شاعر انور مسعود نے مزاح کی دنیا میں آنے کی وجہ بتا دی؟

معروف پنجابی شاعر انور مسعود نے انکشاف کیا کہ ان کا مزاح کی دنیا میں آنے کا مقصد اپنی بات کو خاص سے عام لوگوں تک پہنچانا ہے، میں چاہتا تھا کہ میں جو بات کہوں اسے ایک پروفیسر سنے تو وہ بھی داد دے اور ایک چھابڑی والا سنے تو اس کے بھی دل کو لگے، میں نے لوگوں کی باتیں اور ان کے مسائل ان کی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے، انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مزاحیہ انداز میں شاعری کرنے کی وجہ انہوں نے اپنے ہی ایک شعر سے بتائی کہ
یہ جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے، رونے کو چھپانا ہوتا ہے
میں اس لیے ہنسا ہوں کہ کہیں رو نہ پڑوں
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’کسی کے سوال کرنے پر میں نے کہا تھا کہ میری ہنسی مکئی کی طرح ہے، جب جلنے لگتی ہے تو مسکرانے لگتی ہے۔ میرے دکھ صرف میرے نہیں ہیں، یہ ملک جس میں، میں رہتا ہوں جب سے بنا ہے بحرانوں کا شکار ہے، میں اس دنیا میں رہ رہا ہوں جس کے وڈیرے وہ ہیں جنہیں لوگوں کا خون پینے سے فرصت ہی نہیں ہے۔انور مسعود نے بتایا کہ ہنسنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ میں نے مزاح کا انداز اس لیے اپنایا کہ جو میں کہوں وہ لوگوں کو سننا گوارا ہو جائے۔ رلانا تو بہت آسان ہے، ہنسانا تو اتنا آسان نہیں ہے، جو بات ہنسی کے انداز میں کہی جائے وہ لوگوں کو پسند آتی ہے۔پاکستان کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ یہاں شاعروں کی قدر نہیں کی جاتی، کیا انہیں بھی ایسا ہی لگتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ان کہنا تھا کہ مجھے 2000 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے ہلال امتیاز کا ایوارڈ دیا۔ سب سے برا ایوارڈ یہ ہے کہ ایک چھابڑی والا بھی مجھے میری نظمیں سناتا ہے، عوام میں اتنی مقبولیت، یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔گفتگو دوبارہ شاعری کی جانب آئی تو انہوں پاکستان کے مزاحیہ شاعروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ہی نہیں، جتنے بھی مزاح نگار ہیں انہوں نے ردعمل دیا ہے۔ پاکستان کے مزاح نگاروں نے بہت اچھی حزب اختلاف کا فرض ادا کیا ہے، خواہ وہ ضمیر جعفری ہوں، سید محمد جعفری ہوں، دلاور فگار ہوں، سرفراز شاہد ہوں اور چاہے میں ہوں۔اپنے یادگار مشاعروں کے بارے میں انور مسعود نے بتایا کہ خواہ پاکستان میں یا بیرون ملک، مجھے کہیں بھی کبھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ پیرس میں میں نے مشاعرہ پڑھا تو مجھے یوں لگا کہ میں لاہور میں پڑھ رہا ہوں اور اگر میں نے واشنگٹن میں پڑھا تو مجھے یوں لگا کہ گجرات میں پڑھ رہا ہوں۔لاہور میں ایک مشاعرہ ہوا، جس میں سہیل احمد (عزیزی) کے نانا جی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر میزبان تھے، میرے پاس پنجابی کی ایک ہی نظم تھی جو میں نے بہت پہلی لکھی تھی، اس کا نام پنچائیت تھا۔ جب وہ میں نے پڑھی تو آپ یقین کریں ایسا لگا کہ چھت اڑنے لگی ہے، اس نظم کے بعد مشاعرہ ختم کر دیا گیا کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ اتنی داد کسی کو مل ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ واقعہ میں نہیں بھول سکتا۔آخر میں نئے شعرا کے لیے انور مسعود نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’ہر ایک پھول کا اپنا رنگ ہوتا ہے، اپنی خوشبو ہوتی ہے لیکن جو بھی ہنر ہو اس کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اپنی ایک نظم ’توں کی جانڑے بھولی اے مَجھے انارکلی دیاں شانڑاں‘ اس کا ایک مصرع ہے، بوتل دے نال منہ نہ لائیں، منہ اچ پا لئیں کانا‘ میں نے اس ایک لفظ کو آٹھ مہینے سوچا، جب یہ لفظ مجھے مل گیا تو مجھے اتنی خوشی ہوئی جو ‘ان بیان ایبل’ (ناقابل یقین) ہے۔ لہٰذا محنت ضرور کریں کہ یہی کامیابی کی کنجی ہے۔
