اسلام آباد کنٹینر سٹی بن گیا، شہری محصور ہو گئے

 

 

 

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں اور شہر نے ایک مرتبہ پھر ’کنٹینر سٹی‘ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اسلام آباد کی اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات کے اطراف کنٹینرز رکھے جانے کے باعث شہریوں کی معمول کی زندگی ایک بار پھر شدید متاثر ہونے لگی ہے۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کہاں سے آئے، انہیں کس بنیاد پر حاصل کیا گیا اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟

 

یاد رہے کہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرین کا راستہ روکنے کے لیے کنٹینرز کے استعمال کا سلسلہ نیا نہیں، اگست 2024 میں تحریک انصاف کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق نے بھی وفاقی دارالحکومت کو ’کنٹینر سٹی‘ قرار دیا تھا۔ یہ درخواست تب دائر کی گئی تھی جب انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو ڈی چوک پر احتجاج کے لیے جاری کیا گیا این او سی منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد میں احتجاجی راستوں کی بندش کے لیے بڑے پیمانے پر کنٹینرز لگانے کی روایت مزید نمایاں ہوئی۔ اب ایک بار پھر پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں کے کناروں پر سینکڑوں کنٹینرز پہنچا دیے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر سڑکوں پر منتقل کرکے راستے بند کیے جائیں گے۔

 

اس مرتبہ کنٹینرز کی تعداد زیادہ محسوس ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی ستمبر میں پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اسلام آباد کی جانب احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق اس وقت وفاقی دارالحکومت میں ایک ہزار سے زائد کنٹینرز مختلف شاہراہوں اور مقامات پر موجود ہیں، جن میں ریڈ زون کے اطراف رکھے گئے کنٹینرز بھی شامل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے اور مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے وزارت داخلہ سے مزید کنٹینرز کرائے پر حاصل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی واضح کر چکے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں کسی کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا کہ مظاہرین پولیا والوں کی لاشیں گراتے رہیں اور ہم لاشیں اٹھاتے رہیں۔ حکام کے مطابق جن اہم سرکاری عمارتوں کو 27 ستمبر سے پہلے فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی ان میں ریڈ زون، ڈپلومیٹک انکلیو، وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ شامل ہیں، ان تمام عمارتوں کو 27 ستمبر سے قبل کنٹینرز کی مدد سے مکمل طور پر محفوظ بنا دیا جائے گا۔

 

اس وقت اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر رکھے گئے خالی کنٹینرز میں ریت، مٹی اور دیگر تعمیراتی سامان بھرا جا رہا ہے تاکہ انہیں آسانی سے ہٹایا نہ جا سکے، جبکہ ریڈ زون اور خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو کے قریب بعض کنٹینرز کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ویلڈ بھی کیا جا رہا ہے۔

امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے پنجاب اور سندھ سے پندرہ ہزار سے زائد پولیس اہلکار بھی طلب کیے ہیں، جبکہ اٹک، حسن ابدال اور دیگر علاقوں میں پنجاب پولیس کو ممکنہ طور پر مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دیگر صوبوں سے آنے والی پولیس نفری کے عارضی قیام کے لیے سرکاری عمارتوں اور دستیاب جگہوں کو استعمال کرنے کی بات سامنے آئی ہے، تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، سکیورٹی اہلکاروں کو صرف ایسی عمارتوں میں عارضی طور پر ٹھہرایا جا رہا ہے جہاں جگہ دستیاب ہے۔

 

کنٹینرز کے اخراجات کے حوالے سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ابتدائی طور پر 40 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں، جبکہ اسلام آباد کی شاہراہوں پر رکھے گئے زیادہ تر کنٹینرز کرائے پر حاصل کیے گئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق 40 فٹ طویل کنٹینر کا یومیہ کرایہ 20 ہزار روپے جبکہ اس سے کم لمبے کنٹینر کا یومیہ کرایہ 10 ہزار روپے مقرر ہے اور احتجاج ختم ہونے کے بعد مالکان کو اتنے دنوں کا کرایہ ادا کیا جائے گا جتنے دن کنٹینرز سرکاری استعمال میں رہیں گے۔ تاہم آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے حکومتی مؤقف کے برعکس دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ اب تک ان کے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز قبضے میں لے چکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں بشمول منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ سے بھی سینکڑوں کنٹینرز منگوائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض کنٹینرز کے ڈرائیوروں کے لائسنس اور گاڑیوں کے کاغذات بھی پولیس کے پاس موجود ہیں، جس کے باعث ڈرائیور انہیں چھوڑ کر واپس نہیں جا سکتے۔

 

اویس چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج اور دھرنوں کے موقع پر ان کی تنظیم یا کنٹینرز کے مالکان کو کرایہ ادا نہیں کیا گیا۔ انکے مطابق 2022 کے احتجاج کے بعد ضلعی انتظامیہ نے کنٹینرز کے ڈرائیوروں کو لائسنس اور گاڑیوں کے کاغذات تو واپس کر دیے تھے لیکن مالکان کو کوئی رقم بطور معاوضہ ادا نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن نے اب انتظامیہ اور پولیس سے رابطہ کرکے مطالبہ کیا ہے کہ کنٹینرز کا باقاعدہ اندراج کیا جائے اور ان کے استعمال کے عوض ادائیگی کا طریقہ کار طے کیا جائے۔

انقلابی یوتھیوں کی دھلائی کے لیے 65 ہزار پولیس اہلکار تیار

تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کنٹینرز کے مالکان کو ادائیگی نہ کیے جانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے کنٹینرز کے حصول کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کر رکھا ہے اور مالکان یا متعلقہ ایسوسی ایشن سے کنٹینرز لیے جاتے ہیں، جن کے عوض کرایہ ادا کیا جاتا ہے، جبکہ کنٹینرز کب حاصل کیے جائیں گے اور کب واپس کیے جائیں گے، اسکا بھی باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات کا حجم بھی خاصا نمایاں ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران اسلام آباد میں احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں سے نمٹنے کے لیے ایک ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے، احتجاجی سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حمل، خوراک و رہائش کے ساتھ سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز کے استعمال کے اخراجات بھی شامل رہے ہیں۔ یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل اسلام آباد میں ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی موجودگی نے نہ صرف شہر کو دوبارہ ’کنٹینر سٹی‘ بنا دیا ہے بلکہ اس سوال کو بھی نمایاں کر دیا ہے کہ احتجاج روکنے کے لیے ہر بار کیے جانے والے ان انتظامات کا حتمی مالی بوجھ قومی خزانے پر کس حد تک پڑتا ہے۔

 

 

Back to top button