کیا امریکی معیشت کی زبوں حالی پاکستان بھی بھگتے گا؟

اگر آپکا خیال ہے کہ پاکستان ہی وہ بدقسمت ملک ہے جو شدید ترین معاشی بحران اور مہنگائی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے تو آپ کی رائے غلط ہے، دنیا کا سب سے طاقتور ملک خیال کیا جانے والا امریکہ بھی اس وقت سخت معاشی زبوں حالی کا شکار ہے، جس کے اثرات دیگر ملکوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں، امریکی معیشت کی بد حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جون 2022 تک امریکی معیشت سکڑنے کی شرح 0.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ ایسے میں عالمی معیشت پر بے یقینی کے بادل چھا رہے ہیں، امریکی معیشت کے سکڑنے سے اشیائے خور و نوش، پیٹرول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 1981 کے بعد سے اب تک کا تیز ترین اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ڈالر صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگا ہو رہا ہے۔

چونکہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی کرنسی ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی کی حیثیت حاصل ہے لہٰذا امریکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات دنیا کی دوسری معیشتوں پر بھی پڑتے ہیں، اس لیے معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت پر کساد بازاری کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے؟ اس وقت پاکستانی معیشت کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالرز کی سطح پر ہیں اور مرکزی بینک کے پاس ان ذخائر میں سے صرف ساڑھے آٹھ ارب ڈالر موجود ہیں۔ پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب ڈالر کی بلند سطح پر ہے اور ڈالر کی قیمت میں روز اضافہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2008 میں بھی امریکہ کساد بازاری کی زد میں آیا تھا اور کئی بڑے مالیاتی ادارے اور کمپنیاں دیوالیہ ہو گئی تھیں لیکن پاکستان کے مالی مسائل تب بھی ہماری سیاسی صورت حال کے باعث تھے اور آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ پاکستان سے بھی بہت سا سامان درآمد کرتا ہے۔ امریکی محکمہ شماریات کے مطابق 2021 میں امریکہ نے پاکستان سے 5.2 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات کیں جبکہ امریکہ نے پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر سے زائد کا سامان برآمد کیا۔ 2022 میں اب تک امریکہ پاکستان سے 2.6 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات کر چکا ہے اور گذشتہ 25 برسوں سے امریکہ کی پاکستان سے درآمدات ہمیشہ برآمدات سے زیادہ رہی ہیں۔

اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں کس نے چھپا رکھا تھا؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کساد بازاری کو کنٹرول کرنے کے لیے شرحِ سود میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس سے ڈالر مضبوط ہوگا۔

ایسی صورتحال میں پاکستان نے جن بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنی ہے وہ مہنگے ہو جائیں گے کیونکہ ڈالر کی قیمت اور اس پر شرحِ سود دونوں میں اضافہ ہو جائے گا تاہم یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ و یورپ کے جو بڑے ریٹیلرز پاکستان سے مصنوعات خریدتے ہیں، اُنھوں نے گذشتہ سال زیادہ آرڈرز کر کے اپنے سٹاک بھر لیے تھے، رواں سال اُن کی خریداری میں کمی آئی ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کیا آئی ایم ایف سے قرض کی رقم ملنے پر روپے کی قیمت میں کچھ حد تو استحکام آئے گا تاہم ترسیلاتِ زر کو پرکشش بنانے اور برآمدی شعبے کو مضبوط کرنے جیسے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں زرِ مبادلہ کی صورتحال بہتر ہو۔

Back to top button