آپریشن دوارکا: 4 منٹ کی کارروائی نےبھارتی بحریہ کے چھکے کیسے چھڑائے؟

1965 کی جنگ کے دوران جب پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل لڑائی پنجاب اور کشمیر کے محاذوں پر جاری تھی، بحیرۂ عرب میں ایک ایسی بحری کارروائی ہونے جا رہی تھی جس نے بھارتی بحریہ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ 7 ستمبر 1965 کی رات پاکستانی بحریہ کے سات جنگی جہاز ریڈیو خاموشی کے ساتھ کراچی سے تقریباً 210 بحری میل دور بھارتی ساحلی شہر دوارکا کی جانب بڑھے۔ ان کا ہدف دوارکا کا ریڈیو بیکن اور اس کے گرد موجود اہم تنصیبات تھیں، جبکہ پوری کارروائی کا ایک بڑا مقصد بھارتی بحری بیڑے کو متحرک ہونے پر مجبور کرنا اور پاکستانی آبدوز غازی کے لیے راستہ ہموار کرنا بھی تھا۔

کموڈور ایس ایم انور کی قیادت میں اس بحری دستے میں ببر، خیبر، بدر، عالمگیر، ٹیپو سلطان، جہانگیر اور شاہ جہاں شامل تھے۔ عالمگیر کے کمانڈنگ افسر اقبال فضل قادر کے مطابق پاکستانی بیڑے کو حکم ملا تھا کہ رات کی تاریکی میں دوارکا کے ریڈیو بیکن کو نشانہ بنایا جائے۔ دشمن کو اپنی موجودگی کا بروقت علم نہ ہونے دینے کے لیے پاکستانی جہاز ابتدا میں بمبئی کی سمت بڑھے اور سورج غروب ہونے کے بعد اپنا رخ تبدیل کرکے دوارکا کی جانب مقررہ فائرنگ پوزیشن سنبھال لی۔

رات 12 بج کر 25 منٹ پر پاکستانی بحری بیڑہ دوارکا سے تقریباً سات میل کے فاصلے پر پہنچا اور گولا باری کا آغاز ہوا۔ اقبال فضل قادر کے مطابق پوری کارروائی صرف چار منٹ میں مکمل ہوگئی۔ گولے ہدف کے علاقے میں گرتے رہے اور ساحل سے ہونے والی فائرنگ کو بھی جلد خاموش کرا دیا گیا۔ ان کے مطابق اصل ہدف ایک متحرک فضائی بیکن تھا، تاہم عالمگیر سے ریلوے کے مارشلنگ یارڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں بعد کے بھارتی ریکارڈ میں ایک عمارت اور ریلوے کے ذخیرے کو نقصان پہنچنے کا ذکر ملتا ہے۔

کارروائی کے فوراً بعد پاکستانی جہازوں کو بھارتی فضائی ردعمل کا خدشہ تھا۔ اقبال فضل کے مطابق تین جہازوں نے ریڈار پر مشرق کی سمت سے آنے والے طیاروں کی موجودگی محسوس کی، لیکن نچلے بادلوں کے باعث وہ مؤثر کارروائی نہ کرسکے۔ کچھ دیر بعد موسم صاف ہوا تو ایک طیارہ پاکستانی جہاز کے قریب پہنچا، تاہم عالمگیر کی توپ کے عملے نے بغیر کسی باقاعدہ حکم کا انتظار کیے اسے نشانہ بنایا۔ اقبال فضل کے مطابق دوسری گولی میں طیارہ مار گرایا گیا۔

دوارکا پر حملے کی اہمیت صرف چند منٹ کی گولا باری تک محدود نہیں تھی۔ اس کارروائی کے پیچھے ایک وسیع تر بحری حکمتِ عملی موجود تھی۔ پاکستان کی واحد آبدوز پی این ایس غازی پہلے ہی بھارتی ساحل کے قریب اپنی پوزیشن سنبھال چکی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ دوارکا پر حملے سے بھارتی بحریہ کے بڑے جنگی جہازوں کو ممبئی سے باہر نکلنے پر مجبور کیا جائے تاکہ غازی انہیں نشانہ بنا سکے۔

1965 میں دونوں ممالک کی بحری طاقت میں واضح فرق تھا۔ پاکستان کے پاس ایک کروزر، سات ڈسٹرائرز اور فریگیٹس اور ایک آبدوز تھی، جبکہ بھارتی بحریہ کے پاس ایک طیارہ بردار جہاز، دو کروزر اور 19 ڈسٹرائرز و فریگیٹس موجود تھے۔ ایسے میں پاکستانی حکمتِ عملی یہ تھی کہ عددی برتری رکھنے والے بھارتی بحری بیڑے کو اپنی شرائط پر کھلے سمندر میں مقابلے کا موقع نہ دیا جائے۔

دوارکا پر حملے کے بعد بھارتی بحریہ میں تشویش پیدا ہوئی اور اس معاملے پر پارلیمان میں بھی سوالات اٹھائے گئے کہ بحریہ کہاں تھی اور کیا کر رہی تھی۔ بھارتی بحریہ کے سابق افسران کی تحریروں کے مطابق اس وقت اس کے کئی بڑے جنگی جہاز مرمت یا دوبارہ تیاری کے مرحلے میں تھے، جبکہ بحری بیڑے کا ایک بڑا حصہ خلیجِ بنگال میں موجود تھا۔ بعدازاں بھارتی بحری بیڑہ ممبئی کی جانب واپس روانہ ہوا اور پاکستانی بحریہ کے خلاف کارروائی کے لیے تیار کیا گیا۔

بھارتی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل جی ایم ہیرانندانی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ دوارکا پر حملے نے بھارت میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور بھارتی بحریہ کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق بھارتی بحری سربراہ ایڈمرل کوہلی نے بھی اپنی کتاب میں اعلیٰ بحری افسران کی تشویش اور شرمندگی کا ذکر کیا ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق دوارکا پر حملے کے بعد بحریہ کی جنگی حکمتِ عملی اور تیاریوں پر سوالات اٹھنے لگے۔

پاکستانی بحریہ کے لیے یہ کارروائی اس لیے بھی اہم تھی کہ اس نے محدود وسائل کے باوجود ایک بڑی بحری طاقت کے خلاف اچانک اور مربوط کارروائی کا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب جنگ کے آخری مرحلے میں پی این ایس غازی سے بھارتی بحری ہدف کو ٹارپیڈو سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا، جسے بھارتی جانب سے مسترد کیا گیا۔ اسی حوالے سے مضمون میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت کو اپنے بحری جہاز ذرائع ابلاغ کے سامنے لا کر اس کی تردید کرنا پڑی۔

آپریشن دوارکا 1965 کی جنگ میں پاکستان کی بحری حکمتِ عملی کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔ اس کارروائی نے یہ دکھایا کہ جنگ میں صرف جنگی جہازوں کی تعداد فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ معلومات، اچانک حملہ، ریڈیو خاموشی، درست وقت کا انتخاب اور دشمن کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوارکا کی چار منٹ کی گولا باری اسی حکمتِ عملی کی ایک ایسی مثال تھی جس کا اثر میدانِ جنگ سے زیادہ بھارتی بحریہ کی نفسیاتی اور دفاعی سوچ پر پڑا۔

Back to top button