امریکہ ایران کشیدگی عروج پر،فوری معاہدے کے امکانات محدود کیوں؟

پاکستان اور قطر کی ثالثی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملوں اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی فوری معاہدے کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے حال ہی میں ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف نئی اور وسیع اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد یہ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں کہ دونوں فریق فوری طور پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے بجائے مزید دباؤ اور جوابی اقدامات کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ نئی پابندیوں اور دیگر اقدامات کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے والے حملے رکوانا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا راستہ کب اور کیسے نکلے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کے ساتھ جاری تنازع کی نوعیت سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے، لیکن ان کے بیانات نے صورتحال کو مکمل طور پر واضح کرنے کے بجائے امریکی ذرائع ابلاغ میں مختلف اور بعض اوقات متضاد ردعمل کو جنم دیا۔
خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ اپنے خاندانوں سے دور ایک ایسے تنازع کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس کے نتائج ابھی غیر یقینی ہیں۔ اس کے باوجود جے ڈی وینس نے موجودہ صورتحال کو جنگ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی۔ ان کے اس مؤقف نے بھی اس سوال کو جنم دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس تنازع کو کس نوعیت سے دیکھ رہی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے اس کی اصل حکمت عملی کیا ہے۔
جے ڈی وینس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ امریکی انتظامیہ کے مؤقف کو زیادہ واضح انداز میں پیش کریں گے، تاہم انہوں نے نہ تو توانائی کی قیمتوں میں کمی کے ممکنہ وقت کے بارے میں کوئی واضح بات کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ موجودہ تنازع کن شرائط اور کس طریقہ کار کے تحت ختم ہو سکتا ہے۔ ان بیانات سے یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقوں میں بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی طویل کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں ماہرین بھی اس سوال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع کا ممکنہ اختتام کس طرح ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر تحقیقی رکن جیسن کیمبل کے مطابق امریکی حکمت عملی اب بھی واضح نہیں۔ ان کے خیال میں واشنگٹن کو فوجی کارروائیوں سے جلد نتائج کی توقع تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب امریکہ فوجی اقدامات کے ساتھ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے بھی ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
جیسن کیمبل کے مطابق امریکی حکومت فی الحال موجودہ پالیسی جاری رکھنے پر مطمئن دکھائی دیتی ہے اور اسے امید ہے کہ نئی پابندیاں ایران کو نسبتاً کمزور پوزیشن میں لا کر مذاکرات پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ تاہم ان کے خیال میں ایران کسی بھی سمجھوتے کے بدلے اہم رعایتیں طلب کرے گا اور ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ان مطالبات کو قبول کرنا سیاسی طور پر آسان نہیں ہوگا۔
لندن میں قائم تحقیقی ادارے چیتھم ہاؤس کی ریسرچ ایسوسی ایٹ انیسہ بصیری تبریزی کے مطابق حالیہ فوجی حملوں سے ایران کی پالیسی میں فوری تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران معاشی دباؤ اور وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کے لیے پہلے ہی تیار دکھائی دیتا ہے اور غالب امکان ہے کہ وہ اپنی طرف سے محدود ردعمل جاری رکھے گا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
انیسہ بصیری تبریزی کے مطابق نئی امریکی پابندیاں ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں، لیکن فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ یہ معاشی دباؤ ایران کو اپنے بنیادی مؤقف یا مذاکرات سے متعلق حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا۔ ان کے مطابق ایران اس تنازع سے نکلنے کا راستہ ضرور تلاش کر رہا ہے، لیکن وہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے کسی رعایت یا پہلے سے موجود مفاہمتی فریم ورک کی بحالی کا انتظار کرے گا۔
دوسری جانب رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے محقق اور ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر نکولس ہوپٹن کا خیال ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیاں ایران کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کریں گی۔ ان کے مطابق اقتصادی پابندیوں کا اثر بھی محدود رہ سکتا ہے کیونکہ چین، روس اور بعض دوسرے ممالک امریکی پابندیوں کی مکمل حمایت نہیں کرتے۔
نکولس ہوپٹن کے مطابق ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اس صلاحیت کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تو اس کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کے نزدیک موجودہ بحران کو ختم کرنے کا بہترین راستہ فوجی دباؤ میں مزید اضافہ نہیں بلکہ مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی فریم ورک کے تحت دوبارہ مذاکرات شروع کرنا بحران کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جون میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے جس کا مقصد 60 دن کے اندر مستقل جنگ بندی اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم مقررہ مدت گزر چکی ہے اور مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔
نکولس ہوپٹن کے مطابق اگر واشنگٹن اسی سابقہ فریم ورک کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع کرتا ہے تو کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ ان کے خیال میں ایسا معاہدہ امریکہ کے لیے سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ تنازع کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مفاد میں بھی ہو سکتا ہے۔ طویل جنگ، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز میں مسلسل کشیدگی امریکی انتظامیہ کے لیے سیاسی اور معاشی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
نکولس ہوپٹن کے مطابق طویل مدت میں اگر ایران پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی آتی ہے اور ملک کے عالمی معیشت سے روابط دوبارہ بڑھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایران کے اندر بتدریج سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس عمل کے لیے وقت، صبر اور مستقل مزاجی درکار ہوگی۔
یوں موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ تعطل کی عکاسی کرتی ہے جہاں فوجی دباؤ، اقتصادی پابندیاں اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں، لیکن کوئی فریق فوری طور پر فیصلہ کن کامیابی حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ایران امریکی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن پابندیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش میں ہے۔
آخرکار اس بحران کا پائیدار حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہی تلاش کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر جون میں طے پانے والے جنگ بندی اور مفاہمتی فریم ورک کو دوبارہ فعال کیا جاتا ہے، ایران کو قابلِ قبول رعایتیں ملتی ہیں اور امریکہ اپنے مطالبات کو کسی قابلِ عمل معاہدے میں تبدیل کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو موجودہ طویل تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم فی الحال دونوں فریقوں کے سخت مؤقف کے باعث فوری معاہدے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والے دنوں میں فوجی دباؤ غالب آتا ہے یا سفارت کاری ایک بار پھر راستہ بناتی ہے۔
