بیرونِ ملک تعلیم یافتہ ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے مسائل

تحریر: نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
ریگولر اور سوشل میڈیا میں ہمارے ہاں گزشتہ کئی برسوں سے ہذیانی انداز میں جو موضوعات زیر بحث ہیں ان کی بوچھاڑ سے متاثر ہوکر مجھ جیسے رپورٹنگ سے ریٹائر ہوکر کالم نگار ہوئے قلم گھسیٹ اپنی روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لکھتا ہوں اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے بھول نہیں جاتا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے بینائی کے تحفظ کے لئے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ دیکھنے کیلئے محدود وقت مختص کرنے کا حکم ہوا ہے۔ اکثر حکم عدولی ہوجاتی ہے۔ اس کی بابت شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ لکھے ہوئے کالموں کے نیچے اکثر ایسے نوجوانوں کے جواب آتے ہیں جنہیں فالو کرنے والوں کی تعداد اوسطاََ 300سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مجھ بڈھے کو ٹائوٹ جیسے القاب سے نوازنے کے بعد صحافت کی جان چھوڑنے کا تقاضہ ہوتا ہے۔ ابتدائی ایام میں ان نوجوانوں کے مشورے کو سنجیدگی سے لیا۔ گزشتہ دو ہفتوں سے مگر ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بدولت چند حقائق دریافت ہوئے جن پر غور کیا تو ذہن اپنے بارے میں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خوف سے مائوف ہوگیا۔
رواں صدی کا آغاز ہوتے ہی پرانی وضع کی صحافت اپنی وقعت پاکستان ہی نہیں دنیا بھرمیں کھونا شروع ہوگئی تھی۔ بہت کم ادارے ٹیکنالوجی کی وجہ سے اخباری صنعت پر نازل ہوئے معاشی بحران کے مقابلے کیلئے خود کو تیار کرسکے۔ نیویارک ٹائمز جیسے اداروں نے اگرچہ اپنی بقا یقینی بنانے کے ڈھنگ ڈھونڈ لیے اور ابھی تک خود کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں مگر نیویارک ٹائمز کے تیار کردہ ماڈل کی تقلید کئی اعتبار سے ناممکن ہے۔ بطور صحافی عمر کے آخری حصے میں جو فکر مندی لاحق ہے وہ اس کالم کا تاہم موضوع نہیں۔ میری فکر مندی کا حقیقی سبب ان نوجوانوں کا مستقبل ہے جنہیں نسبتاََ خوش حال متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے دن رات محنت سے جمع کی بچت کے بعد یورپ اور امریکہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں بھیجا۔ ان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے مگرجن موضوعات کا انتخاب ہوا ان میں اعلیٰ ترین نمبروں سے حاصل کی ڈگری بھی لیکن وطن عزیز میں اچھی نوکری کا حصول یقینی نہیں بنارہی۔
بزنس ایڈمنسٹریشن میں یورپ یا امریکہ کی مشہور یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم مثال کے طورپر چند ہی برس قبل تک اچھی ملازمت کا حصول یقینی بنادیا کرتی تھی۔ اب مگر اس کی وقعت نہیں رہی۔ مارکیٹنگ کا شعبہ بھی نوجوانوں کو تحفظ فراہم نہیں کررہا۔ چند قریبی رشتے داروں اور دوستوں کے بچوں سے مجھے لمبی گفتگو کی عادت ہے۔ یوں ان کے ذہن کو ٹٹولتا ہوں۔ مجھ سے گفتگوکیلئے مگر ان کے پاس ایسے موضوعات نہیں ہوتے جو اْن کی دانست میں مجھے پسند ہوسکتے ہیں۔ تقریباََ دس سال قبل تک مگر یہ ہی بچے تحریک انصاف کی جذباتی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ میں نوجوانوں کی پسندیدہ جماعت کو تنقید کا نشانہ کیوں بنائے رکھتا ہوں۔ بتدریج وہی نوجوان بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعدلوٹے تو ان کی ترجیحات بدل گئیں۔
مسئلہ تحریک انصاف سے دوری تک محدود ہوتا تو شاید میں پریشان نہ ہوتا۔ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاست سے قطعی لاتعلقی اختیار کرچکے ہیں۔ ان کا بنیادی دْکھ یہ ہے کہ ماں باپ کے لاکھوں روپے خرچ کروانے اور گھروں سے دور تنگ اور ٹھنڈے کمروں میں رہ کر انہوں نے جس محنت سے ڈگری حاصل کی ہے پاکستان لوٹنے کے بعد انہیں اس کے مساوی نوکری نہیں مل رہی۔ جس بچے یا بچی سے بھی گفتگو ہوئی اس کا دعویٰ تھا نوکریوں کے لئے انہیں جس تنخواہ کی پیشکش ہورہی ہے وہ ان کی ڈگری کے حوالے سے واجب نہیں۔
خود کو پاکستان میں میسر نوکریوں کے مقابلے میں (Over Qualified)پکارتے یہ بچے نہایت حسرت سے اپنے چند دوستوں کا ذکر کرتے رہے جنہوں نے گریجویشن کے بعد کام کا تجربہ حاصل کرنے کے نام پر دو سال کا ویزا حاصل کیا۔ ڈگری کے مطابق انہیں برطانیہ میں بھی نوکری نہ ملی۔ ریستورانوں میں ویٹر وغیرہ کی نوکری کرنے کو مجبور ہوئے۔ وطن لوٹنے کے بعد مگر وہ ایسے کام کر نہیں سکتے۔ خود کو والدین پر بوجھ محسوس کرتے ہیں۔
ایسے ہی چند نوجوانوں سے چنددن قبل لمبی گفتگو کا موقع ملا۔ میں نے آغاز ہی میں ان کی نوکریوں کے حوالے سے خواہشات معلوم کرنا چاہیں۔ اْن کو دلوں میں جمع ہوئے غبار کے اظہار کا موقع مل گیا۔ اْن سے ہوئی گفتگو نے مزید پریشان کردیا۔ تین سے زیادہ بچوں نے بجھے اور اداس چہروں کے ساتھ اطلاع دی کہ ان کے چند قریب ترین دوست برطانیہ میں Uberگاڑیاں چلاتے ہوئے سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے تھے۔ بیرون ملک قیام کو طول دینے کے لئے اضافی تعلیم کی راہیں بھی ڈھونڈ نکالی تھیں۔ چند ہی دن قبل مگر ’’اوبر‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈرائیور کے بغیر گاڑیاں متعارف کروانے کافیصلہ کرچکے ہیں۔ ایک نوجوان کی قریبی دوست نے پھوٹ پھوٹ کر ر وتے ہوئے اسے یہ خبر سنائی کہ ’’اوبر‘‘ والوں نے اسے اگلے مہینے فارغ کرنے کی اطلاع بھجوادی ہے۔ بچی کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ وطن لوٹ کر کیا کرے گی۔ اس کی بیوہ ماں اکیلی رہتی ہیں۔ اپنی بچت کا بھاری بھر کم حصہ وہ اس کی تعلیم پر خرچ کرچکی ہیں۔ اسلام آباد کے نسبتاََ کم قیمت والے مکان کی مالک ہیں۔ اس کے دوکمرے طالبات کو کرایے پر دے رکھے ہیں۔ بچی انہیں باقاعدگی سے برطانوی پائونڈ میں کچھ رقم بھجواکر مطمئن رکھا کرتی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی کہ کس منہ سے وطن لوٹے اور اپنی ماں کے لئے آخری عمر کا سہارا بننے کے بجائے ان پر بوجھ نہ بنے۔
ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا میں مجھ جیسے عالمی امور پر لکھنے والے نام نہاد دانشور صحافی ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حقیقی زندگیوں اور مسائل سے قطعاََ غافل ہیں۔ ان کے بارے میں لکھنا اپنے ’’مرتبے‘‘ سے کم تر سمجھتے ہیں۔ وہ اگر ہم بڈھوں سے نفرت نہ کریں تو کیا کریں!
