کیا ضمنی الیکشن کے نتائج ملکی سیاست کو نیا رخ دیں گے ؟

قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے ملکی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مسلم لیگ ن کی 12 نشستوں پر کامیابی نے نہ صرف اس کی پارلیمانی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے بلکہ حکومتی کارکردگی کے بیانیے کو بھی نئی زندگی بخشی ہے۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات میں شمولیت سے متعلق غیر واضح، متضاد اور دوغلی پالیسی نے اس کی سیاسی حکمتِ عملی میں گہرے ابہام اور تنظیمی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے جبکہ صرف ایک نشست پر کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی نے غوروفکر شروع کر دیا ہے کہ وہ حکومتی اتحاد کا حصہ رہے یا اپوزیشن میں جا کر اپنا کردار مضبوط کرے۔ مجموعی طور پر ضمنی الیکشن کے نتائج نے مستقبل کی وفاقی سیاست، پارلیمانی توازن اور سیاسی جماعتوں کا رخ متعین کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں عموماً ہنگامہ خیزی اور عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کا اظہار ان ضمنی انتخابات میں سامنے آنے والے ووٹر ٹرن آؤٹ سے بھی واضح ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود پاکستان کے روایتی میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ضمنی الیکشن اور اس کے نتائج پر تاحال بحث جاری ہے کیونکہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ درجن بھر سیٹوں پر اکٹھے انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ تاہم تحریک انصاف کے بائیکاٹ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر امیدوار کھڑے نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے میدان لگ بھگ خالی تھا، اسی وجہ سے نون لیگ 13 میں سے 12 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔
تاہم جن چھ قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوئے اُن میں سے چار حلقے ایسے تھے جہاں ن لیگ کو کسی حد تک مقابلے کا سامنا تھا۔ جیسا کہ ہری پور کے حلقہ این اے 18 میں ن لیگ کے امیدوار بابر نواز خان کے مدِمقابل پاکستان تحریکِ انصا ف کے رہنما عمر ایوب کی اہلیہ تھیں اور یہاں سخت مقابلہ بھی دیکھنے میں آیا۔این اے 96 فیصل آباد میں ن لیگ کے بلال بدر کے مقابلے میں نواب شیر وسیر تھے، جن کا اس حلقے میں اپنا ذاتی ووٹ بینک ہے۔ نواب شیر وسیر نے 8 فروری کا الیکشن ن لیگ کے ٹکٹ پر لڑا تھا جبکہ وہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر اسی حلقہ سے ایم این اے بھی رہ چکے ہیں۔لاہور کے حلقہ این اے 129 ایک ایسا حلقہ تھا جس کا پی ٹی آئی نے بائیکاٹ نہیں کیا تھا۔ یہاں مسلم لیگ ن کے اُمیدوار محمد نعمان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارسلان احمد تھے۔ اسی طرح ڈی جی خان کے حلقہ این اے 185 میں ن لیگ کے محمود قادر خان کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اُمیدوار کھوسہ خاندان کے دوست محمد خان کھوسہ تھے۔دوست محمد کھوسہ اپنے ذاتی ووٹ بینک اور پارٹی ووٹرز کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے ووٹرز کو بھی مخاطب کر رہے تھے۔ تاہم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تمام ترکوششوں کے باوجود نون لیگ میدان مارنے اور کلین سویپ کرنے میں کامیاب رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی چھ نشستیں جیتنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن قومی اسمبلی میں مزید مضبوط ہوئی ہے اور اس کا پیپلزپارٹی پر انحصار کم ہو گیا ۔ تاہم پیپلزپارٹی کے بعض حلقے، ان چھ نشستوں پر ن لیگ کی کامیابی کو پیپلزپارٹی کی مزاحمتی سیاست کے احیا سے بھی جوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ممکن ہے کہ پارلیمان میں ن لیگ کا انحصار پیپلزپارٹی پر نہ رہے؟ فری اینڈ فیئر نیٹ ورک (فافن) سے وابستہ صلاح الدین صفدر کے مطابق ’عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی نمائندگی 108 نشستوں سے شروع ہوئی تھی جو مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کے نتیجے میں 126 ہو چکی ہے۔‘جبکہ اب ضمنی انتخابات کے بعد اس میں چھ نشستوں کا اضافہ ہونے سے یہ تعداد 132 تک جا پہنچے گی۔ سادہ اکثریت یعنی 169 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ن لیگ کو مزید 37 ارکان کی ضرورت ہے۔ یہ ہدف ایم کیو ایم کے22 ، پاکستان مسلم لیگ ق کے 5، پاکستان مسلم لیگ ضیاالحق، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن اور استحکام پاکستان پارٹی کے 4 ارکان اور چار آزاد ارکان کی حمایت سے حاصل ہو سکتا ہے۔‘تاہم ملکی سطح پر پیچیدہ اور مفادات پر مبنی سیاسی نظام میں چھوٹی جماعتوں پر انحصار اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔صلاح الدین صفدر کے بقول ’اگرچہ حکومتی اتحاد پیپلز پارٹی کے بغیر سادہ اکثریت حاصل کرسکتا ہے تاہم آئینی ترمیم جس کے لیے حکومت کو دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اس کے لیے حکومتی اتحاد کو پیپلز پارٹی پر انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی 26 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ وہاں پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر حکومتی آئینی بل کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکتی۔‘ اس لئے نون لیگ کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر حکومتی معاملات چلانا نا ممکن ہے۔
ضمنی الیکشن: نون لیگ کی کامیابی کی وجہ مریم نواز یا تحریک انصاف؟
مبصرین کے مطابق موجودہ دور سیاسی لحاظ سے پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے کڑا امتحان ہے، عمران خان جیل میں ہیں اور حالیہ عرصہ میں خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کو بھی تبدیل کیا جا چکا ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی حالات میں پی ٹی آئی کو اپنی حکمت عملی بہت واضح اور مربوط رکھنی چاہیے، تاہم پی ٹی آئی نے ضمنی الیکشن میں دوغلی پالیسی اپنا کر اپنی رہی سہی ساکھ اور عزت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق جس طرح کے حالات سے پی ٹی آئی اِس وقت گزر رہی ہے ،اس کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی کی لیڈر شپ کو سیاسی معاملات بارے متفقہ فیصلے کرنے چاہیں اور طے شدہ پالیسی سے کسی بھی بھی انخراف کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ضمنی الیکشن میں کلین سویپ کرنے پر لیگی قیادت خوشی سے نہال ہے۔ سابق وزِیراعظم میاں نواز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ضمنی انتخابات میں کامیابی کی وجہ وزیر اعظم شہبازشریف اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نوازشریف کی ’محنت اور بے لوث خدمت‘ کو قراردیا جبکہ مریم نوازشریف نے خیبرپختونخوا کے شہر ہری پور میں اپنی جماعت کے اُمیدوار کی کامیابی کو پنجاب حکومت کی کارکردگی سے جوڑا۔ مبصرین کے بقول مسلم لیگ نواز ہری پور کی سیٹ جیتنے پر سب سے زیادہ خوش ہے۔ جہاں مقابلے کر کے مسلم لیگ ن کے اُمیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ اس حلقے میں دھاندلی کی بات بھی زیادہ نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہاں پر انتظامیہ پی ٹی آئی کی اپنی تھی۔‘
