے کا راستہ بھی کھل سکتا ہے اور پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کی تقسیم کے خدشے کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسا نظام اسی صورت میں مؤثر ہوگا جب بلدیاتی اداروں کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات بھی دیے جائیں۔
تجزیہ کار کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ دراصل صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے سیاسی مفادات کے درمیان ٹکراؤ بھی بن چکا ہے۔ اس لیے تناؤ اس وقت تک کم ہونا مشکل ہے جب تک دونوں بڑی جماعتیں کسی مشترکہ فارمولے پر نہیں پہنچتیں۔ صدر زرداری کی وطن واپسی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی ممکنہ ملاقات اس حوالے سے خاص اہمیت اختیار کرسکتی ہے، کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے کم کرنے کی کوشش اسی سطح پر زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔
فی الحال کسی حتمی فارمولے کا سامنے آنا قبل از وقت ہے، تاہم بااختیار بلدیاتی نظام ایسا راستہ ضرور ہوسکتا ہے جس پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان نسبتاً زیادہ آسانی سے اتفاق پیدا ہو۔ لیکن اس کے لیے دونوں جانب سے سیاسی لچک، اختیارات کی حقیقی منتقلی اور اس بات پر اتفاق ضروری ہوگا کہ اصلاحات کا مقصد محض انتظامی نقشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ عام شہری تک ریاستی سہولیات، وسائل اور جواب دہی کو مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔
