پاکستانی جج بدمعاشوں پر بھی بھاری کیوں پڑنے لگے؟

معروف صحافی اور کالم نگار عطاء الحق قاسمی پاکستانی عدلیہ کی خاک ہوتی ساکھ پر ایک طنزیہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ جناح کے پاکستان میں انصاف کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی بدمعاش کسی لڑکی کو اغوا کر کے جبراً نکاح کر لے تو کیس سننے والا جج اغوا کار کو سزا انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے دے گا کہ اس نے مغویہ سے خود شادی کرنا ہوتی ہے۔ یعنی اس ملک میں مغویہ بدمعاش کے چنگل سے نکل کر انصاف کے چنگل میں پھنس جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جس عدالت سے انصاف کی توقع نہ ہو اس کا دروازہ کھٹکھٹانا اسے تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اس ملک میں سو غلط فیصلوں کے بعد ایک صحیح فیصلہ سنانے سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد قائم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ باقی ننانوے غلط فیصلے اپنی مرضی سے سنا دیتی ہے۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ کالم میں عطاالحق قاسمی لکھتے ہیں کہ مجھے جب کبھی کسی عدالتی فیصلے کے بارے میں رائے لینی ہوتی ہے، استاد محترم انصاف علی انصاف سے رجوع کرتا ہوں، بفضل خدا فوت وہ ہو چکے ہیں مگر ان کا فیض ابھی تک جاری ہے، ان کے تخلص یعنی انصافؔ کی وجہ تسمیہ وہ واقعہ بنا جس نے انکی سوچ کے دھارے بدل کر رکھ دیئے۔ انصاف مرحوم جوانی میں ایک لڑکی پر عاشق ہوئے۔ اس کے والدین شادی پر رضا مند نہیں تھے۔ دراصل انہیں شک تھا کہ انصاف مرحوم سنفنگ کرتے ہیں حالانکہ استاد ساری عمر اس گھٹیا نشے کے قریب نہیں گئے۔ وہ صرف ٹھرا پیتے تھے یا کبھی کبھی چرس سے شوق فرماتے تھے۔ بہرحال جب انہیں یقین ہوگیا کہ محبوبہ کے والدین اس شادی پر تیار نہیں ہوں گے تو انہوں نے اپنی محبوبہ سے خفیہ نکاح کر لیا۔ مگر محبوبہ کے ’’شکی القلب‘‘ والدین نے ایک دفعہ پھر اس شک کا اظہار کیا کہ ان کی بیٹی کو استاد کے پالتو غنڈے زبردستی اٹھا کر لے گئے تھے۔ یہ سراسر غلط بیانی تھی کیونکہ جنہیں غنڈے قرار دیا گیا وہ استاد کے ہونہار سعادت مند اور نیک اطوار شاگرد تھے جو اکھاڑے میں ان سےفن پہلوانی کے دائو پیچ سیکھتے تھے، وہ اپنے استاد کی محبوبہ کو کیسے اٹھا کر لے جاسکتے تھے۔ وہ تو اسے ٹیکسی میں بٹھا کر لائے تھے۔

عطاالحق قاسمی لکھتے ہیں کہ بہرحال عدالت میں کیس دائر کردیا گیا ،استاد مرحوم سال ہا سال اس کیس کی پیروی کرتے رہے جس کے نتیجے میں انہیں عدالتی نظام سے گہری واقفیت ہوتی چلی گئی۔ لیکن کیس کا فیصلہ استاد کے خلاف ہوا۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مغویہ سے جبراً نکاح کے کاغذات پر دستخط کروائے گئے اور یوں یہ شادی نہیں ہوئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جج نے استاد کو سزا سنانے کے ایک ہفتے بعد مغویہ سے خود شادی کرلی۔ استاد اس صورت حال سے اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انہوں نے شاعری شروع کردی۔ والدین نے تو ان کا نام کچھ اور رکھا تھا مگر شاعری انہوں نے انصاف علی انصافؔ کے نام سے شروع کی اور پھر اس میں اتنا ہی نام کمایا جتنا انہوں نے ہیروئن کی سمگلنگ میں کمایا تھا۔ دور دراز سے لوگ استاد انصاف علی انصاف سے شعر کی اصلاح اور دیوانی اور فوجداری مقدمات میں رائے لینے کے لئے آتے تھے۔ استاد نے اپنے گھر کے دروازے پر یہ شعر لکھ کر لٹکایا ہوا تھا :

ہم کو شاہوں سے انصاف کی توقع تو نہیں
آپ کہتے ہیں تو زنجیر عدل ہلا دیتے ہیں

عطاالحق قاسمی لکھتے ہیں کہ میں نے ایک دن پوچھا ’’استاد، آپ کو یہ شعر اتنا پسند کیوں ہے؟‘‘

بولے ’’کس کافر کو پسند ہے اگر پسند ہوتا تو میں اسے لٹکاتا کیوں، میں تو اس شعر کے خالق کو بھی اسی طرح اپنے دروازے پر لٹکانا چاہتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا ’’استاد، میں آپ کی بات کچھ سمجھا نہیں‘‘۔ اس پر فرمایا ’’سمجھنے کی کوشش کرو۔ بادشاہوں کا بھلا انصاف سے کیا تعلق ہو سکتا ہے اور جب تعلق نہیں ہوتا تو کسی کے کہنے پر زنجیر ہلانے کی حماقت کا کیا جواز ہے؟ جس عدالت سے انصاف کی توقع نہ ہو اس کا دروازہ کھٹکھٹانا اسے تسلیم کرنے کے مترادف ہے‘‘۔ اس پر میں نے استاد مرحوم کے ہاتھ چوم لئے اور کہا ’’آپ کی وساطت سے اس شعر کے سقم مجھ پر پہلی بار آشکار ہوئے ہیں مگر بادشاہوں کے دروازے پر لگی زنجیر ہلانے سے کچھ لوگوں کو تو انصاف ملتا ہی ہوگا ورنہ لوگ بار بار یہ زنجیر کیوں ہلاتے؟‘‘ اس پر استاد نے فرمایا ’’تم ابھی بچے ہو، ایک سو غلط فیصلوں کے بعد ایک صحیح فیصلہ سنانے سے لوگوں کا عدالت پر اعتماد قائم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں باقی فیصلے بادشاہ سلامت اپنی مرضی سے کرتے ہیں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے استاد مکرم انصاف مرحوم نے شفقت سے میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا ’’دیکھو بیٹے، بیک وقت بادشاہ ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ عادل مشہور ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لئے بہت پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ آج کل بہت سے پسماندہ ممالک میں اس نوع کے تجربات کئے جا رہے ہیں۔ کہیں سیاست دانوں کی باہمی پھوٹ کام آتی ہے، کہیں بادشاہ سلامت کی راہ ایجنسیاں ہموار کرتی ہیں لیکن یہ طریقے فرسودہ ہو چکے ہیں اور ان پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ ان دنوں تبدیلیاں عدالتی فیصلوں کے ذریعے عمل میں آتی ہیں، مہذب بادشاہتوں میں ایسے ہی ہوتا ہے‘‘۔

عطاالحق قاسمی لکھتے ہیں کہ یہ کہہ کر انصاف مرحوم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے حتیٰ کہ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ میں نے دلاسا دینے کے لئے ان کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا مگر اس کے نتیجے میں ان پر مزید رقت طاری ہوگئی۔ جب کچھ دیر بعد ان کی سسکیاں رکیں تو بولے ’’میں نے ابھی جو کچھ کہا غلط کہا، بکواس کی، انصاف اس طرح قائم نہیں ہوتا میری منکوحہ کو انصاف کے نام پر جج لے اڑا اور حق دار کی یہ تبدیلی عدالتی عمل ہی کے ذریعے وجود میں آئی تھی۔ لعنت ہے مجھ پر میں کیا اول فول بک گیا!‘‘ میں نے دیکھا استاد کا گلاس خالی تھااور ایش ٹرے میں پڑا سگریٹ بھی بجھ چکا تھا۔ میں نے گلاس اور سگریٹ دونوں ’’بھر‘‘ کر استاد کو پیش کئے۔ استاد نے بھرے ہوئے سگریٹ کا سوٹا لگایا اورگلاس ’’ڈیک‘‘ لگا کر خالی کردیا۔ کچھ دیر بعد ان کے نتھنے کھلنے اور بند ہونے لگے اور ان کے مترنم خراٹے سنائی دیئے تو میں اٹھ کر چلا آیا۔ اس کے چند روز بعد استاد انتقال فرما گئے۔ انکی نماز جنازہ میں جج صاحب نے بھی شرکت کی۔

لیکن استاد کے جنازے پر ایک افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ ایک راہ گیر نے پوچھا کس کا جنازہ جا رہا ہے، ایک شاگرد نے جواب دیا انصاف کا جنازہ جا رہا ہے جس پر جج صاحب برہم ہو گئے اور پھر انکے حکم پر پولیس نے جنازے کے شرکا پر لاٹھی چارج شروع کردیا۔

Back to top button