خودمختار اسلام آباد میں کون کون سے نئے ٹیکس لگیں گے؟

اسلام آباد کو صوبائی طرز کے خودمختار انتظامی یونٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز کے ساتھ اس کی مالی خودمختاری کا منصوبہ بھی سامنے آگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بنیادی سہولیات، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، فلاحی سرگرمیوں اور انتظامی ڈھانچے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مقامی سطح پر نیا ٹیکس نافذ کرنے کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں، جبکہ اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن اسلام آباد کی حدود میں ہی خرچ کرنے کی تجویز ہے۔
ابتدائی تجاویز کے مطابق نئے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل اسلام آباد کے ہسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، دیگر تعلیمی اداروں، فلاحی منصوبوں اور انتظامی ڈھانچے پر خرچ کیے جائیں گے۔ تاہم ٹیکس کی شرح، دائرہ کار اور اس سے متوقع آمدن کا حتمی تخمینہ ابھی تیار ہونا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق مقصد اسلام آباد کے لیے ایسا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جو اسے نئے انتظامی یونٹ کی صورت میں اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے قابل بنا سکے۔
اس منصوبے میں وفاقی بورڈ آف ریونیو ابتدائی ٹیکس تجاویز تیار کرے گا، جنہیں اسلام آباد کے نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے قائم ٹیکس سے متعلق ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ذیلی کمیٹی کی منظوری کے بعد تجاویز وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو بھیجی جائیں گی اور وہاں سے منظوری کی صورت میں وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ اس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے سے مشاورت کے مرحلے میں ان تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے نتیجے میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان قرض پروگرام کے تحت پانچویں جائزے کے مذاکرات رواں ماہ ہونے ہیں، جن میں اسلام آباد کے مجوزہ مقامی ٹیکس اور مالیاتی نظام سے متعلق تجاویز بھی زیرِبحث آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس نئے ٹیکس کو متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ مشاورت اور منظوری کے مختلف مراحل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
اسلام آباد کی خودمختاری کے مجوزہ منصوبے میں صرف انتظامی اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو بھی مربوط کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت کو زیادہ بااختیار انتظامی یونٹ بنایا جاتا ہے تو اسے اپنے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مستقل آمدن کے ذرائع بھی حاصل ہونے چاہئیں۔ اسی لیے مقامی ٹیکس کو مجوزہ انتظامی اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ہونے والے پانچویں جائزے کے مذاکرات میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات، بجلی اور گیس کے سرکلر قرضے اور دیگر معاشی اہداف بھی اہم ایجنڈا ہوں گے۔ وزارت خزانہ نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مذاکرات کے لیے مطلوبہ اعداد و شمار اور رپورٹس تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ کامیاب جائزے کی صورت میں موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کو پانچویں جائزے کی تکمیل پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر بھی مل سکتے ہیں۔ یوں کامیاب جائزے کی صورت میں مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت متوقع ہے۔
اسلام آباد کے لیے نئے مقامی ٹیکس کی تجویز اس وسیع تر انتظامی بحث کا حصہ ہے جس میں دارالحکومت کو زیادہ بااختیار بنانے، اختیارات کی تقسیم اور مالی وسائل کو مقامی سطح پر مربوط کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اصل چیلنج صرف نیا ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہوگا کہ شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر ایسا پائیدار مالیاتی نظام کیسے بنایا جائے جو بہتر انتظام، شفاف اخراجات اور عوامی سہولیات میں حقیقی بہتری کا باعث بن سکے۔
