تحریک انصاف کے 11 استعفے منظور کرنے کا مقصد کیا ہے؟
الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے 11 ممبران قومی اسمبلی ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور درجنوں ارکان اسمبلی نے سپیکر راجہ پرویز اشرف کو بالواسطہ پیغام بھجوائے ہیں کہ انکے استعفے قبول کر کے الیکشن کمیشن کو نہ بھجوائے جائیں۔ زیادہ تر اراکین اسمبلی کو یہ امید تھی کہ عمران کسی سٹیج پر استعفے واپس لے کر اسمبلی میں چلے جائیں گے لیکن اب یہ امید دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر اراکین اسمبلی کے لئے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ 2023 میں ہونے والے نئے انتخابات سے پہلے اپنے حلقوں میں ضمنی الیکشن نہیں لڑنا چاہتے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں ابھی ایک سال باقی ہے اور اگر انکے حلقوں میں ضمنی الیکشن ہو گئے تو وہ کسی صورت میدان بھی خالی نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن انہیں ایک ایسے الیکشن پر کروڑوں روپے خرچ کرنے ہوں گے جس کے نتیجے میں وہ بمشکل ایک ہی برس رکن قومی اسمبلی رہے پائیں گے، اور وہ بھی جیتنے کی صورت میں۔ دوسری جانب عمران خان حکومت پر فوری الیکشن کیلئے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بھی اسی دباؤ کا توڑ کرتے ہوئے تحریک انصاف کے 11 اراکین اسمبلی کے استعفے قبول کر لیے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ استعفے قبول کرنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں جن میں بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں ممکنہ واپسی کی صورت میں ان کے پاس اتنے ممبران نہ ہوں کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا سوچیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر صدر عارف علوی وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہیں تو انکے پاس اتحادی جماعتوں کے علاوہ بھی بندے پورے ہوں۔ اسی لئے اب کم از کم درجن نشستوں پر استعفے قبول کر کے ضمنی الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں گیارہ ارکان کے استعفے قبول کئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری سمیت تحریک انصاف کے 11 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرلیے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 64 کی شق (1) کے تحت تفویص اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے استعفے منظور کیے ہیں۔ سپیکر کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق پی ٹی آئی کے جن اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے ہیں، ان میں این اے-22 مردان 3 سے علی محمد خان، این اے-24 چارسدہ 2 سے فضل محمد خان، این اے-31 پشاور 5 سے شوکت علی، این اے-45 کرم ون سے فخرزمان خان شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے دیگر اراکین میں این اے-108 فیصل آباد 8 سے فرخ حبیب، این اے-118 ننکانہ صاحب 2 سے اعجاز احمد شاہ، این اے-237 ملیر 2 سے جمیل احمد خان، این اے-239 کورنگی کراچی ون سے محمد اکرم چیمہ، این اے-246 کراچی جنوبی ون سے عبدالشکور شاد بھی شامل ہیں۔
لندن میں جمائما کے گھر کے باہر ن لیگ کے مظاہرے شروع
سپیکر نے خواتین کی پنجاب اور خیبرپختونخوا سے مخصوص نشستوں پر منتخب شیریں مزاری اور شاندانہ گلزار کے استعفے بھی منظور کرلیے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کےاراکین قومی اسمبلی نے 11 اپریل 2022 کو اپنی نشستوں سے استعفے دیے تھے اور استعفوں کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کو بھجوا دیے گئے۔ یاد رہے کہ اپریل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسمبلی سے بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کے فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 11 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف کے انتخاب سے چند منٹ قبل اسمبلی کے فلور پر کیا تھا۔
سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کی جانب سے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے 123 اراکین اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کا عمل انفرادی طور پر یا چھوٹے گروپس میں بلا کر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے اکثر استعفے ہاتھ سے نہیں لکھے ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے لیٹر ہیڈ پر بھی ایک جیسا متن چھپا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹریٹ کے عملے کو بھی چند ارکان کے دستخط پر شک تھا کیونکہ یہ اسمبلی کے رول پر موجود دستخط سے میل نہیں کھا رہے تھے۔
ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے کم از کم 25 اراکین قومی اسمبلی نے راجا پرویز اشرف کو الگ سے خط لکھ کر ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ وہ وضاحت کر سکیں کہ کن حالات میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ تب کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے فوری طور پر استعفے منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو نوٹی فکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔ 14 اپریل کو پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کے ذریعے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا نوٹی فکیشن جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ پارٹی کے 123 ارکان قومی اسمبلی نے اسپیکر کو اپنی نشستوں سے استعفیٰ ہاتھ سے لکھ کر دے دیا۔
