دنیا کے نئے نقشے پر پاکستان اور بھارت آمنے سامنے کیوں؟

دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نے بھارت اور پاکستان کو ایک بار پھر کشمیر کے معاملے پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ دلچسپ صورتِ حال یہ ہے کہ بھارت نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تاہم مجوزہ نئے عالمی نقشے میں جموں و کشمیر اور لداخ کی نقشہ جاتی حیثیت پر بھارتی حلقوں کی تنقید کے بعد نئی دہلی کو وضاحت جاری کرنا پڑی۔ پاکستان نے بھارتی مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یکطرفہ دعوے اور اقدامات جموں و کشمیر کی متنازع بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے موجودہ نقشے کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک نئی نقشہ جاتی تشکیل کی حمایت میں قرارداد منظور کی، جس کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ صرف امریکا نے مخالفت کی اور 6 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ فرانس، برطانیہ اور بھارت بھی قرارداد کے حامی ممالک میں شامل تھے۔

اس قرارداد کا بنیادی مقصد دنیا کے براعظموں کے اصل زمینی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنا ہے۔ اس کے لیے ’ایکویل ارتھ‘ نقشہ جاتی تشکیل کو روایتی ’مرکیٹر‘ نقشے کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مرکیٹر نقشہ صدیوں سے دنیا بھر میں استعمال ہوتا آ رہا ہے، تاہم اس میں قطبی علاقوں کے قریب واقع خطے اپنے حقیقی حجم سے کہیں بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر گرین لینڈ نقشے پر تقریباً افریقہ جتنا بڑا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔

تاہم نقشے میں جغرافیائی رقبے کی درست نمائندگی کے لیے کی جانے والی اس کوشش نے بھارت میں ایک الگ سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دے دیا۔ بعض بھارتی حلقوں نے اعتراض اٹھایا کہ مجوزہ عالمی نقشے میں جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق کیوں نہیں دکھایا گیا۔

اس تنقید کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 4 ستمبر کو منظور ہونے والی قرارداد کا مقصد سیاسی نقشوں سے متعلق مسائل، بین الاقوامی سرحدوں یا متنازع علاقوں کی قانونی حیثیت کا تعین کرنا نہیں ہے۔ بھارتی مؤقف کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ سمیت بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں کو بھارتی حکومت کے سرکاری نقشے کے مطابق ہی دکھایا جانا چاہیے اور کسی بھی ’غلط‘ یا ’گمراہ کن‘ نقشے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان نے بھارتی وزارتِ خارجہ کی اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور دعوے جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں جموں و کشمیر کے تنازع کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خود ارادیت کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے جموں و کشمیر کو متنازع خطے کے طور پر ظاہر کرتے ہیں اور بھارت کے یکطرفہ سرکاری نقشے یا خودمختاری کے دعوے اس حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

یہ تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حالیہ قرارداد کا اصل موضوع کشمیر یا کسی دوسرے متنازع علاقے کی سرحدی حیثیت طے کرنا نہیں بلکہ دنیا کے جغرافیائی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنے کے لیے نقشہ جاتی طریقہ کار میں تبدیلی کی حمایت کرنا ہے۔ اس کے باوجود بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی عالمی نقشے میں اپنے زیرِ انتظام علاقوں کی نمائندگی کو اپنے سرکاری نقشے کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان اس مؤقف کو کشمیر کی متنازع حیثیت کے خلاف بھارتی دعوے کے طور پر دیکھتا ہے۔

نئے ’ایکویل ارتھ‘ نقشے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کو ایسے نقشے کی ضرورت ہے جو مختلف براعظموں کے اصل رقبے کا زیادہ حقیقت پسندانہ تصور پیش کرے۔ افریقی ممالک کی قیادت میں اس قرارداد پر کئی برس سے کام کیا جا رہا تھا۔ اس کے حامیوں کے مطابق نقشے صرف جغرافیائی معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ دنیا کے بارے میں انسانوں کے تصورات، تعلیم اور اجتماعی سوچ پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

یوں ایک نقشہ جاتی اصلاح کی عالمی کوشش نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو ایک بار پھر سفارتی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ قرارداد کا بنیادی مقصد دنیا کے براعظموں کے حجم کی درست عکاسی کرنا ہے، تاہم اس پر بھارتی اعتراض اور پاکستانی ردعمل نے واضح کر دیا ہے کہ جموں و کشمیر کی نقشہ جاتی نمائندگی آج بھی دونوں ممالک کے لیے محض جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک حساس سیاسی اور سفارتی

Back to top button