پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت احتجاجی منصوبے سے لاتعلق کیوں؟

ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی پنجاب قیادت خاموش ہے اور احتجاج کی ساری ذمہ داری خیبر پختونخوا چیپٹر پر آن پڑی ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ پلس احتجاج میں چند ہی روز باقی رہ گئے ہیں، لیکن پارٹی کے گرد سیاسی اور انتظامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عمران خان کی تینوں بہنیں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی 30،30 روز کے لیے نظربند کی جاچکی ہیں، کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تقریباً 1500 کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
لاہور میں علیمہ خان کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت 30 روز کے لیے نظربند کیے جانے کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کے خلاف بھی اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے۔ یہ کارروائیاں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل کی گئیں اور انتظامیہ نے امن و امان کے خدشات کو بنیاد بنایا ہے۔ تحریک انصاف نے ان اقدامات کو سیاسی دباؤ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ تینوں خواتین کی نظربندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع بھی کیا گیا ہے۔
یوں ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنیں ایک ہی وقت میں زیر حراست ہیں، جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود 27 ستمبر کا احتجاج مؤخر نہیں کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی پارٹی کے احتجاجی حق کو استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن اور آئین و قانون کے دائرے میں ہوگا۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ توجہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کے کردار پر مرکوز ہوگئی ہے۔ پارٹی کے پنجاب چیپٹر اور ارکان اسمبلی کو احتجاج کی تیاریوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی ہدایات دیے جانے کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آچکی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں پنجاب کے متعدد ارکان کی عملی سرگرمیاں نمایاں نہ ہونے کے باعث یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ آیا وہ گرفتاریوں کے خدشے کے باعث محتاط ہیں، احتجاجی حکمت عملی کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں یا پارٹی کی جانب سے انہیں واضح ذمہ داریاں تفویض نہیں کی گئیں۔
پارٹی کے اندر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق احتجاج کی تیاریوں، تنظیمی حکمت عملی اور وسائل کے حوالے سے ارکان کے تحفظات موجود ہیں۔ بعض ارکان کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کارکنوں کی نقل و حرکت، سفری اخراجات، پٹرول اور دیگر ضروریات کے لیے واضح انتظامی و مالی منصوبہ بندی کتنی مؤثر ہے۔ تاہم ان تحفظات کی نوعیت اور دائرہ کار کے بارے میں پارٹی کی جانب سے کوئی ایسی جامع تفصیل سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ پنجاب اسمبلی کی اکثریت 27 ستمبر کے احتجاج سے لاتعلق ہوگئی ہے۔ یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں پنجاب کے ارکان اسمبلی کو کارکنوں کے ساتھ میدان میں اترنے کی صورت میں گرفتاری یا قانونی کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ اور کارکن بھی حراست میں لیے جارہے ہیں، جبکہ حکومت ان اقدامات کو امن و امان برقرار رکھنے کے انتظامات قرار دیتی ہے۔
اسی دوران پارٹی کے پنجاب اسمبلی سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان کی جانب سے قانونی راستہ بھی اختیار کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں پارٹی کی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں بلکہ ان کا ایک حصہ قانونی محاذ پر منتقل ہوگیا ہے۔ ادھر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج برقرار ہے اور اس کی تفصیلی حکمت عملی 25 ستمبر کو سامنے لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دباؤ کے باوجود پارٹی اپنا احتجاجی حق استعمال کرے گی، جبکہ بیرسٹر گوہر نے آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے احتجاج کو پرامن رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ یوں اس وقت پارٹی کی جانب سے سب سے نمایاں سیاسی اور انتظامی سرگرمی خیبر پختونخوا سے دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث پنجاب چیپٹر کے کردار پر سوالات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے اپنا مؤقف سخت کردیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے 21 ستمبر کو تحریک انصاف کو احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے فیصلے پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور وفاقی دارالحکومت کو طویل عرصے تک بند رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تحریک انصاف کی قیادت کے اندر ہی لانگ مارچ کے حوالے سے اختلاف رائے موجود ہے، تاہم یہ حکومتی مؤقف ہے جس کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
پشاور سے PTI وزیر کے اغوا کے بعد دیگر وزرا انڈر گراؤنڈ
حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی انتظامات بھی تیز کردیئے گئے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر کنٹینرز رکھنے اور اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، جبکہ راولپنڈی میں بھی بعض پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف حفاظتی حراست کے احکامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات اس کے کارکنوں کو احتجاج سے روکنے کی کوشش ہیں۔
اس صورتحال میں اصل سوال یہ بن گیا ہے کہ پنجاب کے ارکان اسمبلی کی موجودہ خاموشی مستقل سیاسی فیصلہ ہے یا محض وقتی حکمت عملی۔
