اسلام آباد پنجاب کے ایک ضلع سے وفاقی اکائی کیسے بنا؟

اقتدار کے ایوانوں میں وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی اپنی اسمبلی اور منتخب وزیر اعلیٰ کی تعیناتی کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز پر بحث زوروشور سے جاری ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد گزشتہ 56 برس کے دوران مختلف انتظامی تجربات سے گزرتا رہا ہے، لیکن آج بھی بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وفاقی دارالحکومت جیسے اہم علاقے کو آخر کس مستقل اور مؤثر انتظامی نظام کے تحت چلایا جائے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی نہیں بلکہ وسیع انتظامی حدود رکھنے والے اس وفاقی دارالحکومت کی حیثیت ابتدا ہی سے منفرد رہی، مگر اس کے انتظامی ڈھانچے میں بار بار تبدیلیاں ہوتی رہیں اور کوئی ایسا مستقل ماڈل سامنے نہ آسکا جو اختیارات، ذمہ داریوں اور مالی وسائل کے درمیان واضح توازن قائم کرسکے۔
اسلام آباد 30 جون 1970 تک پنجاب کے ضلع راولپنڈی کا حصہ تھا۔ یکم جولائی 1970 کو مغربی پاکستان کا ون یونٹ ختم ہونے اور پرانے صوبوں کی بحالی کے بعد اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت کی حیثیت سے الگ وفاقی اکائی کا تشخص دیا گیا، تاہم 1971 کے ایک صدارتی حکم کے تحت اس کا انتظام بدستور پنجاب حکومت کے پاس بطور ’ریجنسی‘ برقرار رہا۔ 1979 میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور اسے نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد دارالحکومت کو الگ ضلع قرار دیا گیا، لیکن انتظامی معاملات پھر بھی پنجاب حکومت کے زیرِانتظام چلتے رہے۔
نئے انتظامی ڈھانچے کو ابھی استحکام حاصل نہیں ہوا تھا کہ پاک سیکرٹریٹ کے گھیراؤ کے واقعے نے حکومتی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ اس کے بعد یکم جنوری 1981 سے وفاقی حکومت نے اسلام آباد کا انتظام براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا اور صدر مملکت کی نگرانی میں ایک نیا انتظامی نظام قائم کیا گیا۔ ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کا عہدہ تشکیل دیا گیا اور معروف بیوروکریٹ محمد اسلم باجوہ کو اس منصب پر تعینات کیا گیا، جو براہِ راست صدر مملکت کو جواب دہ تھے، جبکہ وزارت داخلہ کو نئی انتظامیہ سے متعلق ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
اسی دور میں اسلام آباد انتظامیہ اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان اختیارات کی تقسیم بھی ایک اہم سوال بن گئی۔ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کا انتظام سنبھالنے کے ساتھ ایڈمنسٹریٹر کو بلحاظِ عہدہ سی ڈی اے چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا، تاہم صدر مملکت نے اس فیصلے کو جزوی طور پر تبدیل کرتے ہوئے انتظامیہ اور سی ڈی اے کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بعدازاں دونوں اداروں کے سربراہوں کی تبدیلی اور مختلف وزارتوں میں تعیناتیوں نے اس انتظامی کشمکش کو مزید نمایاں کیا۔
یہ صورتحال کئی برس تک جاری رہی اور 1997 میں منتخب وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ایک اور اہم تبدیلی سامنے آئی، جب میجر ریٹائرڈ قمر زمان کو سی ڈی اے چیئرمین اور چیف کمشنر اسلام آباد مقرر کرنے کے ساتھ کیپیٹل ایڈمنسٹریشن ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری کا اضافی چارج بھی دیا گیا۔ یوں اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں مختلف ادوار کے دوران اختیارات کی مرکزیت، اداروں کی علیحدگی اور انتظامی عہدوں کے امتزاج کے متعدد تجربات کیے گئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسلام آباد کی انتظامی حیثیت کے معاملے میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے ماڈل کو اختیار کرنے سے بھی گریز کیا گیا۔ موجودہ انتظامی نظام کے تحت چیف کمشنر اسلام آباد کو قانونی اعتبار سے ملک کے طاقتور ترین انتظامی سربراہوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم عملی طور پر مالی وسائل اور اختیارات کے درمیان موجود خلا نے اس انتظامیہ کی مؤثریت کو محدود رکھا ہے۔
خاص طور پر یہ سوال اہم ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کو قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کی طرح الگ مالیاتی حصہ حاصل نہیں، جس کے باعث دارالحکومت کا انتظام ایک ماتحت وفاقی محکمے کے انداز میں چلتا ہے۔ اس صورتحال میں ایک بنیادی انتظامی اصول متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ جس ادارے کو جو ذمہ داریاں دی جائیں، اسے ان کے مطابق اختیارات اور وسائل بھی فراہم کیے جائیں۔
اسلام آباد کے 56 سالہ انتظامی تجربات دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کیا وفاقی دارالحکومت کے لیے موجودہ نظام کافی ہے یا اسے ایک واضح، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے؟ نئے انتظامی یونٹس، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور اسلام آباد کو صوبائی طرز کا بااختیار وفاقی یونٹ بنانے کی حالیہ بحث اسی بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لے آئی ہے۔ اصل امتحان صرف نیا ڈھانچہ بنانے کا نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینے کا ہے جس میں اختیار، ذمہ داری، مالی وسائل اور عوامی جواب دہی ایک ہی انتظامی سطح پر واضح طور پر موجود ہوں۔
