اداروں نہیں ، کچھ افراد سے شکایت،کیاسارے فیصلے3جج کرینگے
پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربراہ اورجمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمیں اداروں سے نہیں کچھ افراد سے شکایت ہوسکتی ہے، کیا سارے فیصلے تین جج ہی کریں گے، ہمارا مطالبہ تھا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے۔
پشاور میں تقریب سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمن نے کہاجمعیت کے مرکز میں آج دوسری تقریب ہے، تقریب میں جمعیت علما اسلام میں لوگوں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے، یہ ہے حقیقی مقبولیت، سوشل میڈیا پرچلنے والی مقبولیت کومقبولیت نہیں کہتے،نوجوان نسل کے اخلاق کوخراب کیا جارہا ہے، معاشرے میں بے حیائی،بداخلاقی کا فروغ دیا جارہا ہے۔ 2013ء میں ایک وفد نے مجھے کہا پشتون بیلٹ میں مذہب کی گہری جڑوں کو اکھاڑنے کے لیے عمران سے زیادہ مناسب آدمی نہیں، 15سال تک این جی اوپرپیسہ خرچ کیا گیا، اس نے پشتون قوم کی روایات، مہمان داری کو تباہ کردیا، ایسے باطل طبقے کے خلاف اکیلا بھی لڑنا پڑا تولڑوں گا۔
انکا کہنا تھا آج پتا چلا چینج رجیم کون ہے، کہتا ہے بین الاقوامی طاقت کے ذریعے نکالا گیا، آپ کونکالا نہیں بین الاقوامی طاقت کے ذریعے لایا گیا تھا، مجھے افسوس ہے اشرافیہ کے گھروں سے ان کو سپورٹ ملی۔اس کو اقتدارسے اتارنا کافی نہیں، نام ونشان کو بھی مٹانا ہے، ہتھیار نہیں ڈالنے، سیاسی، آئین کی جنگ لڑنی ہے، اگر کوئی طاقت نوجوانوں کے اخلاق کو تباہ کرے تو پہلے علما کرام کا رول بنتا ہے، اگرکوئی علماکرام اس کے ساتھ ہے تو وہ چھٹی انگلی ہے جس کو کاٹ کرپھینک دیا ہے۔
پی ڈی ایم سربراہ نےکہا عدلیہ ایک ادارہ ہے، عدلیہ کا احترام ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، اگرایک جج اپنے رویے سے متنازع بن جائے اور ایک فریق کو تحفظ دے تو اس کے بڑے دورس نتائج ہوں گے، اسی سے ریاستیں تباہ اور ٹوٹ جاتی ہیں، اداروں کے اندر کے لوگوں نے منظم طریقے سے ہمارے خلاف جھوٹے کیسز بنائے، ہم نے کہا اگرہمارے خلاف کوئی فائل آئی تو تمہارے منہ پر مار دیں گے، آج یہ لوگ ہمیں آزادی کا درس دیتے ہیں۔
انہوں نےکہا یہ نئی نسل کوآزادی کا درس دے رہا ہے، برطانیہ میں اسرائیلی امیدوارکے لیے ووٹ مانگنے والا آزادی کی بات کرتا ہے، فارن فنڈنگ میں اسرائیل، بھارت سے پیسہ آیا، تمہیں امریکی قونصلیٹ گھرکا کرایہ دیتا رہا پھربھی آزادی کی بات کرتے ہو، جس کی کابینہ میں دہری شہریت والے ہوںوہ ہمیں آزادی کا درس دیتا ہے، ہم جانتے ہیں آزادی کسے کہتے ہیں، آزادی کا درس میرے اورغلامی کا درس تیرے پاس ہے، مجھے آباواجداد اورتیرے آباواجداد کا بھی پتا ہے، سن لو! کسی بھی ادارے میں جتنا بھی طاقتورکوئی ہے تو کسی طاقتور کے رعوب کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔
جویریہ عباسی اوراعجاز اسلم نے خلیل قمر کو کیوں دھویا؟
امیر جے یو آئی ف کا کہنا تھا ہم ملک بچانے کے لیے حکومت میں اکٹھے ہوئے، جب یہ اپنا لباس اتارتے ہیں تو پھرہمیں پتا چلتا ہے اسلام آباد پریس کلب کے باہرکون احتجاج کررہا ہے، ضمنی الیکشن کو ایک پارٹی کی طرح لڑیں گے، ہم نے ملک کو بچانا ہے، کشمیرکی پوری اسمبلی ایک آدمی نے پیسے سے خرید لی ہے، یہ سیاست اورجمہوریت ہے؟ ہم سب حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔افسوس ہے اشرافیہ کے گھروں سے ان کو سپورٹ ملی، اس کو اقتدار سے اتارنا کافی نہیں، نام و نشان بھی مٹانا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا ہم نے پگڑیاں سرجھکا کر نہیں سراٹھا کر چلنے کے لیے پہنی ہیں، جلسوں میں کہا تھا ملک کو تباہ کر دیا گیا، آج ہم محسوس کر رہے ہیں ہمیں کس دلدل میں پھنسایا گیا، امریکا کے ساتھ ہمارا نظریاتی اختلاف ہے، امریکا پاکستان کا دوست ہو کر بھی اقتصادی مشکلات کیوں پیدا کر رہا ہے، چارسال کی دلدل سے نکلنے کے لیے چارماہ کافی نہیں۔ ہمارا مطالبہ تھا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے، وزیراعظم اپنے تمام ماتحت اداروں سے مل کر کام کر رہے ہیں، ہمیں اداروں سے نہیں کچھ افراد سے شکایت ہوسکتی ہے، کیا سارے فیصلے تین جج ہی کریں گے۔
