عسکری ادارے میں ترقیاں و تبدیلیاں اور "کاکڑ فارمولا”

تحریر: نصرت جاوید

بطور صحافی یہ حقیقت دریافت کرنے میں اپنے کیریئر کے دس سے زیادہ برس لگادیے کہ آرمی چیف کی تعیناتی اور مدتِ ملازمت میں توسیع سمیت عسکری اداروں میں ترقیاں اور مختلف عہدوں پر تقرریوں کے بارے میں ’’بریکنگ نیوز‘‘ دینے میں سبقت لے جانے سے آپ پھنے خان رپورٹر نہیں بن جاتے۔ اس حوالے سے دی گئی خبروں پر اِتراتے ہوئے پھرنا کم ظرفی ہے۔ اصولی طورپر کامل توجہ اس امر پر مرکوز رکھنا چاہیے کہ مختلف ادوار کی عسکری اشرافیہ کے قومی امور کے بارے میں بطور ادارہ ترجیحات کیا ہیں۔ سیاست دان ان پر عملدرآمد تو کیا انہیں اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ بھی سوچنا ہوتا ہے کہ سیاستدان اگر ادارے کی ترجیحات پر عمل پیرائی کو رضا مند نہ ہوں تو مزاحمتی رویہ کس حد تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مذکورہ تناظر میں بھی وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔
نواز شریف 1990ء کے انتخابات کی بدولت خلاف توقع پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر پہلی بار فائز ہوئے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹوکی پہلی حکومت کو اگست 1990ء کے مہینے میں گھر بھیجنے کے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم کو نگران وزیر اعظم تعینات کیا گیا تھا۔ صحافیوں کی بے پناہ اکثریت مصر تھی کہ نئے انتخاب کے نتائج آجانے کے بعد بھی وہ اس منصب پر قائم رہیں گے۔ مرحوم میرے ساتھ والد جیسی شفقت برتا کرتے تھے۔ بڑے دل کے مالک تھے اور میری تنقید کا ایک بار بھی برا نہ مانا۔ ان کے خلاف لکھے فقرے ان کے سامنے خطِ کشیدہ کے ذریعے نمایاں کرکے رکھے جاتے تو نظر انداز کردیتے۔
ان کی برتی غیر معمولی شفقت کے باوجود مجھے بطور رپورٹر اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں کے پھیرے لگاکر اندازہ ہوا کہ نواز شریف آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے قومی اسمبلی کی اکثریتی نشستیں بآسانی جیت جائیں گے۔ انہوں نے مطلوبہ ہدف حاصل کرلیا تو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے لئے انہیں وزیر اعظم کے منصب سے دور رکھنا سیاسی اعتبار سے بہت دشوار ہوجائے گا۔ انتخابی نتائج آگئے تو جتوئی صاحب کو حقائق کا انداز ہوا۔ وہ باعزت طریقے سے گھر جانے کو تیار تھے۔ کمال اظفر مگر ان کے طاقتور معاون ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے نواز شریف کے خلاف بے نظیر دور میں تیار ہوئی فائلوں کو منظر عام پر لانے کی گیم لگائی۔ مجھے وزیر اعظم کے دفتر بلواکر ان فائلوں کا ذکر کیا۔ میری خوش قسمتی کہ ان سے ملاقات کے بعد گھر لوٹنے کے لئے کارپارکنگ کی طرف بڑھ رہا تھا تو غلام مصطفیٰ کھر وزیر اعظم کے دفتر کے مرکزی دروازے سے خود کار چلاتے ہوئے اندر آتے دکھائی دیے۔ 1970ء کی دہائی سے ان سے شناسائی تھی جو صحافت کی بدولت تقریباََ دوستی کی شکل اختیار کرنے لگی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے گاڑی روکی۔ اس کی چابی دروازے کے قریب کھڑے اہلکار کو پارکنگ کے لئے دی اور پیدل چلتے ہوئے مجھ سے وزیر اعظم کے دفتر آنے کی وجہ معلوم کرنا شروع ہوگئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں جتوئی صاحب سے ملنے نہیں آیا تھا۔ کمال اظفر صا حب کے فون کے بعد ان سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ نواز شریف کے خلاف مبینہ کرپشن کی کچھ فائلوں کا ذکر کررہے تھے۔ کھر صاحب نے نہایت ناگواری سے کمال اظفر کے بارے میں سخت جملے کہے اور صاف الفاظ میں بتادیا کہ وہ صدر اسحاق سے ملاقات کے بعد سیدھا وزیر اعظم کے دفتر آئے ہیں۔ ’’مجھے (غلام) مصطفیٰ (جتوئی) سے مل کر یہ بتانا ہے کہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے لئے نامزد کرنے کافیصلہ ہوچکا ہے۔‘‘۔ ان سے گفتگو کے بعد میں نے ’’دی نیشن‘‘ کے لئے نوازشریف کی بطور وزیر اعظم نامزدگی کی خبر لکھ ڈالی اور ’’باوثوق ذرائع‘‘ سے منسوب کرکے غلام مصطفیٰ کھر کی پیغام رسانی کا ذکر بھی کردیا۔
اگست 1991ء میں مرزا اسلم بیگ کی بطور آرمی چیف تین سالہ مدت ملازمت مکمل ہوناتھی۔ اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں میں اس برس کا آغاز ہوتے ہی سرگوشیاں شروع ہوگئیں کہ نواز شریف بیگ صاحب کو توسیع دینے کو تیار نہیں ہیں۔ آرمی چیف اور نواز شریف کے مابین بدگمانیاں بڑھنا شروع ہوگئیں تو لوگ نواز حکومت کے بارے میں ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ کا ماحول بنانا شروع ہوگئے۔ مذکورہ تاثر کو دور کرنے کے لئے نواز شریف نے خوشاب سے منتخب ہوئے ملک نعیم جیسے قریبی وزراء￿ جن میں چوہدری نثار علی خان بھی شامل تھے ’’ترپ کا پتہ‘‘ کھیلنے کا منصوبہ تیار کیا۔ ملک نعیم نے اشاروں کنایوں میں مجھ سے تنہائی میں اس کا ذکر کردیا۔ میرے کان کھڑے ہوگئے اور رپورٹر کی مشقت سے بالآخر معلوم کرلیا کہ صدر غلام اسحاق خان کو رضا مند کیا جارہا ہے کہ وہ مرزا اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ان کے جانشین کو نامزد کردیں۔ اس حوالے سے قرعہ فال آصف نواز جنجوعہ مرحوم کے حق میں نکلا۔ میں دیوانوں کی طرح اس خبر کا خاموشی سے تعاقب کرتا رہا۔ بالآخر یہ خبر پھوڑ کر شہرت کمائی کہ 11جون 1991ء کے روز نئے آرمی چیف کو تعیناتی سے تین ماہ قبل نامزد کردیا جائے گا۔ میری خبر درست ثابت ہوئی اور میں اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں اور سفارتی تقاریب میں پھنے خان صحافی کی شہرت سے لطف اندوز ہوتا رہا۔
تین ماہ قبل آصف نواز جنجوعہ مرحوم کو نامزد کروالینے کے باوجود نواز شریف کے ان سے تقرری کے چند ہی ماہ بعد اختلافات شروع ہوگئے۔ مرحوم آرمی چیف نامزد ہونے کے وقت کراچی کے کور کمانڈر رہے تھے۔ وہاں تعیناتی کے دوران پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مابین خانہ جنگی جیسے ماحول کے مشاہدے کے بعد اسے حل کرنے کو بے تاب تھے۔ ایم کیو ایم مگر نواز شریف کی اتحادی جماعت تھی۔ جام صادق علی مرحوم کی وجہ سے نواز حکومت کو سندھ میں آسانیاں بھی میسر تھیں۔ جام صادق کی وفات کے بعد مگر صورتحال بدل گئی اور نواز حکومت اپنی بقاء کے لئے ایم کیو ایم کی محتاج محسوس ہونا شروع ہوگئی۔ اس کے باوجود مرحوم آصف نواز جنجوعہ کی خواہش پر سندھ میں ’’ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن‘‘ کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں اس کی تپش کراچی میں بھی زیادہ شدت سے محسوس ہونے لگی۔ ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کا آغاز ہوا۔ بدقسمتی سے آصف نواز مرحوم دل کے دورے سے وفات پاگئے۔ ان کی جگہ جنرل وحید کاکڑ کی تعیناتی ہوئی۔ کاکڑ صاحب کی تعیناتی بھی لیکن نواز شریف کے ادارے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانہ پائی۔ بالآخر ’’کاکڑ فارمولے‘‘ کے تحت غلام اسحاق خان اور نواز شریف کو استعفے دے کر 1993ء کے انتخابات کی راہ بنانا پڑی۔ ان کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم کے منصب پر لوٹ آئیں۔
کاکڑ فارمولے کے اطلاق کے بعد بتدریج یہ سیکھنے کے قابل ہوا کہ عسکری ادارے میں ترقیوں اور تبادلوں پر ’’بریکنگ نیوز‘‘ کی تلاش وقت کا زیاں ہے۔ اصل توجہ یہ سمجھنے پر مرکوز رکھنا چاہیے کہ ایک مخصوص وقت میں عسکری اشرافیہ کی بطور ادارہ کونسی ترجیحات سرفہرست ہیں۔ اسی باعث جمعہ کے روز جاری ہوئے ایک نوٹی فکیشن کے بارے میں تبصرہ آرائی سے گریز اختیار کررکھا ہے۔ اس حوالے سے چسکے کی خواہش میں بھانت بھانت کے تبصرے سننے ہیں تو سوشل میڈیا سے رجوع فرمائیں۔

Back to top button