دعا زہرہ کی ساس نے اپنے بیٹے کو بے قصور قرار دے دیا
کراچی کی کم عمر لڑکی دعا زہرہ کو گھر سے بھگا کر اس سے شادی کرنے والے لاہور کے لڑکے ظہیر احمد کی والدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا بیٹا لڑکیاں اغوا کرنے والے گینگ کا رکن نہیں ہے کیونکہ ہم تو دعا کا رشتہ لینے اس کے گھر کراچی بھی گئے تھے لیکن اس کے والدین نے انکار کر دیا تھا۔ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ظہیر احمد کی والدہ نے دعا کے والدین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ بیٹی گھر سے بھاگ جائے تو والدین رسوا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ دعا کا ہاتھ مانگنے کراچی بھی گئی تھیں چونکہ ان کا بیٹا لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ان کے بیٹے پر الزام لگا ہے کہ وہ لڑکیوں کو گھر سے بھگا کر اغوا کرنے والے گینگ کا رکن ہے، ظہیر کی زندگی خطرے میں ہے، انہوں نے کہا کہ دونوں کی شادی لاہور میں ہوئی تھی لیکن اب پولیس دونوں کو کراچی لے گئی ہے۔
ظہیر کی والدہ نے مطالبہ کیا کہ انکے بیٹے کو واپس لاہور لایا جائے تاکہ ان کی زندگی محفوظ ہوسکے۔ انکا کہنا تھا کہ شادی میں صرف ان کے بیٹے کا قصور نہیں تھا بلکہ دعا زہرہ بھی شریک مجرم تھی۔ انکا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے دعا سے عشق تو کیا تھا مگر فوری شادی سے انکار کیس تھا کیونکہ کہ وہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کرنا چاہتا تھا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب دعا گھر چھوڑ کر لاہور بھاگ آئی تو ان کے بیٹے کو شادی کرنا پڑ گئی۔ ان کے مطابق دعا زہرہ 14 برس کی نہیں ہیں اور پہلے میڈیکل بورڈ نے یہ فیصلہ بھی دے دیا تھا۔ انہوں نے دعا کا میڈیکل دوبارہ ہونے پر خدشات کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ پیسے دے کر نتائج تبدیل کرائے گئے۔
ظہیر احمد کی والدہ نے کہا کہ جب دعا زہرہ ان کے پاس آئی تو ان کے بیٹے نے اسے واپس اسکے گھر بھیجنے کی کوشش کی مگر اس نے جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دعا کو اپنی بیٹی کی طرح رکھا اور اب انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ دعا زہرہ بھی واپس چاہئے، ظہیر کی والدہ نے دعا کے والدین کو پیغام دیا کہ وہ ان کے خاندان کی طرح ہیں، وہ انہیں معاف کر دیں کیونکہ دعا زہرہ نے بھی اپنے والدین کو معاف کرنے کا پیغام دیا تھا۔ خیال رہے کہ دعا زہرہ رواں برس اپریل میں گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی، بعد ازاں وہ تب سامنے آئی تھی جب اس نے ظہیر احمد سے شادی کرلی تھی۔
وزیراعظم کو حنیف عباسی کے تقرر پر نظر ثانی کا حکم
پہلی بار عدالتی حکم پر دعا کے میڈیکل ٹیسٹ میں اسکی عمر 17 برس تھی جبکہ دوسری بار میڈیکل میں اس کی عمر 16 برس تک بتائی گئی۔ دعا زہرہ کی عمر کم ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد اس کے والد علی کاظمی نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کی بیٹی کو لاہور سے کراچی منتقل کیا جائے جس کے بعد عدالت نے انہیں کراچی منتقل کرنے کا حکم دیا۔ کراچی منتقل کیے جاتے وقت دعا کے والد علی کاظمی کے وکیل جبران ناصر کی جانب سے لاہور کی عدالت میں دعا زہرہ کے نام سے ایک درخواست بھی جمع کروائی گئی تھی، جس میں بیان دیا گیا تھا کہ اب انکے اپنے شوہر سے تعلقات اچھے نہیں رہے اور وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ اس دوران یہ اطلاع آگئی کہ ظہیر احمد لڑکیاں بھلا پھسلا کر اغوا کرنے والے ایک بڑے گینگ کا رکن ہے جس کے بعد دعا زہرا نے اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دعا کو 25 جولائی کو چائلڈ پروٹیکشن سینٹر کراچی منتقل کردیا گیا جبکہ اسکے شوہر ظہیر احمد نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت کے آرڈر حاصل کر رکھے ہیں۔
