پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو تقویت کیسے ملی؟

پاکستان میں نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کے حوالے سے جاری بحث کے پس منظر میں بنیادی سوال گورننس کا ہے۔ ملک کو درپیش بحران محض حکمرانی تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، جمہوری، آئینی، قانونی، عدالتی، انتظامی، انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور شہری آزادیوں سے متعلق مسائل نے بھی مجموعی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ موجودہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اصلاحات ممکن ہیں یا انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اپنے اپنے تحفظات ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کی تقسیم کے کسی بھی تصور کو قبول کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ اندرون سندھ سے بھی ممکنہ ردعمل سامنے آنے کی بات کی جا رہی ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے احتجاجی تحریک کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نئے انتظامی ڈھانچے کی بحث کو کسی نئے سیاسی بحران میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے اور اس معاملے پر وسیع اتفاقِ رائے کیسے پیدا کیا جائے۔

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق گورننس کے موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ناکامی بھی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومتیں اب بھی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات اضلاع اور مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کے بجائے مرکزیت پر مبنی نظام چلا رہی ہیں۔ مقامی حکومتوں کو مکمل اختیار دینے کے بجائے مختلف کمیٹیوں اور اتھارٹیز کے ذریعے انتظامی معاملات چلانے سے نچلی سطح پر فیصلہ سازی اور عوامی سہولت کاری کا نظام کمزور ہوا ہے۔

صوبوں سے اضلاع کو مطلوبہ مالی وسائل منتقل نہ ہونے اور بااختیار بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی نے بھی عوامی مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے بڑے شہروں کے نظام کو اپنی ترجیحات کے مطابق نسبتاً مضبوط بنانے کی کوشش کی، جبکہ دور دراز علاقوں، چھوٹے شہروں اور قصبات کو وہ توجہ نہ مل سکی جس کی انہیں ضرورت تھی۔ نتیجتاً محرومی کا احساس بڑھا اور انتظامی اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔

یہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی خودمختاری فراہم کرتیں تو نئے صوبوں کی بحث شاید اس شدت سے نہ ابھرتی۔ اس لیے اصل مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ایسا حکومتی نظام تشکیل دینا ہے جس میں فیصلے، وسائل اور اختیارات عوام کے قریب ہوں اور مقامی سطح پر جواب دہی بھی یقینی بنائی جاسکے۔

موجودہ صورتحال میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث اب آسانی سے واپس نہیں جائے گی۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی طریقۂ کار اور تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینے پر ہوگا۔ محض نقشے تبدیل کرنے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے سے گورننس کا بحران ختم نہیں ہوگا، جب تک اختیارات اور وسائل بھی نچلی سطح تک منتقل نہ کیے جائیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے نظام کی اصلاح، بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے مستقل حل کا ذریعہ بنایا جائے۔

Back to top button