جنگ نہیں مذاکرات سے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی صدارت کے دو سال مکمل ہونے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کیے جاسکتے ہیں تو جنگ کیوں لڑی جائے؟ اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ کا سلسلہ جاری رہے، تاہم ایران مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا اور بات چیت کے ذریعے بعض پابندیوں میں بھی نرمی لائی گئی۔

مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ باقر قالیباف کو ایران کی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تھی جسے قبول کرلیا گیا۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول مذاکراتی ٹیم میں ہر ادارے کی نمائندگی اس بات کا اظہار ہے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان حقوق کا دفاع جاری رکھے گا جنہیں وہ اپنے حقوق سمجھتا ہے اور اپنی فوجی و دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں زبردستی جھکانے یا اطاعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم لڑیں گے، پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی سر جھکائیں گے۔ جب ہم اپنے حقوق حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر اس راستے پر کیوں چلیں جو اسرائیل کی خواہش ہے؟

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ بلااشتعال جارحیت کے دوران ایران کے فوجی ردِعمل کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے ملک کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا۔

 

کے پی، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، کیپٹن شہید

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمیں اپنے دفاع پر مجبور کیا گیا اور خدا کی قسم ہمارے جنگجوؤں، ایرو اسپیس فورسز، فوج، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور تمام فوجی اہلکاروں نے بھرپور دفاع کیا اور دنیا کو حیران کردیا۔

Back to top button