انقلابی یوتھیوں کی دھلائی کے لیے 65 ہزار پولیس اہلکار تیار

 

 

 

وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کو پوری طاقت سے کچلنے اور انقلابی یوتھیوں کی دھلائی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں 65 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں جن کے لیے وفاقی دارالحکومت کے 24 بڑے تعلیمی اداروں سمیت 100 سے زیادہ عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔

 

باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کو روکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے، پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی پولیس نفری اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک منتقل ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، شہر میں تعینات پولیس فورس کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز اور 40 ایس پیز ذمہ داریاں انجام دیں گے جبکہ 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کو مختلف سیکٹرز اور سب سیکٹرز میں تعینات پولیس فورس کی نگرانی پر مامور کیا جائے گا۔

 

اسی طرح جڑواں شہر راولپنڈی میں 13 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے اہم ضلع اٹک میں 30 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد تینوں شہروں اور اہم داخلی راستوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 65 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔ سیکیورٹی حکام نے یوتھیوں کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے کنٹینرز بھی بڑی تعداد میں مختلف مقامات پر پہنچانا شروع کردیئے ہیں،۔ راولپنڈی پولیس کو ساڑھے تین سو کنٹینرز تحویل میں لینے کا ہدف دیا گیا تھا جبکہ جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں کے کناروں پر بڑی تعداد میں جہازی سائز کے کنٹینرز سٹینڈ بائی رکھے جا رہے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق اضافی سکیورٹی نفری کی رہائش کے لیے اسلام آباد میں 100 سے زائد عمارتوں کا سروے مکمل کیا گیا ہے، جن میں سپورٹس کمپلیکس، پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر اور مختلف تعلیمی ادارے شامل ہیں، جبکہ اضافی فورس کے قیام کے لیے شہر کے 24 بڑے تعلیمی اداروں کو چھٹیاں دے کر خالی کروایا جا رہا ہے۔ اضافی نفری کی رہائش کے لیے تعلیمی اداروں کو استعمال کرنے کا یہی طریقہ راولپنڈی اور اٹک میں بھی اختیار کیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے اضافی فورس کی رہائش کے انتظامات کے حوالے سے رپورٹس بھی اعلیٰ حکام کو پیش کردی گئی ہیں۔

 

دوسری جانب 27 ستمبر کے احتجاج کو روکنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانب سے گڈز ٹرانسپورٹرز کی بڑی تعداد میں گاڑیاں اور کنٹینرز تحویل میں لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری ایڈووکیٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے ایک ہزار سے زائد گاڑیاں اور کنٹینرز گزشتہ دو ہفتوں سے اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ اویس کے مطابق پولیس کی تحویل میں گاڑیوں اور کنٹینرز کو دارالحکومت کی بڑی سڑکوں اور اہم چوکوں کو بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

 

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کنٹینرائزڈ کارگو، فلیٹ بیڈ، اوپن باڈی، دس ویلر اور مزدا سمیت مختلف اقسام کی کمرشل گاڑیاں پکڑی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر گاڑیاں سامان سے لدی ہوئی ہیں اور انہیں مختلف چوکوں، چوراہوں اور اہم مقامات پر کھڑا کیا گیا ہے۔

لیکن صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے اس تاثر کی تردید کی کہ پولیس کی جانب سے تحویل میں لی گئی گاڑیوں کے مالکان کو یومیہ 20 ہزار روپے کرایہ ادا کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تاحال کسی ٹرانسپورٹر کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ اویس نے کہا کہ 2022 میں بھی احتجاج اور دھرنے روکنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں تحویل میں لی گئی تھیں لیکن تب بھی ٹرانسپورٹرز کو واجب الادا معاوضہ نہیں مل سکا، اسلیے موجودہ صورت حال میں بھی ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔

 

ادھر 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر راولپنڈی پولیس کے اہلکاروں کی چھٹیاں پہلے ہی منسوخ کی جاچکی ہیں جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی نفری کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل سکیورٹی انتظامات غیر معمولی سطح تک بڑھا دیے گئے ہیں۔

 

دوسری جانب تحریک انصاف کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے علیمہ خان کے بعد عمران خان کی دیگر دو بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی نظر بند کر دیا ہے۔  نورین نیازی اور عظمی خان کو 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا ہے، نورین نیازی اورعظمیٰ خان کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

PTIکے اراکین پنجاب اسمبلی منظر نامے سے غائب کیوں؟

ادھر محسن نقوی نے ایران روانگی سے پہلے لاہور میں ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یوتھیوں کی جانب سے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کی جا رہی ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی کوشش کرے گا اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم موجود ہے اس پر من و عن عمل درآمد کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا اب بھی وقت ہے کہ بند گلی میں نہ جائیں، ایسی جگہ نہ جائیں جہاں سے واپسی کا راستہ نہ ملے، انکا کہنا تھا کہ اس مرتبہ یہ نہیں ہوگا کہ آپ آئیں اور ملک 10 یا 20 دن کے لیے بند ہو جائے، اب اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

 

Back to top button