بجلی کا نیا نظام لانے کے باوجود گھریلو صارف کو صفر ریلیف

وفاقی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے بجلی کے نظام کے تحت اب حکومت خود بجلی خرید کر صارفین کو فراہم کرنے کے بجائے بجلی پیدا کرنے والوں اور بڑے صارفین کے درمیان براہِ راست خرید و فروخت کا راستہ کھول رہی ہے، جہاں ایک مسابقتی طریقہ کار کے تحت بجلی کے خریدار اپنی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے والے اداروں کا انتخاب کر سکیں گے۔ تاہم عام گھریلو صارفین کو اس نئے نظام سے بجلی کے بلوں میں کوئی ریلیف نہیں ملے گا کیونکہ ابھی تک یہ سہولت صرف بڑے صنعتی صارفین کے لیے ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اس نئے نظام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے شعبے کو سنگل بائر ماڈل سے نکال کر مسابقتی مارکیٹ کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
اویس لغاری کے مطابق اس وقت عام صارفین تک پہنچنے والی بجلی پہلے حکومت خریدتی ہے اور پھر اپنے ترسیلی و تقسیمی نظام کے ذریعے صارفین تک پہنچاتی ہے، تاہم اب حکومت بجلی کی خریداری کے اس عمل سے باہر نکل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے کن شرائط پر بجلی خریدتی ہے، وہ مہنگی خریدی جاتی ہے یا سستی، اس حوالے سے صارفین کے ہمیشہ سوالات رہے ہیں، لیکن نئے نظام میں بجلی پیدا کرنے والے اور خریدنے والے براہِ راست معاہدے کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس مقصد کے لیے بجلی کی ایک مسابقتی منڈی قائم کی جا رہی ہے جہاں صارف اپنی ضرورت کے مطابق دستیاب بجلی میں سے سستی ترین بجلی خرید سکے گا۔ اویس لغاری نے بتایا کہ نئے نظام کا آغاز ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور بڑے صارفین سے کیا جائے گا، جبکہ آنے والے برسوں میں اس کا دائرہ کار عام صارفین تک بھی وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں 200 یا 400 یونٹ بجلی استعمال کرنے والا عام صارف بھی اس نظام کے فوائد سے مستفید ہو سکے گا، تاہم اس مرحلے تک پہنچنے میں ابھی چند سال لگ سکتے ہیں۔
اسی منصوبے کے تحت وفاقی حکومت نے 20 ستمبر کو پاکستان میں پہلی بار بجلی کی ویلنگ کی نیلامی کے لیے ریکوئسٹ فار پروپوزلز جاری کر دی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی مسابقتی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی، جبکہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کو اس مسابقتی نظام میں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس مسابقتی نظام کے مطابق اہل کاروباری اور صنعتی صارفین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے براہِ راست بجلی خرید سکیں گے۔ اس نظام میں بجلی خریدنے والا صارف اور بجلی پیدا کرنے والا ادارہ آپس میں معاہدہ کریں گے، جبکہ بجلی کی ترسیل کے لیے موجودہ قومی گرڈ اور تقسیم و ترسیل کا بنیادی ڈھانچہ استعمال کیا جائے گا۔
توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق اسے بجلی کے شعبے کو لبرلائز کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس نظام سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے بجلی کی قیمت کے ساتھ ویلنگ یا ترسیلی لاگت بھی اہم ہوگی۔
یعنی کسی صنعتی صارف کو بجلی کسی پیدا کرنے والی کمپنی سے براہِ راست سستی مل بھی جائے تو اسے بجلی اپنی فیکٹری تک پہنچانے کے لیے موجودہ حکومتی ترسیلی نظام کے استعمال کی قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق صرف بجلی کے پیداواری نرخ کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ نئے نظام کے تحت صارف کو مجموعی طور پر کتنی بچت ہوگی۔
ادھر اویس لغاری کا کہنا ہے کہ مسابقتی مارکیٹ کے نتیجے میں صنعتوں کو سستی بجلی دستیاب ہوگی، جس سے ان کی پیداواری لاگت کم اور عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت بہتر ہوگی۔ تاہم توانائی ماہرین کے مطابق موجودہ نظام میں کیپسٹی پیمنٹس، ترسیلی اخراجات اور دیگر شعبہ جاتی لاگت کی وجہ سے فوری طور پر بجلی کی قیمت میں بہت بڑی کمی کی توقع محتاط انداز میں کرنی چاہیے۔ نئے نظام کے پہلے مرحلے میں ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بڑے صنعتی صارفین اہل ہوں گے، جن میں ٹیکسٹائل، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور دیگر بڑی صنعتیں شامل ہیں۔ چھوٹی صنعتیں، تجارتی صارفین اور گھریلو صارفین فی الحال اس نظام کا حصہ نہیں ہوں گے، اس لیے ان کے بجلی کے بلوں پر اس اقدام کا فوری اثر متوقع نہیں ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتیں ڈبل ہونے کا خدشہ
یاد رہے کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ پہلے ہی گردشی قرضے، بجلی کی چوری و ترسیلی نقصانات، کیپسٹی پیمنٹس اور مہنگے پیداواری معاہدوں جیسے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے نئے نظام کا بنیادی مقصد بجلی کی خریداری کے موجودہ طریقہ کار میں مسابقت پیدا کرنا اور حکومت کے واحد خریدار کے کردار کو بتدریج ختم کرنا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق 800 میگاواٹ کی بجلی کو مرحلہ وار مسابقتی دوطرفہ معاہدوں میں منتقل کرنے کا عمل مسابقتی نیلامیوں کے ذریعے کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں بجلی کی خرید و فروخت کے موجودہ طریقہ کار میں مسابقت پیدا ہوگی۔
