برطانوی قلعے پر پاکستانی پرچم کشائی متنازع کیوں ہو گئی؟

برطانیہ کے شہر کارڈف کے تاریخی قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانے کا معاملہ سیاسی اور نسلی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ریفارم ویلز کے رہنماؤں اور بعض دائیں بازو کے مبصرین نے تاریخی عمارت پر پاکستانی پرچم لہرانے کو برطانوی ثقافت اور قومی شناخت کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ ویلش کنزرویٹو رکن نتاشا اصغر اور کارڈف کونسل نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ احترام، ثقافتی ہم آہنگی اور اہم قومی مواقع منانے کی روایت کا حصہ قرار دیا ہے۔
کارڈف ویلز کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے، جہاں مختلف ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والی بڑی برادریاں آباد ہیں۔ کارڈف کونسل کے مطابق رواں سال 9 اگست کو ایک تقریب کے موقع پر قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا اور 14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھی اسے وہاں رکھا گیا۔ کونسل کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر بھی اسی روایت کے تحت بھارتی پرچم لہرایا گیا۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ریفارم پارٹی کے اقتصادی ترجمان رابرٹ جینرک کے سماجی رابطے کے کھاتے سے کارڈف قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانے کی ایک ویڈیو دوبارہ شیئر کی گئی۔ جینرک نے سوال اٹھایا کہ تاریخی عمارتوں پر غیر ملکی پرچم لہرانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے اور اسے برطانوی ثقافت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ریفارم ویلز کے ایک ترجمان نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ ویلش ڈریگن یا یونین فلیگ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کا پرچم تاریخی عمارتوں پر نہیں لہرانا چاہیے۔
تاہم بعد میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ تنازع کو ہوا دینے والی بعض سماجی رابطوں کی پوسٹوں میں استعمال کی جانے والی تصویر موجودہ سال کی نہیں بلکہ 2024 کی تھی۔ یہ تصویر ایک بی بی سی صحافی نے 14 اگست 2024 کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر لی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کی تھی۔ ریفارم ویلز کے ڈین تھامس نے بھی یہی پرانی تصویر استعمال کرتے ہوئے موجودہ صورتِ حال کے انداز میں تبصرہ کیا تھا۔
ویلز کی پارلیمان میں کنزرویٹو رکن نتاشا اصغر نے ریفارم پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مختلف برادریوں کی پرچم کشائی کی تقریبات کسی ملک یا کمیونٹی کی جانب سے قبضہ جمانے کی کوشش نہیں بلکہ باہمی احترام اور ہم آہنگی کا اظہار ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ خود بھارتی، پاکستانی، پولش اور دیگر برادریوں کی ایسی تقریبات میں شریک رہی ہیں اور یہ تقاریب مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
نتاشا اصغر نے ریفارم پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ معمولی نوعیت کے معاملات کو اٹھا کر نسلی تنازع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفارم کو ایسی تقریبات میں شریک ہو کر خود دیکھنا چاہیے کہ مختلف برادریاں کس طرح ایک ساتھ رہتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نتاشا اصغر کے والد محمد اصغر تقسیمِ ہند سے قبل بھارت میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں پاکستان میں پلے بڑھے۔
کارڈف کونسل کے لیبر رہنما کرس ویور نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانا کسی خصوصی رعایت کا نتیجہ نہیں بلکہ کونسل کی دیرینہ روایت کا حصہ ہے، جس کے تحت اہم قومی اور بین الاقوامی مواقع کی مناسبت سے مختلف پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق کارڈف قلعے پر ویلز اور برطانیہ کے پرچم بھی لہراتے ہیں اور متعلقہ مواقع پر مختلف برادریوں کے قومی پرچم بھی اسی عمارت پر دکھائی دیتے ہیں۔
کونسل کا کہنا ہے کہ کارڈف ایک متنوع اور کثیرالثقافتی شہر ہے اور پاکستانی برادری کی خدمات کو تسلیم کرنا بھی اسی معاشرتی تنوع کا حصہ ہے۔ کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ 9 اگست کی تقریب کے بعد پرچم رات بھر لہراتا رہا اور 14 اگست کو بھی پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے اسے دوبارہ لہرایا گیا۔
دوسری جانب ریفارم ویلز اس سے پہلے بھی کارڈف بے میں ویلش پارلیمان کے باہر یوکرین کا پرچم لہرانے پر اعتراض کر چکی ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ تاریخی عمارتوں اور اہم قومی مقامات پر غیر ملکی پرچموں کی موجودگی برطانوی اور ویلش شناخت کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے، جبکہ اس کے مخالفین اسے ثقافتی تنوع کے خلاف غیر ضروری سیاسی مہم قرار دے رہے ہیں۔
تنازع میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پرانی تصویر کو موجودہ واقعے کے طور پر پیش کیے جانے سے معاملہ مزید الجھ گیا۔ بی بی سی ویلز کی جانب سے جب ریفارم سے پوچھا گیا کہ دو سال پرانی تصویر کو حالیہ واقعے کے طور پر کیوں پیش کیا گیا تو جماعت کی جانب سے اس مخصوص سوال کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔
یوں کارڈف قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانے کا معاملہ محض ایک پرچم تک محدود نہیں رہا بلکہ برطانیہ میں تارکینِ وطن کی ثقافتی شناخت، قومی علامتوں، کثیرالثقافتی معاشرے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی کی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک جانب اسے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی اور احترام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ریفارم ویلز اسے قومی شناخت کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ تاہم پرانی تصویر کے استعمال نے اس تنازع میں غلط معلومات اور سیاسی بیانیے کے کردار پر بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
