پشاور سے PTI وزیر کے اغوا کے بعد دیگر وزرا انڈر گراؤنڈ

 

 

 

پشاور سے دن دیہاڑے نقاب پوشوں کے ہاتھوں خیبر پختون خواہ اسمبلی کے وزیر فضل شکور خان کے اغوا کے بعد تحریک انصاف کا مجوزہ لانگ مارچ کامیاب بنانے کے لیے کوشاں منتخب اراکین اسمبلی، خصوصا وزرا نے انڈر گراؤنڈ جانا شروع کر دیا ہے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ فضل شکور کو کالے لباس میں ملبوس جن نقاب پوشوں نے دن دہاڑے سڑک سے اغوا کیا ہے ان کا تعلق خفیہ ایجنسیوں سے ہے اور اس حرکت کا مقصد 27 ستمبر کے احتجاج کو ناکام بنانا ہے۔

 

خیبر پختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو صوبائی دارالحکومت پشاور سے اغوا کیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ صوبائی وزیر کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اغوا کیا اور ان کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی تاکہ ٹائر پنکچر کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک ناکام ہو جائے گی تو ایسا نہیں ہوگا۔

 

اغوا ہونے والے فضل شکور خان کے سیکریٹری محمد عالم کے مطابق صوبائی وزیر چارسدہ سے پشاور پارلیمانی کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے اور ان کے ہمراہ ڈرائیور اور ایک گن مین بھی موجود تھا۔ ان کے مطابق پشاور موٹروے کے ٹول پلازہ پر نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی اور گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے بعد فضل شکور خان کو گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ ان کے مطابق نامعلوم افراد فضل شکور خان کے ڈرائیور اور گن مین کو بھی اپنے ساتھ کچھ فاصلے تک لے گئے تاہم بعدازاں انہیں چھوڑ دیا گیا، جبکہ صوبائی وزیر کو نامعلوم مقام کی جانب لے جایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یہ افراد کون تھے تاہم وہ کالے رنگ کی یونیفارم میں ملبوس تھے۔ فضل شکور خان کے سیکریٹری نے بتایا کہ واقعے کے خلاف تھانہ چمکنی میں مقدمے کے اندراج کی درخواست بھی دے دی گئی ہے۔

 

فضل شکور خان کے بھائی فضل محمود نے بتایا کہ وہ خود اس بات پر حیران ہیں کہ ان کے بھائی کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا۔ ان کے مطابق فضل شکور خان اپنی گاڑی میں ڈرائیور اور گن مین کے ساتھ چارسدہ سے پشاور آ رہے تھے جہاں انہیں پارلیمانی کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹول پلازہ پر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی اور فائرنگ کے بعد ان کے بھائی کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔

 

دوسری جانب تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ایک اور صوبائی وزیر شکیل احمد کو بھی اتوار کے روز اسی نوعیت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کے مطابق شکیل احمد کو روکنے کی کوشش کی گئی اور اس موقع پر فائرنگ بھی ہوئی، تاہم وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے دونوں واقعات کو صوبائی حکومت اور پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ فضل شکور خان اور شکیل احمد سے متعلق واقعات پر بحث کے لیے پیر کی شام خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سپیکر بابر سلیم سواتی نے اسمبلی کے عملے کو وہ ویڈیو چلانے کی ہدایت کی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کے موقع پر بنائی گئی تھی۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی نے دونوں واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے وضاحت طلب کی۔

 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج صوبائی کابینہ کے ارکان بھی محفوظ نہیں ہیں، ان پر حملے ہو رہے ہیں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد انہیں اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین دن سے خیبر پختونخوا میں کارروائیاں جاری ہیں، پہلے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے فلیکس اتارے، پھر ڈی آئی خان میں یوتھ کنونشن پر حملہ ہوا اور اب صوبائی وزرا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور جب کوئی سادہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر کسی کو پکڑنے آئے گا تو حق دفاع میں جوابی کارروائی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے آنے والا شخص یا افراد حملہ آور ہیں یا کسی سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے واقعات تحریک انصاف کو 27 ستمبر کے احتجاج سے نہیں روک سکتے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف پرامن تھی، پرامن ہے اور آئندہ بھی پرامن رہے گی اور پارٹی آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے 27 ستمبر کا احتجاج کرے گی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف کو اسلام آباد میں احتجاج یا سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کے باعث وفاقی دارالحکومت میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ صوبائی کابینہ کے رکن کے اغوا کے بعد دیگر اراکین اسمبلی خوفزدہ ہو گئے ہیں اور انہوں نے انڈر گراؤنڈ جانا شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلی سہیل افریدی نے اپنی کابینہ اور ممبران صوبائی اسمبلی کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ 27 ستمبر کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اپنے اپنے حلقوں سے پارٹی ورکرز کو لے کر اسلام اباد پہنچیں گے۔

انقلابی یوتھیوں کی دھلائی کے لیے 65 ہزار پولیس اہلکار تیار

اغوا ہونے والے صوبائی وزیر فضل شکور خان 2024 کے عام انتخابات میں چارسدہ سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس وقت صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ہیں۔ وہ 2008 سے اب تک مسلسل چار مرتبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ ادھر اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں تحریک انصاف کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ سپیکر کی اجازت کے بغیر کسی رکن اسمبلی کو گرفتار کرنا اسمبلی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

 

 

Back to top button