مکہ معاہدہ، نئے امکانات

تحریر: عمار مسعود

بشکریہ: وی نیوز

پھر یوں کہ چشمِ فلک نے وہ منظر دیکھا جب دنیا کی تین مسلم قوتیں ایک معاہدے پر متحد ہو گئیں، ایک موقف پر یک جا ہو گئیں۔ ہم اس عہد ساز واقعے کو مکہ معاہدے کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ صرف ایک تحریری دستاویز نہیں بلکہ ایک عہد کی تابندگی کی داستان ہے۔ مسلم امہ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ایک عظیم اتحاد ہے۔ اس معاہدے پر متفق تینوں اقوام کو اکٹھا کرنے میں بہت سے عوامل ہیں، بہت سے خیر خواہ ہیں مگر اس کی کامرانی کا سہرا اگر کسی کے سر بندھتا ہے تو وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔

ولی عہد سعودی عرب نے اپنی دور اندیش نگاہوں سے آنے والے چیلنجز کو بھانپ لیا اور اس بات کا اندازہ انہیں ہو گیا کہ مسلم امہ کا اتحاد ہی ان تین ممالک کے مسائل کا حل ہے۔ اور شاید آنے والے دور میں یہی تین ممالک دنیا کے مسائل حل کرنے کے مجاز بھی ہوں۔ مسلم امہ کی تین قوتیں انہی کی دانش کے نتیجے میں باہم یک جان ہو چکی ہیں۔ ان کی معاونت سے ایک ایسا اتحاد معرضِ وجود میں آ چکا ہے جس کی نظیر تاریخ میں پہلے کہیں نہیں ملتی۔

ان تین ممالک کو مسلم دنیا کا نیٹو بھی کہا جا رہا ہے۔ ان تین ممالک کی قوت اور حکمت کے تناظر میں دنیا کے مسائل کا حل بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ ان تین ممالک کو اب مشعلِ راہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک اس تاریخی اتحاد میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ کیونکہ اس سہ ملکی اتحاد میں مشترکہ دفاع، معاشی مسائل کا حل، ترقی کے راستے اور کامرانی کی راہیں بہت واضح نظر آ رہی ہیں۔ یہ اتحاد مسلم امہ کے تابندہ مستقبل کا اتحاد ہے۔ ایک نئے عہد کا عندیہ ہے۔

ایک زمانہ گواہ ہے کہ ایران امریکا جنگ میں جس تدبر، دانش اور تحمل کا ثبوت سعودی حکومت نے دیا، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے باوجود جس بردباری سے سعودی حکومت نے شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مسلم امہ کو متحد رکھا، وہ قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔ صیہونی سازش یہی تھی کہ مسلم امہ کو باہم جنگ پر آمادہ کیا جائے۔ مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف اور انتشار پیدا کیا جائے۔ ان کو آپس میں باہم دست و گریبان کروایا جائے۔ لیکن سعودی فرمانروا نے اس سازش کو صبر اور دانش مندی سے ناکام بنا دیا۔ جس کا روشن نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم امہ اب اختلاف کے بجائے اتحاد پر آمادہ ہے۔ تصادم کے بجائے تعاون کے امکانات سوچے جا رہے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب نے بہت ترقی کی ہے۔ سعودی وژن سن دو ہزار تیس اس دور اندیشی کا بیّن ثبوت ہے۔ سعودی عرب اب دنیا کے ہم رکاب ایک ڈیجیٹل اور ماڈرن اقتصادی قوت میں تبدیل ہو گیا جس کی بنیاد اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، ترقی کے بے شمار مواقع، بے مثال مضبوط اقتصادی نظام اور ایک جاندار اور متحرک معیشت ہے۔ دینی معاملات میں تو سعودی عرب ہمارے لیے محترم ہے ہی، اب دنیا کے اقتصادی میدان میں بھی اس کا نام اول اول ہے۔ سعودی عرب میں اس تبدیلی کی بنیاد شہزادہ محمد بن سلمان نے رکھی، وہی سعودی عرب کے روشن حال اور تابناک مستقبل کے ضامن ہیں۔

اس معاہدے میں ترکیہ کا کردار بہت اہم ہے۔ اس مسلم مملکت کی دفاعی طاقت، جدید حربی ٹیکنالوجی اپنی مثال آپ ہے۔ مکہ معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت اس معاہدے کی مضبوطی اور طاقت کی دلیل ہے۔

پاکستان کے فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جہاں ان کی بدولت اس ارضِ پاک کو بے مثال عسکری کامیابیاں حاصل ہوئیں، جس کے نتیجے میں ہم نے اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کو شکستِ فاش دی، وہاں سفارتی محاذ پر بھی ہماری کامیابیاں انہی کی مرہونِ منت ہیں۔ جس جانفشانی اور محنت سے انہوں نے دنیا کے متحارب ممالک میں ثالثی کا ڈول ڈالا۔ جس محبت سے سعودی عرب سے مکہ معاہدے میں معاونت کی اور جس حکمت سے اس معاہدے کو تکمیل تک پہنچایا، وہ بے مثال ہے۔ اقوامِ عالم میں پاکستان کے موجودہ مقام میں ان کی محنت کا بہت دخل ہے۔

مکہ معاہدے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ معاہدہ امن کا معاہدہ ہے۔ اس کا مقصد جنگ نہیں، امن ہے۔ یہ کسی ملک کے خلاف ہے نہ کسی سوچ سے اختلاف کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد امن کا حصول اور تینوں ممالک کا دفاع ہے۔ معاہدے کی یہ شق بہت اہم ہے کہ اگر ان تین ممالک پر کوئی حملہ آور ہوتا ہے تو ایک متحدہ دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرنا اس کا منشور ہے۔ اس سے دفاع میں بھی تعاون حاصل ہو گا اور مستقبل میں معیشتوں کی ترقی کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ یہی اس اتحاد کا سب سے زیرک پہلو ہے۔

یہ اس اتحاد کے ابتدائی امکانات ہیں۔ اس کے ثمرات اس سے بھی کہیں آگے سوچے جا سکتے ہیں۔ جو ڈیجیٹل انقلاب سعودی عرب نے بپا کیا، پاکستان بھی اس ترقی کا خواہش مند ہے۔ اس کامیاب تجربے سے پاکستان بھی بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی سے پاکستان کے پاس سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے باعثِ فخر اور انبساط ہے۔ یہ تمام امہ کا اعزاز ہے۔ لیکن اس کے سوا بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ بہت سے امکانات موجود ہیں۔ بہت سی منزلیں منتظر ہیں۔

میڈیا میں تعاون ایک لاجواب ذریعہ ہو سکتا ہے۔ دفاعی معاہدے کے بعد اب ان ممالک میں ایک میڈیائی اتحاد کی گنجائش ہے۔ وہ جو اتحاد کو نہ صرف دو آتشہ بنائے گا بلکہ اس میں ترقی کے نئے امکانات بھی تلاش کرے گا۔ ایک لمحے کو سوچیے تو سہی کہ دنیا کی تین طاقتور مسلم قوتیں جب دفاعی اور میڈیا کے محاذ پر اکٹھی ہوں تو کوئی دور دور تک مقابل نہیں ہو گا۔

سوشل میڈیا کے ثمرات بھی ہیں اور مضمرات بھی ۔ کامیاب قومیں وہی ہوں گی جو آنے والے ڈیجٹل دور کے چلینجز کا مقابلہ کرنے کو تیار ہوں گی۔  عسکری میدان میں اتحاد کے سوا ڈیجٹل میڈیا وار فئیر ایک نیا موضوع ہے جس پر اتحاد کے لیے غور و فکر آج اور ابھی  کرنا ہو گا۔

Back to top button