بولرز کیلئے ’ڈراؤنا خواب‘ بننے والے اوپنر سعید انوراصل میں کون ہیں؟

کراچی سے تہران اور پھر واپس کراچی آنے والا وہ بچہ، جو کبھی فٹبال اور سکواش میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا، آگے چل کر پاکستان کرکٹ کا ایسا اوپننگ بلے باز بنا جس نے ون ڈے کرکٹ میں جارحانہ بیٹنگ کے انداز کو نئی سمت دی۔ سعید انور کی بیٹنگ میں وہ غیر معمولی دلکشی تھی جس نے انہیں اپنے دور کے عظیم ترین بلے بازوں کی صف میں کھڑا کیا۔ ان کی کلائیوں کی لچک، گیند کو غیر معمولی طور پر جلد پڑھ لینے کی صلاحیت اور بولر پر دباؤ واپس منتقل کرنے کا انداز انہیں دوسرے بلے بازوں سے منفرد بناتا تھا۔
سعید انور کی پیدائش کراچی میں ہوئی، تاہم ان کے والد انجینئر انور احمد کے ایران منتقل ہونے کے بعد وہ بھی بچپن کا ایک حصہ تہران میں رہے۔ نو برس کی عمر میں انہیں واپس کراچی بھیج دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ ان کا پہلا پسندیدہ کھیل نہیں تھا۔ وہ سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان سے متاثر تھے اور سکواش کے ساتھ ساتھ ٹیبل ٹینس بھی شوق سے کھیلتے رہے۔ یہی دونوں کھیل بعد میں ان کی بیٹنگ کی سب سے نمایاں خصوصیت، یعنی کلائیوں کی غیر معمولی قوت اور لچک، کا سبب بنے۔
سابق پاکستانی کوچ ہارون رشید نے انہیں پہلی بار 1987 کے ایک انڈر 19 ٹورنامنٹ میں دیکھا اور اسی وقت محسوس کیا کہ اس نوجوان میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سعید انور کے کٹ اور مڈ وکٹ کے شاٹس میں ایسا فلیئر نظر آتا تھا جو انہیں دوسرے کھلاڑیوں سے ممتاز کرتا تھا۔ بعد میں ملیر جمخانہ میں کھیلتے ہوئے سعید انور نے ابتدا میں لیفٹ آرم اسپنر کے طور پر کھیلنا شروع کیا اور بیٹنگ میں آٹھویں یا نویں نمبر پر آتے تھے، مگر راشد لطیف کی ٹینس بال پر ٹیپ لپیٹ کر کی جانے والی بولنگ نے ان کی بیٹنگ کی صلاحیت کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سعید انور نے کمپیوٹر سسٹمز انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی اور گریجویشن کے بعد ماسٹرز کے لیے امریکہ جانے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، لیکن کرکٹ سے وابستگی نے انہیں یہ فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیا۔ یو بی ایل کی ٹیم میں ہارون رشید کی نگرانی میں انہیں اعلیٰ معیار کا تربیتی ماحول ملا، جہاں فٹنس، تکنیک اور مسلسل مشق پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ آف اسپن کے عظیم پاکستانی بولر ثقلین مشتاق کے مطابق سعید انور کا ٹیلنٹ قدرتی تھا، مگر وہ تربیت میں بھی کسی قسم کی نرمی کے قائل نہیں تھے اور میچ کی سختی کے لیے خود کو مسلسل تیار کرتے تھے۔
1990 میں عمران خان نے انہیں ون ڈے ٹیم میں شامل کیا۔ اس وقت پاکستان کے لیے اننگز کا آغاز کرنے والے بلے باز عموماً نسبتاً محتاط انداز اپناتے تھے، لیکن سعید انور نے آتے ہی اس روایت کو بدلنا شروع کردیا۔ ان کی ابتدائی اننگز میں بھی جارحیت نمایاں تھی اور ان کا اسٹرائیک ریٹ اپنے ہم عصر اوپنرز کے مقابلے میں کہیں بہتر تھا۔ ان کا اعتماد اس قدر بلند تھا کہ ایک مرتبہ ولز کپ کے فائنل میں جب پاکستان کی ٹیم مطلوبہ رن ریٹ کے دباؤ میں تھی تو انہوں نے ہارون رشید کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ وسیم اکرم کو بھی چھکے مار سکتے ہیں، اور پھر میدان میں اس دعوے کو اپنی بیٹنگ سے ثابت بھی کردیا۔
سعید انور کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑے سے بڑے بولر کے خلاف دباؤ میں نہیں آتے تھے۔ وسیم اکرم، شین وارن، مرلی دھرن یا کسی بھی عالمی معیار کے بولر کے سامنے ان کا انداز تبدیل نہیں ہوتا تھا۔ ثقلین مشتاق کے مطابق سعید انور بولر کے ہاتھ سے ہی گیند کی سمت، رفتار اور اسپن کو بھانپ لیتے تھے اور اسی بنیاد پر شاٹ کا انتخاب کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کے بہترین اسپنرز بھی ان کے خلاف اکثر بے بس دکھائی دیتے تھے۔
انگلینڈ کے خلاف اوول میں ان کی 176 رنز کی شاندار اننگز نے عالمی کرکٹ میں ان کی شہرت کو مزید مستحکم کیا۔ اس اننگز کے بعد انہیں بولرز کے لیے ’ڈراؤنا خواب‘ قرار دیا گیا، جبکہ وزڈن نے بھی انہیں اپنے دور کے نمایاں ترین کرکٹرز میں شمار کیا۔ تاہم سعید انور کے کرکٹ سفر کا سب سے یادگار باب 1997 میں بھارت کے خلاف چنئی میں کھیلی گئی وہ تاریخی 194 رنز کی اننگز تھی جس میں انہوں نے سر ویوین رچرڈز کا تیرہ سال پرانا ون ڈے ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ ریکارڈ 13 برس تک ون ڈے کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کے طور پر قائم رہا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سعید انور نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ انہوں نے صرف 55 ٹیسٹ میچ کھیلے، لیکن جنوبی افریقہ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے مشکل ممالک میں ان کی مجموعی بیٹنگ اوسط تقریباً 40 کے قریب رہی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں 118 رنز کی اننگز پاکستان کی وہاں پہلی ٹیسٹ فتح کا حصہ بنی، جبکہ 1999 میں کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں بھارت کے خلاف ان کی شاندار اننگز نے بھی پاکستان کو تاریخی کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم سعید انور کا کیریئر مسلسل انجریز سے متاثر ہوتا رہا۔ گھٹنے کی تکلیف کے باوجود انہوں نے طویل عرصے تک کھیل جاری رکھا، یہاں تک کہ سرجری کی ضرورت پڑی۔ واپسی کے بعد شارجہ میں ایک اننگز کے دوران ان کی کلائی بھی فریکچر ہوگئی۔ 1991 سے 1993 کے درمیان وہ صرف پانچ ون ڈے میچ کھیل سکے، مگر واپسی پر انہوں نے مسلسل تین سنچریاں بنا کر اپنی غیر معمولی صلاحیت کا ایک بار پھر ثبوت دیا۔
سعید انور کے کیریئر کا سب سے بڑا موڑ تاہم میدان سے باہر آنے والا ایک ذاتی سانحہ تھا۔ اپنی کم عمر بیٹی کی اچانک وفات نے ان کی زندگی اور سوچ کو گہرا متاثر کیا۔ وہ کئی ماہ کرکٹ سے دور رہے اور جب واپس آئے تو ان کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی آچکی تھی۔ ان کے مذہبی رجحان میں اضافے کے بعد بعض ناقدین نے ان کی کرکٹ میں آنے والی ناکامیوں کو بھی اسی تبدیلی سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم سعید انور نے اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت واضح کیا کہ وہ مزید دو سال تک پاکستان کے لیے کھیل سکتے تھے مگر انہیں محسوس کروایا گیا کہ اب ٹیم کو ان کی ضرورت نہیں رہی۔
ان کی آخری بڑی اننگز 2003 کے عالمی کپ میں بھارت کے خلاف آئی، جہاں انہوں نے سنچری بنائی، اگرچہ پاکستان وہ میچ ہار گیا۔ اس کے بعد سعید انور کا بین الاقوامی کرکٹ سفر تقریباً اختتام پذیر ہوگیا۔ انہوں نے بعد میں واضح کیا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کمنٹری یا کرکٹ سے وابستہ کسی اور کردار میں آنے کے بجائے عمران خان کی طرح کرکٹ کی دنیا سے مکمل طور پر دور ہونا چاہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب 2010 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں چیف سلیکٹر بنانے کی پیشکش کی تو انہوں نے یہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سعید انور کا کہنا تھا کہ وہ خود کو اس عہدے کے ساتھ انصاف کرنے کے قابل نہیں سمجھتے۔ یوں ایک ایسا بلے باز جس نے کبھی دنیا کے بڑے بڑے بولرز کو اپنی بیٹنگ سے پریشان کیا تھا، آہستہ آہستہ کرکٹ کے منظرنامے سے مکمل طور پر غائب ہوگیا۔
سعید انور کے کیریئر کو صرف رنز، سنچریوں یا ریکارڈز سے بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کی اصل پہچان وہ بیٹنگ تھی جس میں طاقت کے بجائے ٹائمنگ، رفتار کے بجائے ردعمل اور روایتی فٹ ورک کے بجائے غیر معمولی کلائیوں کا جادو دکھائی دیتا تھا۔ عمران خان نے انہیں برائن لارا اور سچن ٹنڈولکر جیسے عظیم بلے بازوں کے ہم پلہ قرار دیا، جبکہ ان کے ساتھیوں کے مطابق سعید انور کو کھیلتے دیکھ کر کرکٹ ایک آسان کھیل محسوس ہوتی تھی۔
شاید اسی لیے سعید انور آج بھی پاکستانی کرکٹ کی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہیں محض اعدادوشمار سے نہیں بلکہ ان کے کھیل کی جمالیات، بے خوف انداز اور غیر معمولی فطری صلاحیت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جس انداز سے ون ڈے اوپننگ کو جارحانہ اور دلکش بنایا، وہ بعد میں آنے والی کئی نسلوں کے اوپنرز کے لیے راستہ بنا۔ اور پھر، عمران خان کی طرح، انہوں نے کرکٹ سے رخصت ہوتے وقت پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے واقعی اس دنیا سے فاصلہ اختیار کرلیا۔
