وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز مسلسل تنقید کی زد میں کیوں؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر پنجاب کو پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ دہشتگردی کا خطرہ قرار دینے بارے بیان پر تنقید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ لاہور میں مصنوعی ذہانت مرکز اور صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران دیے گئے اس بیان پر خیبر پختونخوا حکومت، اپوزیشن رہنماؤں اور بعض تجزیہ کاروں نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے حساس معاملے میں صوبوں کو دہشتگردی کے خطرے سے جوڑنے سے قومی یکجہتی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ دراصل دہشتگردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور پنجاب میں ان کے داخلے کے خطرے کی بات کر رہی تھیں۔
مریم نواز نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک کی نسبت پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے اور دہشتگردی ان علاقوں سے پنجاب میں آتی ہے۔ انہوں نے صوبائی سرحدوں اور سہ سرحدی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو ایسے عناصر سے خطرات کا سامنا ہے جو دوسرے علاقوں سے صوبے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب ایک پُرامن صوبہ ہے لیکن اسے درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالی تو چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کے پاس دہشتگردوں کے مقابلے میں مطلوبہ جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق اب مشترکہ چیک پوسٹوں کو مضبوط کیا گیا ہے، جہاں تھرمل اور رات میں دیکھنے والے کیمروں، بلٹ پروف تحفظ اور دیگر جدید سیکیورٹی نظام کی تنصیب کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مریم نواز نے کچے کے علاقے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ کئی دہائیوں سے جرائم اور دہشتگردی کا مرکز رہا ہے، تاہم فوج اور سندھ حکومت کے تعاون سے وہاں ریاست کی رٹ قائم ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت نے سیکیورٹی خطرات کی پیشگی نشاندہی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے صوبے میں مصنوعی ذہانت کا مرکز بھی قائم کیا ہے۔
تاہم بیان کے فوراً بعد سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مریم نواز کے الفاظ کو صوبائیت اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دینے سے بھارت کو غیر ضروری طور پر فائدہ پہنچتا ہے اور پاکستان کے عالمی مؤقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے بھاری قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے پورے صوبے کو خطرے کے منبع کے طور پر پیش کرنا قابلِ اعتراض ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی مریم نواز کے بیان کو خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو نظر انداز کرکے صوبے کے خلاف تاثر پیدا کرنا قومی سطح پر افسوسناک ہے۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور دیگر متاثرہ علاقوں نے دہشتگردی کا سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی مریم نواز کے بیان کے حوالے سے شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشتگردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے تو اسے کسی ایک صوبے یا علاقے سے جوڑنے کے بجائے دہشتگرد تنظیموں اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ قومی حکمتِ عملی کی بات کیوں نہ کی جائے۔ بعض مبصرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ’پنجاب بمقابلہ پڑوسی صوبے‘ کا تاثر پہلے سے موجود صوبائی حساسیت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق مریم نواز دہشتگردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس کے نتیجے میں پنجاب کو لاحق سیکیورٹی خطرات کی بات کر رہی تھیں، نہ کہ کسی صوبے کے عوام کو دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دے رہی تھیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت تمام صوبوں اور قومی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے بھی تنقید کرنے والوں کو حقائق سے ناواقف قرار دیتے ہوئے کہا کہ خارجہ امور اور بیرونی خطرات وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری داخلی سلامتی اور انتظامی معاملات دیکھنا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کا مقصد پنجاب کو درپیش عملی سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کرنا تھا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق دہشتگردوں کی کسی صوبے سے آمد یا وہاں سے گزرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پورا صوبہ خود خطرہ بن گیا ہے۔ ان کے نزدیک دہشتگردی ایک قومی چیلنج ہے جس سے تمام صوبوں اور ریاستی اداروں کو مل کر نمٹنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو ایسے حساس معاملے پر زیادہ محتاط الفاظ استعمال کرنے چاہییں تھے کیونکہ بیان سے ’پنجاب بمقابلہ دیگر صوبوں‘ کا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔
سلمان غنی کے مطابق پنجاب حکومت کا سرحدی علاقوں، بین الصوبائی نقل و حرکت اور جدید نگرانی کے نظام پر توجہ دینا اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، تاہم اس مقصد کے لیے بین الصوبائی تعاون، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمتِ عملی زیادہ مؤثر راستہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول دہشتگردی کسی صوبے کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف ایک مشترکہ خطرہ ہے۔
تجزیہ کار ماجد نظامی نے بھی مریم نواز کے بیان کو غیر محتاط قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی سے شدید متاثر رہے ہیں اور ان صوبوں کے عوام نے بڑی جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے ماحول میں یہ کہنا کہ پنجاب کو پڑوسی ملک کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے، قومی یکجہتی کے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے۔
اصل تنازع اسی نکتے پر ہے کہ مریم نواز کے بیان کو دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے ایک سیکیورٹی تشویش سمجھا جائے یا اسے صوبوں کے درمیان خطرے اور الزام تراشی کے تاثر کے طور پر دیکھا جائے۔ پنجاب حکومت اسے داخلی سلامتی کے تناظر میں بیان کر رہی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قومی جنگ میں کسی پورے صوبے کو خطرے کے منبع کے طور پر پیش کرنا سیاسی اور سماجی طور پر نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
یوں مریم نواز کا ایک سیکیورٹی تقریب میں دیا گیا بیان اب صرف پنجاب کی داخلی سلامتی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے صوبائی تعلقات، قومی بیانیے، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اور سیاسی بیان بازی کے انداز پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگردی کے خطرے کو کسی صوبے یا وہاں کے عوام سے جوڑنے کے بجائے دہشتگرد نیٹ ورکس، ان کی نقل و حرکت اور سہولت کاری کے خلاف تمام صوبوں اور ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو مرکزِ توجہ بنایا جائے۔
