محسن نقوی کے بیان کے بعد حکومت کا مستقبل خطرے میں کیوں؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام کی ناکامی کے پیش نظر چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں حکومتی مستقبل کے حوالے سے جو سوالات کھڑے ہوئے تھے، ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اگرچہ محسن نقوی نے بعد ازاں واضح کر دیا تھا کہ حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف بھی اپنا وقت پورا کریں گے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر داخلہ کے بعد کے مؤقف نے قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنے کے بجائے اس بحث کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
بی بی سی اردو کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا تھا کہ ’موجودہ نظام ڈھے چکا ہے‘۔ اس بیان نے ملکی سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی بحث کو جنم دیا اور سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ آخر حکومت کا حصہ سمجھے جانے والے ایک بااختیار وفاقی وزیر کو موجودہ نظام کے بارے میں اتنی سخت بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ رپورٹ کے مطابق محسن نقوی کو اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کے بیان کو محض ایک وفاقی وزیر کی ذاتی رائے کے طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا۔ سیاسی مبصرین نے اس کی تشریح یہ کی کہ شاید اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں سب کچھ معمول کے مطابق نہیں چل رہا اور حکومت کے اندر سے ہی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
محسن نقوی کے بیان کے اگلے ہی روز صورتحال کو اس وقت مزید اہمیت حاصل ہوئی جب فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں شدت پسندی کے حوالے سے ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران گڈ گورننس سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو بہتر گورننس کی طرف بڑھنا ہوگا اور اس سلسلے میں ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔
بی بی سی کے مطابق سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے صحافیوں نے ان دونوں بیانات کو اتفاق قرار دینے کے بجائے انہیں موجودہ سیاسی بندوبست کے بارے میں ایک اہم اشارہ قرار دیا۔ اس کے بعد صحافتی حلقوں میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ طور پر ’ایک پیج‘ پر نہ ہونے کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے حکومت کے مستقبل کے حوالے سے ڈیڈ لائنز تک کا ذکر کیا جانے لگا۔ اسی دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سامنے آیا، جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی اسیری کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی طرف سے ستمبر کے اواخر میں اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا۔
تاہم اسی دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک نیا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی اور وزیراعظم شہباز شریف بھی بطور وزیراعظم اپنا وقت مکمل کریں گے۔
وزیر داخلہ نے اپنے پہلے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے، تاہم ان کا اشارہ موجودہ حکومت کی طرف نہیں بلکہ گزشتہ 80 برس سے چلے آنے والے نظام کی طرف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ نظام درست طور پر کام کر رہا ہوتا تو پاکستان آج بہت آگے پہنچ چکا ہوتا۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ انہوں نے اپنی ہی حکومت کو چارج شیٹ کیا ہے۔ محسن نقوی کے مطابق وہ خود حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت کو چارج شیٹ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف 14 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں اور اگر نظام کی خامیاں دور کر دی جائیں تو ملک کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ کسی طرح ان کے اور وزیراعظم کے تعلقات خراب ہو جائیں، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ محسن نقوی کے ’نظام ڈھے چکا ہے‘ کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر محسن نقوی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایسے معاملات کے لیے پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کریں۔ خواجہ آصف نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز اپنی وزارت سے کیا جائے۔
بعد ازاں ایسی خبریں سامنے آئیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی کی سینیئر قیادت کو محسن نقوی کے بیان کو نظرانداز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے محسن نقوی کے تازہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ خود اپنے بیانات کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے ہیں۔
فواد چوہدری کے مطابق ایک طرف محسن نقوی کہہ رہے ہیں کہ نظام ڈھے چکا ہے، دوسری طرف وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی اور شہباز شریف اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وزیر داخلہ نے ایک اہم بات کی ہے تو انہیں اس پر قائم بھی رہنا چاہیے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ماجد نظامی نے محسن نقوی کے تازہ بیان کو ایک روایتی سیاسی بیان قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گزشتہ دو سے ڈھائی دہائیوں کے دوران اس نوعیت کے دعوے متعدد مرتبہ سامنے آتے رہے ہیں، لیکن عملی صورتحال مختلف رہی ہے۔
ماجد نظامی نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت سے پہلے اور اس دوران بھی حکومتوں کی مدت پوری ہونے اور سیاسی استحکام کے حوالے سے بڑے دعوے کیے جاتے رہے۔ انہوں نے ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز اور دیگر وزرائے اعظم کے ادوار کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تاریخ میں بارہا ایسے دعوے سامنے آئے لیکن وزیراعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں کسی بھی قومی اسمبلی کے اندر ایک بھی وزیراعظم اپنی مکمل آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ شوکت عزیز اور ظفر اللہ جمالی کے بعد یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور پھر عمران خان کے ادوار میں وزرائے اعظم تبدیل ہوتے رہے، جبکہ موجودہ پارلیمانی دور میں شہباز شریف بھی دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔
ماجد نظامی کے مطابق اس تاریخی پس منظر میں شہباز شریف کا اپنی موجودہ مدت مکمل کرنا ایک ’سیاسی معجزہ‘ ہوگا۔ تجزیہ کار عارفہ نور نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا کہ محسن نقوی کے تازہ بیان سے حکومت کے مستقبل کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق انتخابات کے بعد سے ہی حکومت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود رہی ہے، جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ انتخابات کا طریقہ کار، اس کے بعد بننے والی اتحادی حکومت، معاشی مشکلات اور ملک کی سیاسی تاریخ، سب اس غیر یقینی صورتحال میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی کا ایک طرف حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے کی بات کرنا اور دوسری جانب یہ کہنا کہ نظام درست طریقے سے نہیں چل رہا، سیاسی طور پر ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے۔
سینئیر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق اگر نظام درست نہیں چل رہا تو پاکستان کی سیاسی روایت میں بالآخر اس کی ذمہ داری سیاسی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے محسن نقوی کا تازہ بیان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ممکنہ طور پر موجود توقعات کے فرق کے بارے میں بحث کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ تاہم صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے محسن نقوی کے دونوں بیانات میں کوئی بنیادی تضاد نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق ’نظام ڈھے چکا ہے‘ اور حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بیانات کو ایک دوسرے کی نفی نہیں سمجھنا چاہیے۔
فہد حسین کے مطابق محسن نقوی کے پہلے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ موجودہ گورننس اسٹرکچر مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں اسے حکومت کے خاتمے کا اشارہ سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا کہ حکومت کو ہٹانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ نہ کوئی متبادل سیاسی اتحاد واضح طور پر سامنے ہے اور نہ ہی ایسا کوئی سیاسی آپشن دکھائی دیتا ہے جس کے ذریعے موجودہ حکومت کی جگہ فوری طور پر کوئی نئی حکومت قائم کی جا سکے۔
فہد حسین کے مطابق حکومت کی کارکردگی پر سوالات ضرور موجود ہیں اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں گورننس کے ڈھانچے یا کابینہ میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں، لیکن اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔فہد حسین کے مطابق محسن نقوی کے ابتدائی بیان کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل سے یہ واضح تھا کہ حکمران اتحاد میں اس معاملے پر مکمل یکسانیت نہیں تھی۔
تاہم رانا ثنا اللہ کی جانب سے یہ کہنا کہ نواز شریف نے محسن نقوی کے بیان کو نظرانداز کرنے کی ہدایت کی ہے، اس بات کا اشارہ ضرور تھا کہ مسلم لیگ ن اس معاملے کو مزید طول نہیں دینا چاہتی۔ فہد حسین کے مطابق محسن نقوی کو عمومی طور پر اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کا ترجمان سمجھا جاتا ہے، اس لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں ایسی کشیدگی پیدا کرنے سے گریز کریں گی جس سے موجودہ سیاسی بندوبست یا ان کی اپنی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ اس دوران سیاسی رابطے اور مفاہمت کی کوششیں ہوئی ہوں، تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت اور حکمران اتحاد کے ٹوٹنے یا کسی بڑے سیاسی بحران کی طرف بڑھنے کے واضح آثار دکھائی نہیں دیتے۔
دوسری جانب ماجد نظامی کا تجزیہ اس سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کو محض مفاہمت کی کوشش قرار دینا درست نہیں ہوگا بلکہ مسلم لیگ ن کے لیے یہ ایک سیاسی مجبوری بھی ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن اس وقت مزاحمت کی پوزیشن میں نہیں اور اس کے پاس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بڑے تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی سیاسی گنجائش محدود ہے۔
