فلم‘راکی اور رانی کی پریم کہانی:’میں خاص کیا ہے؟

پہاڑ کھود کر دودھ کی نہر نکالی جا سکتی ہے۔ چچا کیدو کو سمجھا کر ہیر رانجھے کا بیاہ کروایا جا سکتا ہے۔ صاحباں کے بھائیوں کو کچھ دے دلا کر مرزے کو بچانے کی کوشش بھی ممکن ہے لیکن بالی وڈ کے ہدایت کار کرن جوہر فارمولہ فلمیں بنانا چھوڑ دیں، یہ ناممکن ہے۔لگتا ہے انہوں نے اپنے ساتھ یہ عہد کر رکھا ہے کہ جب تک کرہ ارض پر ایک انسان بھی کمرشل فارمولہ فلم دیکھنے کی خواہش رکھے گا، میں ایسی ہی فلمیں بناؤں گا۔
چوںکہ عوام کمرشل فارمولہ فلموں کے عادی ہیں اور ساؤتھ کی فلموں نے ویسے ہی تفریح کے اس معیار کو خاصی بلندی پر پہنچا دیا ہے، اس لیے بہت سے انڈین فلم سازوں کو ایسی فلمیں بنانا پڑ گئی ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کرن جوہر کو فلم کی دیگ میں ہر مصالحہ اس کے ذائقے کے مطابق ڈالنا آتا ہے۔ جذبات، مزاح، موسیقی، خاندانی جھگڑے اور حسبِ ذائقہ ذُو معنی فقرے ان کی فلموں کو مکمل پیکیج بنا دیتے ہیں۔
یہاں بات ہو رہی ہے فلم ’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘ کی جس میں مرکزی کردار اداکار رنویر سنگھ اور عالیہ بھٹ نے ادا کیے ہیں جبکہ معاون کرداروں میں اداکارہ شبانہ اعظمی ، جیا بچن اور اداکار دھرمیندر شامل ہیں۔فلم بنیادی طور پر دو خاندانوں کی کہانی ہے جن میں سے ایک پنجابی ہے اور دوسرا بنگالی۔ دونوں کے رسم و رواج، ثقافت اور رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے، اور اسی فرق کو مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے اس فلم کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔
رندھاوا خاندان یعنی پنجابی فیملی ارب پتی لوگ ہیں اور مٹھائی بنانے کاروبار کرتے ہیں۔ راکی ان کا اکلوتا سپوت ہے۔ گھر پر دادی دھن لکشمی کا راج ہے اور ان کے حکم کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ دوسری طرف چیٹرجی جو کہ بنگالی خاندان ہے اور سُر سنگیت کا دلدادہ ہے، ایک متوسط گھرانہ ہے۔ رانی ان کی اکلوتی بیٹی ہے اور ایک نیوز چینل میں پیشہ ورانہ میزبان ہے۔
ایک دوسرے کو پسند کر لینے کے بعد راکی اور رانی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کیوں نہ شادی سے پہلے وہ دونوں کچھ عرصہ ایک دوسرے کے گھروں میں رہیں اور دونوں خاندانوں کو اس رشتے پر آمادہ کریں۔ چناںچہ پنجابی لڑکا بنگالیوں کے گھر آ جاتا ہے اور بنگالی لڑکی پنجابیوں کے گھر جا پہنچتی ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے اس کے لیے ذہن پر زیادہ زور مت دیں کہ ساری کہانی انتہائی جانی پہچانی اور قابلِ پیش گوئی ہے۔
فلم میں عالیہ بھٹ، رانی کے مضبوط کردار کے ذریعے پدرانہ معاشرتی نظام میں خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بعض مناظر سخت اور کچھ لطیف پیرائے میں یہ پیغام دیتے نظر آتے ہیں کہ عورت کے ذاتی تشخص کے بارے میں دقیانوسی تصوّرات کو اب بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔اس بات پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ عورت کے خوابوں کو سمجھوتوں کی گرہ میں باندھ کر کسی اور کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ خوابوں سے بہتر سمجھوتے ہوتے ہیں جو کم از کم ٹوٹتے تو کم ہیں۔ ایک ارب 60 کروڑ انڈین روپے کے بجٹ سے بننے والی یہ فلم پچھلے چار دنوں میں صرف 53 کروڑ کما سکی ہے جو کوئی کامیاب باکس آفس رپورٹ نہیں ہے، لیکن فلم میں 12 مصالحے پورے ہیں جو دیکھنے والے کو بور نہیں کرتے۔
