حفیظ اللہ نیازی کا عمران خان کو معاف کرنے کا اعلان

معروف لکھاری، تجزیہ کار اور عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ خان نیازی نے پاکستان کی خاطر عمران خان کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کا راستہ چاہئے لیکن حکومت اور عمران خان کے باہمی ٹکراؤ نے پاکستان کو روک رکھا ہے، لہٰذا خدا کے واسطے دونوں فریقین باہمی رنجشیں ختم کریں اور پاکستان کو آگے بڑھنے کا راستہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے بدترین سیاسی بحران سے دوچار ہے اور سیاسی بے تدبیری کی لگی آگ کو بجھانے کے لیے فوری طور پر مفاہمت، برداشت اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
حفیظ اللہ خان نیازی نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کیا۔ انہوں نے موجودہ ملکی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت کسی نئے سیاسی تنازع، محاذ آرائی یا تقسیم کی نہیں بلکہ ایسے راستے کی ضرورت ہے جو ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور قومی یکجہتی کی طرف لے جا سکے۔ نیازی کے مطابق مملکت خداداد میں آج سوال یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اقتدار پر کس کا قبضہ ہے یا سیاسی میدان میں کون غالب ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کیسے بچایا جائے اور اسے آگے بڑھنے کا راستہ کیسے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز آج اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی بحران سے نبرد آزما ہے جبکہ ان کے بقول بھارت کی سرپرستی میں پاکستان دشمن قوتیں کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داخلی انتشار اور سیاسی عدم استحکام کے ذریعے اپنے مذموم عزائم آگے بڑھا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے بحرانوں میں گھری ریاست کو نت نئی مشکلات اور بحرانوں نے ہلکان کر رکھا ہے، مگر اس کے باوجود ملک کی سیاسی قیادت اور حکمران طبقہ زمینی حقائق کو سمجھنے کے بجائے قوم کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ ان کے مطابق ریاست کی بنیادی ذمہ داری 25 کروڑ عوام کی جان، مال، عزت اور آبرو کا تحفظ ہے، لیکن افسوس کہ عوام خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں اور ’’اپنی مدد آپ‘‘ کے اصول پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حفیظ اللہ نیازی نے حکمرانوں کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکمران زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں اور دانستہ طور پر ایسا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جس کے ذریعے قوم کو ’’سب اچھا‘‘ کا یقین دلایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکمرانوں کا یہ بے حس طرز عمل ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ریاست اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہونا چاہئے، مگر آج برسراقتدار سیاستدان عوام الناس سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بقول بانی تحریک انصاف عمران خان کی مقبولیت کے چرچے کراچی سے گلگت بلتستان اور کشمیر تک سنائی دے رہے ہیں، لیکن اس مقبولیت کو محض کسی ’’کرشماتی کمال‘‘ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ نیازی نے عمران خان کی سابقہ حکومت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک عمران کے پونے چار سالہ دور حکومت میں کرپشن، نااہلی، معاشی بحران، دفاعی پسپائی اور سفارتی ناکامیوں کے ریکارڈ قائم ہوئے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا ہی تھا تو پھر عمران راتوں رات غیر مقبولیت سے مقبولیت کی ایسی منزل تک کیسے پہنچ گئے کہ آج وہ پاکستان کی سیاست میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں؟
انہوں نے سوال کیا کہ آخر مقبول رہنما کے پاس وہ کون سی ’’گیدڑ سنگھی‘‘ تھی جس کے باعث اس کی غیر مقبولیت اچانک مقبولیت میں تبدیل ہوگئی اور اس نے ملکی سیاست میں تقریباً بلاشرکت غیرے سیاسی ملکیت حاصل کرلی۔ انہوں نے ریاست کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریاستیں محض سرحدوں، عمارتوں، ہتھیاروں یا سرکاری دفاتر سے قائم نہیں رہتیں بلکہ عوام کی اجتماعی آواز کو ریاستی نظم و نسق کی بنیاد بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت کا بنیادی مفہوم ہی جمہور کی آواز ہے، جبکہ ریاست کے تین بنیادی ستون عوام، قومی وسائل اور ریاستی قوت ہیں۔ جب تک یہ تینوں باہم ہم آہنگ نہ ہوں، ریاست مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتی۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں عوام کا اعتماد متزلزل، سیاست محاذ آرائی کا شکار اور قومی ادارے عوامی تائید سے محروم دکھائی دیتے ہیں، اس لیے ریاست کا اندر سے کمزور ہونا فطری بات ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ ان کے بقول دنیا کی کوئی معیشت، کوئی خارجہ پالیسی اور کسی بھی نوعیت کی قومی سلامتی اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اس کے پیچھے عوامی اعتماد اور تائید موجود نہ ہو۔
انہوں نے موجودہ حکومتی سیاسی حیثیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج اقتدار جس جماعت کے پاس ہے، وہ عوام کی نظروں میں تکریم حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ عوام کسی اور سیاسی قیادت کے ’’رومانس‘‘ میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اور جس سیاسی مرکز کو وہ آنکھوں سے اوجھل سمجھتے ہیں، وہ ان کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔ حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ جب کروڑوں عوام کے سیاسی حق ملکیت سے انکار کیا جائے اور عوامی مینڈیٹ کے بجائے بند کمروں کے فیصلے حکومت یا سیاسی نظام کا تعین کریں تو وسائل کی فراوانی بھی ملک کی افراتفری ختم نہیں کرسکتی۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس وقت مفاہمت، برداشت اور قومی یکجہتی کی ضرورت تھی، لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز نئے سے نئے سیاسی تنازعات کے گرداب میں پھنستا جا رہا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی نے 16 دسمبر 1971ء کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب میں سیاسی بحران کا سیاسی حل تلاش نہ کرنا، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا اور مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی بنیادی عوامل میں شامل تھے۔ ان کے مطابق علیحدگی پسند تحریکیں خلا میں جنم نہیں لیتیں بلکہ انہیں سیاسی افراط و تفریط اور عوامی بے چینی سے زرخیز زمین میسر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس جب عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کا ووٹ بااختیار ہے، ان کی رائے قابل احترام ہے اور وہ حکومت میں برابر کے شراکت دار ہیں تو بیرونی مداخلت اور علیحدگی پسند بیانیے کو جگہ نہیں ملتی۔ ان کے بقول ریاست کا مضبوط دفاع صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے بھی ممکن ہوتا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ مستحکم ریاست کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے اور مستحکم سیاسی نظام متفقہ آئین کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ ان کے مطابق آئین کی بالادستی، آزاد، منصفانہ اور قابل فہم انتخابات اور عوام کے ووٹ کے مطابق اقتدار کی منتقلی ہی وہ عوامل ہیں جن سے عوام کا ریاست پر غیر متزلزل اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی محاذ آرائی ختم کرکے ایک میز پر بیٹھیں اور آئین و عوام کے فیصلے کو بنیاد بنا کر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام بانی تحریک انصاف عمران خان کی مقبولیت کے باعث ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ عوام اس سے کیوں ناراض ہیں اور کیا عوام کو منانے کی کوئی سنجیدہ سبیل پیدا نہیں کی جاسکتی۔
حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ عمران پر ان کا غصہ ذاتی نوعیت کا تھا اور ان کی ذات سے ناراضی بھی مملکت پاکستان سے محبت کی وجہ سے تھی۔ ان کے مطابق پاکستان کے عشق کے سامنے ان کی ذات ’’صفر بٹہ صفر‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کے طلب گار ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خود کسی دوسرے شخص کو معاف نہ کریں۔حفیظ اللہ نیازی نے اسی تناظر میں عمران خان سے اپنی رنجش ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کی خاطر آج میں عمران خان سے اپنی رنجش ختم کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنے ہم وطنوں سے بھی اپیل کی کہ پاکستان کی خاطر سب اپنی اپنی رنجشیں ختم کریں کیونکہ مملکت کے لیے سیاسی اور ذاتی رنجشیں جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔
انہوں نے حکومت اور عمران خان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کو آگے بڑھنے سے حکومت اور عمران خان کے باہمی ٹکراؤ نے روک رکھا ہے۔ انہوں نے اہل اقتدار اور حزب اختلاف دونوں سے اپیل کی کہ خدا کے واسطے باہمی لڑائی، رنجشیں اور محاذ آرائی ختم کریں، ملک کو آگے بڑھنے کا راستہ دیں اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو اپنی سیاسی ترجیحات پر مقدم رکھیں۔
