کیا پراجیکٹ عمران کے خاتمے کے بعد حکومت بھی ختم ہو جائے گی ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست کی صورت حال اس وقت سوہنی کے کچے گھڑے جیسی ہے جو دریا کے بیچوں بیچ لڑھکتا جا رہا ہے، عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو زیرو کرنا حکومت اور فوج کا دونوں کا مشترکہ ہدف تھا۔ اب جب کہ تحریک انصاف آخری سانسیں لے رہی ہے تو وہ وقت قریب ہے جب فوج کو بھی حکومت کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور بنیادی ہدف حاصل ہو جانے کے بعد حکومت کے رہنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔
سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ سیاست ایک رومانس ہے جس میں مبتلا ہونے والے کو بے وفائی، بے اعتنائی، ہجر، وصال، خوشی اور غم کے تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ انسان پید ا ہوتا ہے تو پہلے سانس سے سیاست شروع کر دیتا ہے کیونکہ اسے آکسیجن نے نہ ملے تو وہ سانس نہیں لے سکتا۔ کبھی صرف سانس لینے کی سیاست اور کبھی سکھ کا سانس لینے کی سیاست عمر بھر جاری رہتی ہے۔ کوئی لاکھ انکار کرے کہ اسکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اسے زندہ رہنے کیلئے جو کچھ کرنا پڑتا ہے وہ سیاست ہے تو ہے، یعنی جو زندہ ہے وہ سیاست سے ہی زندہ ہے اور زندگی بہتر بنانے کیلئے اسے مزید سیاست کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست سوہنی کے کچے گھڑے کی طرح کچی مٹی کی بنی ہے۔ سیاست کا یہ گھڑا سیلابی چناب میں غوطے کھا رہا ہے۔ دیوار پر لکھی تحریر کو نہ سیاسی حکومت نے پڑھا اور نہ اس کی اپوزیشن نے سمجھا۔ انہیں بار بار تاریخ کا یہ سبق یاد کرایا جاتا ہے کہ اگر سیاسی مصالحت نہ کی گئی تو ایک نہ ایک دن بڑا دھماکہ ہو کر رہے گا، لیکن ابھی تک تو تینوں اطراف کے شکروں نے مصالحت کی ہر آواز کو ٹھکرایا ہے۔ اپوزیشن کے عاقبت نااندیشوں نے مصالحت کی بجائے انقلاب کا پرچار کیا۔ لیکن اسکے باوجود نہ تو انقلاب آ سکا اور نہ ہی مصالحت کی طرف کوئہ قدم بڑھ سکے، یوں اعتماد کا بحران بڑھتا رہا اور نفرت پھیلتی رہی۔ آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف والے سمجھتے ہیں کہ ہم نے صلح نہ کر کے مقبولیت بھی قائم رکھی ہے اور مخالفوں کی حکومت کو قانونی جواز بھی فراہم نہیں کیا، لہذا ان کے خیال میں جلد وہ وقت آئے گا جب حکومت کمزور ہو کر گر جائے گے اور تخت انہیں مل جائے گا۔
لیکن سہیل وڑائج کے مطابق دوسری جانب حکومتی شکرے سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف اور فوج میں ٹھنی ہوئی ہے لہذا ہم مصالحت کے چکر میں کیوں پڑیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اپوزیشن سے مصالحت کے چکر میں فوج ہی ناراض نہ ہو جائے۔ حکومتی حلقوں کے خیال میں مصالحت کی کوشش ‘آ بیل مجھے مار’ کے مصداق ہو گی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں تیسری جانب مفاد پرست عناصر ہیں جو مصالحت چاہتےہی نہیں کیونکہ اس سے ان کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ گویا یہ تینوں خود کشی کی جانب محو سفر ہیں۔ جس طرح محمود غزنوی سے شکست کے بعد لاہور کے حاکم جے پال نے اجتماعی خود کشی کا اہتمام کیا تھا، ویسے ہی آج حکومت اور اپوزیشن دونوں اسی طرح کے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں، عمران خان اور ان کی جماعت کی سٹریٹ پاور کا ڈنک نکل چکا ہے، پی ٹی آئی تو اب پارلیمان میں شور شرابے کے قابل بھی نہیں رہی، آئے روز اس کے لیڈران کو نئی سزائیں ہو رہی ہیں۔ خان صاحب روحانی حکیم سے فیض حاصل کرتے کرتے حقائق اور منطق کی دنیا سے کہیں دور کسی جادوئی اثر میں ہیں۔ ان کی بہنیں ہوں یا۔پارٹی کی نامزد قیادت، کسی کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں، تحریک انصاف میں ایک ہی کامیاب سیاستدان ہے اور وہ ہے علی امین گنڈاپور۔ باقی سب ایرے غیرے ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو زیرو کرنا حکومت اور فوج کا مشترکہ ہدف تھا۔ اب جب تحریک انصاف بقول فوج کے آخری سانس لے رہی ہے تو فوج کوحکومت کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے، یعنی ہدف پورا ہونے کے بعد حکومت کا جواز بھی نہیں رہا۔ بھٹو کو پھانسی دیکر جنرل ضیاء الحق نے قومی اتحاد کی حکومت کی بھی چھٹی کروادی تھی، جب تک بھٹو کو رخصت نہیں کیا گیا، تب تک قومی اتحاد اور جنرل ضیاء اتحادی تھے، لیکن جب انکا مشترکہ مقصد پورا ہو گیا تو اتحاد بھی ٹوٹ گیا تھا۔ اب بھی بالکل وہی صورتحال ہے حکومت اور ایوزیشن دونوں کو آخری دموں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ مصالحت نہ کرنے کا یہی انجام ہو نا تھا اور ہو کر رہے گا۔
سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو گا تو مصالحت نہ کرنے والے منہ چھپاتے پھریں گے، تاریخ بار بار ان سے سوال کرے گی کہ آپ سب مل کر آئین، جمہوریت اور سیاست کو بچا سکتے تھے مگر آپکو اپنی ذاتی نفرتوں کی وجہ سے دیوار پر صاف لکھا ہوا بھی نظر نہیں آیا۔ سوال یہ یے کہ آج اگر حکومت کا پردہ کھینچ دیا گیا اور اسکے نتیجے میں آئین، جمہوریت اور سیاست کی جگہ طاقت، آمریت اور عملیت نے لے لی تو پاکستان کا 75 سالہ سفر سفر رائیگاں جانے کے ذمہ دار کیا یہی مصالحت کے مخالفت عاقبت نا اندیش نہیں ہوں گے!!
