جی سی یونیورسٹی کا وائس چانسلرجنسی درندے کو تحفظ دینے لگا


لاہور کی تاریخی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ایک شعبدہ نما استاد پر اپنی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہو جانے کے باوجود بھیڑیا صفت پروفیسر ابھی تک قانون کی گرفت سے دور ہے جس کی بنیادی وجہ اسکو اپنے ساتھی اساتذہ اور وائس چانسلر کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جانا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے درندہ نما پروفیسر پر اپنی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کی تصدیق کے باوجود اسکے خلاف انضباطی کارروائی کی بجائے یونیورسٹی انتظامیہ نے اب یہ کیس ایک اور کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے جو کہ یونیورسٹی اساتذہ پر مبنی ہے جنہیں کمیٹی کمیٹی کھیلنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ اس معاملے کو مزید طول دیا جا سکے۔ خیال رہے کہ جولائی 2020 میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی طالبات نے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے ایک پروفیسر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ نشے کی حالت میں طالبات کو ویڈیو کالز کر کے ہراساں کرتا ہے اور گندی گفتگو میں حصہ نہ لینے پر وہ طالبات کو فیل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ اولڈ راویئن فیس بک گروپ کے ایک رکن نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے فزکس کے ایک استاد کا اسکرین شاٹ اور تصاویر پبلک کی تھیں اور ایک طالبہ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اسکو اور اسکی دوست کو ایک مرد استاد بار بار امتحان میں فیل بھی کر رہے تھے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کر رہے تھے تاکہ وہ اس استاد نما بھیڑیے کی جنسی خواہشات کی تسکین پر مجبور ہو جایئں۔
فزکس کے استاد پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ طالبات کے ساتھ ویڈیو کالز پر بیہودہ گفتگو کرتے ہیں اور شرم ناک مطالبات کرتے ہیں۔ تاہم پھر ایک طالبہ نے تنگ آ کر استاد کے روپ میں چھپے بھیڑیے کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سے ویڈیو چیٹ کے کچھ اسکرین شاٹس لے لیے جس میں وہ ‘بغیر قمیض کے اور بظاہر نشے میں تھے’۔ ویڈیو کال کے دوران جب اسکرین شاٹس لینے کے بعد طالبہ نے اپنا وائی فائی بند کیا تو استاد نے اسکے موبائل نمبر پر کال کرنا شروع کردی اور پیغام بھیجا کہ وہ اس کی کال اٹھائے ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جائے۔ پروفیسر کی ویڈیو کالز کے کال لاگ، میسجز اور اسکرین شاٹس نا صرف فیس بک پر شئیر کیے گئے بلکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی کے ساتھ بھی شئیر کئے گئے جس نے ان کے حقیقی ہونے کو تسلیم کیا۔
یاد ریے کہ وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی پروفیسر اصغر زیدی نے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے درندہ صفت استاد کے خلاف کی جانے والی جنسی ہراسانی کی شکایت کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ایک خاتون ممبر بھی شامل تھیں۔ 27 اگست 2020 کے روزکمیٹی نے الزامات کی مکمل تحقیقات کے بعد وائس چانسلر کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ فیکٹ فائنڈنگ کمپنی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے استاد کو طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ تاہم بجائے کے اس استاد کو کالج سے برخاست کرکے اس کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر پولیس میں کیس درج کروایا جاتا، وائس چانسلر نے یہ معاملہ اب ایک اور کمیٹی کو بھجوا دیا ہے اور کہا ہے کہ انسداد ہراساں کمیٹی ایک ہفتے کے اندر سفارشات پیش کرے گی۔ وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ مذکورہ استاد کے خلاف شکایات درج ہونے کے فوری بعد ہی اسے ہر قسم کی ڈیوٹی کے لیے معطل کردیا گیا تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ الزمات ثابت ہونے کے باوجود پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے معاملے کو ایک اور کمیٹی کے سپرد کر کے اسے لٹکانے کی کوشش ہورہی ہے جس کی وجہ سے صرف پرنسپل ہی بتا سکتا ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلبا اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ایسے مکروہ چہرے کو فوری نشان عبرت بنانا چاہیے لیکن یہاں پر دو ماہ گزرنے کے باوجود اسے صرف معطل کر کے گھر بھیجا گیا ہے او کارروائی کی بجائے کمیٹی کمیٹی کھیلا جا رہا یے۔
خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں ملک کے نامور تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ کے ہاتھوں طالبات کے استحصال اور اور ان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور گرامر اسکول کی طالبات نے ایک مرد استاد پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کو جنسی طور پر ہراساں کر رہا ہے اور اب معروف تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج کے استاد پر بھی ایسا ہی الزام ثابت ہو گیا ہے۔ تاہم دونوں کیسوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں مرد اساتذہ کے خلاف کوئی پولیس کارروائی نہیں کی گئی اور ان دونوں شیطانوں کو ساتھی اساتذہ کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button