نئے صوبے، پیپلز پارٹی نے تنگ کیا تو دوسرا آپشن کیا ہو گا؟

نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے اور اس بحث میں تحریک انصاف کا ممکنہ کردار بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے تو تحریک انصاف کو دوسرے آپشن کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کے باعث حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی عمران خان کی رہائی اور ان کی ممکنہ بنی گالہ منتقلی کے حوالے سے بھی نجم سیٹھی نے مختلف دعوے کیے ہیں۔

پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ تحریک انصاف کے چھوٹے اجتماعات میں اگر ایک ہزار یا پندرہ سو افراد شریک ہوتے ہیں تو انہیں کوئی بڑا خطرہ نہیں سمجھا جاتا، تاہم کراچی جیسے بڑے شہر میں بڑے جلسے کی بات پیپلز پارٹی کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بلاول بھٹو سے رکاوٹوں کے بارے میں سوال کیا، لیکن ان کے خیال میں بلاول بھٹو نہ تو براہِ راست ذمہ داری قبول کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے فریق کا نام لے سکتے ہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق تحریک انصاف جہاں جہاں احتجاج کے لیے گئی، وہاں بڑی تعداد میں نوجوان باہر آئے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ عمران خان صرف پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد اور شفاف انتخابات ہی یہ طے کرسکتے ہیں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی حقیقی مقبولیت کتنی ہے، جبکہ 2018 کے انتخابات میں بھی تحریک انصاف نے کراچی سے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔

عمران خان کی ممکنہ بنی گالہ منتقلی کے بارے میں نجم سیٹھی نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی ریلیف ملنے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق البتہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے، جہاں ان کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے، اس کے بعد بچوں سے بات چیت اور بہنوں و وکلا سے ملاقات بھی ہوسکتی ہے، تاہم بعدازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی یا کسی واضح یقین دہانی کے بغیر اس معاملے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق عمران خان کی رہائی کا امکان نظر نہیں آتا، اس لیے اگر پیپلز پارٹی حکومت کے لیے اس معاملے میں مشکلات پیدا کرتی ہے تو تحریک انصاف کو دوسرے آپشن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ اسی تناظر میں تحریک انصاف سے کسی حد تک رابطہ موجود ہے اور محسن نقوی کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

یوں نئے صوبوں کی بحث محض انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ حکومت، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ممکنہ سیاسی صف بندی کے سوالات بھی جڑ گئے ہیں۔ تاہم نجم سیٹھی کے تجزیے اور دعووں کے برعکس اس وقت یہ واضح نہیں کہ کسی فریق کے درمیان نئے صوبوں کے معاملے پر کوئی باقاعدہ سیاسی سمجھوتا یا حتمی فارمولا طے ہوا ہے۔ اصل صورتِ حال آئندہ سیاسی رابطوں، مذاکرات اور حکومتی فیصلوں سے ہی واضح ہوگی۔

Back to top button