بلوچستان میں دوبارہ دہشت گردی بڑھنےکاخدشہ کیوں پیداہوگیا؟

گزشتہ کئی برسوں سے شورش اور دہشت گردی کی لپیٹ میں رہنے والے بلوچستان میں ایک بار پھر بدامنی نئی بلندیوں کو چھوتی دکھائی دیتی ہے۔ بلوچستان میں اے این پی کے جلسے میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کے بعد عوامی غم و غصہ احتجاجی مظاہروں کی صورت میں سامنے آیا تاہم احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی ریاسی پالیسی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بلوچستان میں احتجاج کی پاداش میں 60 افراد کی گرفتاری، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال نے نہ صرف عوامی غصے کو بڑھا دیا ہے بلکہ صوبے میں نئی شورش کی بھی بنیاد رکھ دی ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاستی جبر مسائل کا حل ہے یا یہ پالیسی بلوچستان میں بدامنی کو مزید ہوا دینے کا سبب بنے گی؟
خیال رہے کہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر واقع بلوچستان طویل عرصے سےدہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ یہاں داعش، تحریک طالبان پاکستا اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں سمیت مخلتف دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے حملے معمول بن چکے ہیں۔پاکستان کا قدرتی وسائل سے مالا مال سب سے بڑاصوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان انسانی ترقی کے اشاریوں پر سب سے پیچھے ہے۔ وسائل سے بھرپور اس خطے کے عوام تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے محرومی کا شکار ہیں۔ یہی محرومی، احساسِ بیگانگی اور مسلسل نظراندازی شورش کو جنم دیتی ہے جس کے بعد بلوچ نوجوان شدت پسندی کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان میں بدامنی ہر گزرت دن کے ساتھ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ خودکش حملے کیخلاف کئے جانے والے حالیہ احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے تشدد نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور بلوچ عوام میں نفرت کا ایک نیا بیج بو دیا ہے
مبصرین کے مطابق خودکش حملے کے بعد عوام کے غم و غصے کا اظہار فطری تھا۔ مظاہرین سڑکوں پر نکلے تاکہ اپنے دکھ، خوف اور مطالبات کو آواز دے سکیں۔ لیکن حکومت کی جانب سے ان نہتے مظاہرین کی آواز کو سننے کے بجائے ریاست نے طاقت کا استعمال کیا۔ مظاہرین کی گرفتاریوں اورپر تشدد ریاستی رد عمل نے عوامی زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید گہرا کر دیا ہے۔ جس عوام کے دلوں میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان کی آواز دبائی جا رہی ہے اور ان کے دکھ کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔
ناقدین کے مطابق بلوچستان پہلے ہی ایک حساس صوبہ ہے جہاں سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل نے ایک طویل عرصے سے شدت اختیار کر رکھی ہے۔ ایسے میں احتجاج کو دبانے کی پالیسی شورش کے شعلوں کو مزید بھڑکا سکتی ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا تو وہ مزید شدت پسند گروہوں کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں احتجاج سے بغاوت اور مطالبے سے مسلح مزاحمت میں تبدیلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ریاست کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ عوامی احتجاج کو دشمنی نہ سمجھے بلکہ اسے مسائل کے حل کا ایک موقع سمجھے۔ گرفتاریوں اور جبر کی پالیسی وقتی طور پر سڑکیں تو خالی کرا سکتی ہے لیکن یہ بلوچستان کے زخموں کو مندمل نہیں کر سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست مقامی قیادت اور عوامی نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر مکالمے کا راستہ اپنائے اور یہ یقین دلائے کہ عوام کے دکھ درد کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال وقتی سکون تو دے سکتا ہے مگر یہ سکون طوفان سے پہلے کی خاموشی میں بھی بدل سکتا ہے۔ اگر ریاست نے اپنے رویے کو تبدیل نہ کیا اور عوامی احتجاج کو دبانے کے بجائے سننے اور حل کرنے کی پالیسی نہ اپنائی تو بلوچستان میں شورش مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کا نقصان نہ صرف صوبے بلکہ پورے پاکستان کو اٹھانا پڑسکتا ہے۔
